Jump to content
IslamicTeachings.org

Bint e Aisha

Moderators
  • Posts

    1721
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    98

Everything posted by Bint e Aisha

  1. 🌷 علم و معرفت کے سرسبز باغات میں جائیے🌷 *أیھا الشامت المعیِّر بالدھرِ۔۔۔ أأنت المبرَّأُ الموفورُ* شعر کا مفہوم ہے کہ "اے زمانہ کو گالی دینے والی! کیا تو اپنے لیے یہی چاہتی ہے کہ صرف تجھے ہی اچھی زندگی ملے۔" سعادت کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی ہے کہ آپ اپنا دین سیکھیں کیونکہ دین سیکھنے سے سینہ کھلتا ہے اور اللہ تعالی کی رضا مندی حاصل ہوتی ہے، جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی جس کے ساتھ خیرخواہی چاہتے ہیں اسے دین سکھاتے ہیں۔ تو آپ بھی نفع بخش کتابیں پڑھیں یا دینی رسالوں کا مطالعہ کریں جن سے آپ کے علم اور سمجھ میں اضافہ ہو۔ خوب جان لیجیے کہ سب سے افضل عمل وہ ہے جس سے اللہ اور رسول کی مرادوں کا علم حاصل ہو تو آپ اپنی بہنوں کے ساتھ قرآن مجید سیکھنے سکھانے کی فکر کریں اور اس سے جو باآسانی حفظ ہوسکے اسے یاد کیجیے اور اس پر عمل کیجیے، کیونکہ شریعت سے ناواقف رہنا دل کا اندھیرا اور سینے کی تنگی ہے۔ آپ کے پاس ایک لائبریری ہونی چاہیے خواہ وہ مختصر ہی کیوں نہ ہو جس میں قیمتی اور نفع مند کتابیں اور وعظ و نصیحت پر مشتمل دینی رسائل ہوں۔ خیال رکھیے گا کہ اپنے وقت کو گانے سننے، فلمیں دیکھنے یا میگزین پڑھنے میں ضائع نہ کریں کیونکہ آپ کی زندگی کا ہر سیکنڈ شمار کیا جا رہا ہے، لہٰذا وقت کو اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنے میں خرچ کیجیے۔ (ماخوذ از: دنیا کی سعادت مند عورت) (دین کا بنیادی علم سیکھنا کہ جس سے روزمرہ کا واسطہ ہو ہر مسلمان مرد و عورت کے لیے ضروری ہے، لہذا ہمیں چاہیے کہ ضروری دینی علم حاصل کرنے میں ہرگز کوتاہی نہ کریں، اللہ تعالیٰ کے احکامات کو اچھی طرح سمجھ کر پورا کرنے میں خوشی و سعادت سمجھیں اور اپنا یہ فریضہ انجام دینے میں ابھی سے کوشش شروع کر دیں۔) تحریر: ✍🏻راشد محمود عُفِیٙ عٙنْہ
  2. الرَءُوۡفُ Translation The Kind, the Tenderly Merciful and Consoling Definition Imam Zajaj RA says: ra'fah and rahmah is the same thing, but according to some there is some difference. Ra'fah is the next level of kindness. If someone is Raheem, it will be said that "he is Raheem" but if his rahmah increases beyond that then he will be referred to as "Rauf". In the Qur'an The name "Ar-Rauf" is mentioned ten times in the Qur'an. إِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ 1. "Indeed, your Lord is Kind and Merciful." إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ 2. "Allah is full of gentleness and mercy to mankind." وَ اِنَّ اللّٰہَ بِکُمۡ لَرَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ 3. "And indeed, Allah is to you Kind and Merciful." 4. It is from the gentleness amd mercy of Allah that he does not let any deed go to waste. In Surah Baqarah Allah says: "And Allah will never leave your faith to waste. Allah is full of gentleness and mercy to mankind." 5. "The Day is approaching when every soul shall find itself confronted with whatever good it has done and whatever evil it has wrought. It will then wish there is a wide space between it and the Day! Allah warns you to beware of Him; He is most tender towards His servants." [3:30] 6. "He it is Who sends down Clear Signs to His servant so as to bring you out from darkness into light. Surely Allah is Most Kind and Most Compassionate to you." [57:9] 7. "Allah relented towards them. Surely to them He is the Most Tender, the Most Merciful." [9:117] 8. "and they carry your loads to many a place which you would be unable to reach without much hardship. Surely your Lord is Intensely Loving, Most Merciful." [16:7] Counsel • One who wants to develop a relationship with this name should narrate the blessings and favours of Ar-Ra'uf and should also remember them in his heart and express his gratitude. • One should be gentle and kind with his subordinates and affiliates so that he gets a share from this name. He should also make du'a that: O Ra'uf and Raheem take away the hardness of my heart and soften it. • One should keep making this du'a: یا رَءُوْفُ اُرْؤُفْ بِي "O kind! Please deal with me kindly. " We should always make du'a to Allah ta’ala whenever we face a problem. If someone's parents or boss is kindhearted then his subordinates do not hesitate in asking for anything, similarly our lord Allah ta'ala's name is Ar-Ra'uf therefore all of His creation whether they are sinner or pious do not hesitate in asking anything from Him. *~~*~~*
  3. 🌷نعمت کو قبول کرکے اپنے کام میں لگائیں🌷 اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو شکر و اطاعت کے ساتھ اپنے کام میں خرچ کریں۔ پانی کی نعمت کا شکر ادا کرکے اسے پینے اور طہارت و پاکیزگی و صفائی کے حصول جیسے کاموں میں استعمال کریں۔ دھوپ کی حرارت سے خود کو گرم رکھیں اور سرسبز باغوں سے پھول چنیں۔ سمندروں کی طرف دیکھیے اور زمین کی سیر کیجیے۔ پھر اس مالک و قہار ذات کا شکر ادا کرتے جائیں۔ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مبارک نعمتوں نے آپ کے ساتھ احسان کا معاملہ کیا ہے آپ ان سے فائدہ اٹھاتے جائیں۔ ہاں! یہ خیال رکھیں کہ آپ ان نعمتوں کو جھٹلائیں نہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: *یَعۡرِفُوۡنَ نِعۡمَتَ اللّٰہِ ثُمَّ یُنۡکِرُوۡنَھَا وَ اَکۡثَرُھُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ.* ترجمہ: یہ لوگ اللہ کی نعمتوں کو پہچانتے ہیں پھر بھی ان کا انکار کرتے ہیں۔ (سورہ النحل:83) درخت کے کانٹوں کی طرف دیکھنے سے پہلے اس کے پھل کی طرف دیکھیے اور اس کی خوبصورتی پر نظر کیجیے۔ اس سے پہلے کہ آپ سورج کی تپش کی شکایت کریں آپ اس کی روشنی سے لطف اندوز ہوں۔ اس سے پہلے کہ آپ رات کے اندھیرے سے تنگی اور خوف محسوس کریں آپ اس کے سکون و آرام کو دیکھیں۔ آپ کیوں ہمیشہ ناامیدی، بدگمانی اور بری نظروں سے ہر چیز دیکھتی ہیں؟ آپ کیوں فطرت کے قوانین کو بدلنا چاہتی ہیں؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: *اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ بَدَّلُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ کُفۡرًا.* ترجمہ: کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل ڈالا۔ (سورہ ابراھیم: 28) اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ان نعمتوں کو اچھے طریقے سے قبول کریں اور شکر کی عادت اپنائیں۔ (ماخوذ از: دنیا کی سعادت مند عورت) (غلطی درست کرنے کا طریقہ طویل اور مشکل ہے، لیکن پسندیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی نعمتوں کی ناشکری سے بچا کر ان کی قدر کرنے والا بنائے اور ان نعمتوں کو درست استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!) تحریر: ✍🏻راشد محمود عُفِیٙ عٙنْہ
  4. 🌷 استغفار کے ساتھ فراخی رزق حاصل ہوتی ہے🌷 *أجارتنا ان الأمانی کواذب۔۔۔۔۔وأکثر أسباب النجاح مع الیأسِ* شعر کا مفہوم ہے کہ "اے میرے پڑوسی! ہرتمنا جھوٹی ہوتی ہے اور اکثر کامیابی مایوسی کی طرف سے آتی ہے۔" ایک عورت نے کہا کہ جب میری عمر تیس سال تھی۔ میرا خاوند فوت ہو گیا، میرے پانچ بچے بچیاں تھیں، میری دنیا اندھیری ہو گئی، میں اتنا روئی کہ مجھے بینائی جانے کا اندیشہ ہوا اور میں ناامید ہوگئی۔ ہر طرف سے غم نے مجھے گھیر لیا، کیونکہ بچے چھوٹے تھے اور کمائی کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔ جو مال وراثت میں ملا اس سے حسبِ ضرورت خرچ کرتی رہی۔ میں انہی پریشان کن حالات میں تھی کہ میں نے ایک شیخ صاحب کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس نے استغفار کی کثرت کی تو اللہ تعالیٰ اس کو ہر پریشانی اور ہر تنگی سے نجات دیں گے۔" یہ حدیث سن کر میں خود بھی اور بچے بھی کثرت سے استغفار کرتے رہے۔ اللہ کی قسم! چھ ماہ کا عرصہ بھی نہ گزرا تھا کہ حکومت نے میرے خاوند کی ایک پرانی جائیداد پر سڑک بنانے کے لیے قبضہ کیا تو اس کے معاوضہ میں کئی لاکھ روپے ہمارے پاس آگئے۔ میرا پہلا بیٹا علاقہ میں استاد مقرر ہو گیا۔ ہمارا گھر اچھائیوں سے بھر گیا۔ ہم پہلے کی طرح ہنسی خوشی زندگی گزارنے لگے۔ پریشانی ختم ہو گئی اور میں خوش نصیب عورت بن گئی۔ (ماخوذ از: دنیا کی سعادت مند عورت) (اللہ تعالیٰ ہم سب کو کثرت کے ساتھ استغفار کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور سب کی مصیبتوں و پریشانیوں کو بھی دور فرمائے۔ آمین) تحریر: ✍🏻راشد محمود عُفِیٙ عٙنْہ
  5. https://mixlr.com/shaykh-bilal/ (Urdu) Indeed there are some remnants of the scholars of past generations living today among the scholars of todays generation. They have been guided to praiseworthy efforts in multiple religious sciences, such as jurisprudence; they are on par with the previous generations in their knowledge, excellence, fear of Allah, and piety; they stir up memories of the blessed golden age of scholarship. Among these scholars is a unique figure envied for his excellence in knowledge and action, the one and only: Sheikh Ul Hadeeth Hadhrat Muhammad Bilal Saheb (D.B) Khalifah of Hadhrat Shaykh Zakariyya Khandalvi Muhajir e Madani (R.A). Also a senior Lecturer of Ahadeeth at Darul Uloom Bury~& Imam at Jamia Masjid Khizra In order for us to reap some benefit from this unique scholar, Imam Abu Yusuf Academy presents his thought provoking heart melting lectures everyday on Mixlr.
  6. https://www.mixlr.com/islahenafs-live (Urdu) Official Channel of : "Hazrat Shaykh Humayun Hanif Mujaddidi DB" Khalifa of : Hazrat Shaykh Maulana Shamsur Rehman Al Abbasi DB Hazrat Dr.Ismail Memon Madni DB Hazrat Maulana Ishaq Sajid DB Hazrat Sufi Ashfaqullah Wajid Mujaddidi DB Official Website : www.islahenafs.org
  7. Talk by : Mufti Faisal al-Mahmudi Topic : Khushu' in Salah and Social Media 2020_10_02_13_47_12
  8. ﷽ Ehsan An individual enthusiastically informed Arif-billah Hadhrat Dr. Abdul Hayy Arifi (RH) that by Allah’s grace he had attained the station of Ihsan. That is, worshipping Allah as though you see Him and if that is not possible then as though He sees you. Shaykh Dr. Arifi (qaddas sirrahu) congratulated and encouraged him. And then inquired that if this ihsan was attained only in prayers (salah) or it was also present at other times, like dealing with house hold members, especially wife. The individual looked in bewilderment at Shaykh and informed that he thought this ihsan was only meant to be limited to prayers and ritual worship. Shaykh Arifi explained to the audience in detail that this is a common mistake. We tend to limit deen to formal acts of worship (Ibadaat). Our all other activities seem to be independent of the fact that each and every moment of our life we are as much a slave of Allah as in prayers and other worship. The genuine ihsan is perpetual. The slave is aware that he is being watched and he will be accountable for whatever he does. Hence, he has utmost respect and does not do any thing inappropriate. Remember this is an intentional and a voluntary act of thinking. As per instruction of Sayyidi wa sanadi Shaykh Mawlana Muhammad Taqi Usmani sahib (Allah SWT preserve him & allow us to benefit from him abundantly. Ameen) setting aside an allocated time every day to think repeatedly that: ‘I am in front Allah SWT & He is watching me’, is essential for achieving it. It becomes a habit in second nature only by doing it repeatedly. Practice makes perfect. Gradually it becomes almost like an instinctive performance, like breathing or drinking. Wa ma taufiqi ilabillah!
  9. It is narrated on the authority of Abu Hurairah رضي الله عنه that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Islam began as something strange and will revert to being strange as it began, so give glad tidings to the strangers." [Sahīh Muslim 145] Imam Aḥmad رحمه الله said that ibn Mas'ood رضي الله عنه said, "There will be a time when the believer will be more humiliated than a slave. And that is because of his ghuraba (strangeness) towards the end of time in the midst of the people of corruption... Everyone will hate him and hurt him, because his methodology will contradict theirs and his objectives will be different from theirs, because he is different from them" [MAJMŪ' AL-RASA’IL, (VOL. 2, P. 329)]
  10. تصوف کے بارے میں پائے جانے والے سوالات اور اُن کے جوابات ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ تیسری قسط ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ قرآن پاک اوراحادیثِ مبارکہ میں مقاصد ِتصوف کاذکر؟؟ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ تصوف کی راہ پر چلنے والے مسلمان کی ظاہری اور باطنی صفائی ہوتی ہے۔ قرآن پاک میں نبی کریمﷺ کی جن چار بنیادی ذمہ داریوں کا ذکر ہے اُن میں سے ایک ذمہ داری، مسلمانوں کے عقائد اور اعمال کا تزکیہ (پاک کرنا) بھی ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: لَقَد مَنَّ اللّٰہُ عَلَی المُؤمِنِینَ اِذ بَعَثَ فِیھِم رَسُولاً مِّن اَ نفُسِھِم یَتلُو عَلَیہِم اٰیَا تِہٖ وَ یُزَکِّیہِم وَ یُعَلِّمُہُمُ الکِتٰبَ والحِکمَۃَ ج وَ اِن کَانُو مِن قَبلُ لَفیِ ضَلٰلٍ مُّبِینٍ۝ ترجمہ:حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں پر بڑا احسان کیا کہ اُن کے درمیان اُنہی میں سے ایک رسول بھیجا جو اُن کے سامنے اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرے ، اُنہیں پاک صاف بنائے اور اُنہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے،جب کہ یہ لوگ اِس سے پہلے یقیناً کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔)آل عمران،آیت ۱۶۴) ایک دوسری جگہ ارشاد پاک ہے : قَداَفلَحَ مَن تَزَکّٰی ۝ ترجمہ: جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کر لیا وہ(شخص) یقیناًفلاح پا گیا۔(سورہ الاعلیٰ، آیت ۱۴) گویا تصوف (جس میں انسان کے نَفس اور قلب کی اصلاح ہوتی ہے )کو قرآن ِ پاک نے ’’تزکیہ‘‘ کا نام دیا ہےاور دُنیا اور آخرت میں کامیابی کے لئے نَفس کے ”تزکیہ“ کو ہی بنیادی شرط قرار دیا ہے۔ اِسی طرح قَلب (دِل) کی صفائی کے بارے میں نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: ” سُن لو کہ بے شک آدمی کے بدن میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے جب وہ درست ہوتا ہے تو تمام بدن درست ہو جاتاہے اور جب وہ بگڑجاتا ہے تو تمام بدن فاسد ہو جاتاہے۔سُن لو ! وہ ٹکڑا ”قَلب(دِل)“ ہے۔ (كتاب الإيمان، بخاری) اِس حدیث سے قَلب کی صفائی کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ قَلب کی صفائی سے مُراد”تمام غلط عقائدسے نجات حاصل کرنا اوردِل میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور صِفات کی مُحبت،عظمت،خوف اور کامل یقین پیدا کرنا ہے۔“ اسی طرح بخاری شریف کی ایک مشہور حدیث (جس کو حدیثِ جبرائیل بھی کہتے ہیں)کے آخر میں نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: ’’احسان یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو گویا تُم اُس کو دیکھ رہے ہو ، اوراگر تم اُس کو نہیں دیکھ رہے تو بلاشبہ وہ تم کو دیکھ رہا ہے ۔“ حدیث شریف میں ذکرکردہ اس کیفیت کو ”کیفیتِ احسان“ کہتے ہیں۔اور اس کامطلب یہ ہے کہ زندگی کے ہر معاملہ میں یہ یقین اور دھیان نصیب ہو جائے کہ میں اپنے اللہ تعالیٰ کے سامنے ہوں اوروہ ہمارے ہر ارادے ،عمل اورحرکت کو دیکھ رہےہیں ۔یہ کیفیت تمام صحابہ کرام کو حاصل تھی اور ہر مسلمان کی یہ کوشش ہونی چاہیئے کہ وہ اس کیفیت کو حاصل کرے ۔اسی کیفیت کا یہ اثر ہوتا ہے کہ ہر عمل کرتے وقت نیت صرف اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہو تی ہے۔ اسی کیفیتِ احسان کا حصول تصوف کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد ہے۔اس کے علاوہ قرآن و حدیث میں محبت الٰہی،خوف الٰہی،توبہ،اخلاص،توکل، زہد،صبر، شکر، رجاء،خوف وغیرہ جیسی اعلیٰ دینی صفات کے حصول کی تلقین کی گئی ہے جب کہ حسد،بغض،کینہ،ریا،حُبّ دنیا جیسی صفات کی اصلاح کا حکم دیا گیا ہے اور انہی مقاصد کے حصول کے لئے شعبہ تصوف میں مشائخ کی نگرانی میں مختلف اذکار ومراقبات اورمجاہدات کرائے جاتے ہیں۔ (اقتباس از ”تصوف کی حقیقت“) #تصوف_سیریز
  11. 🌷ایمان کے ساتھ جھونپڑی اس محل سے بہتر ہے جو تکبر کے ساتھ ہو🌷 اگر عورت کسی جھونپڑی میں رہتی ہو، اپنے رب کی عبادت کرتی ہو، پانچ وقت کی نمازیں ادا کرتی ہو اور رمضان المبارک کے روزے رکھتی ہو تو ایسی خاتون اس عورت سے زیادہ سعادت مند ہے جو خوبصورت اور اونچے محل میں نوکروں کے درمیان فخر اور غرور سے رہتی ہو۔ جو مومن عورت جھونپڑی میں رہتی ہے، سادہ پانی پی کر گزارہ کرتی ہے لیکن اس کے ہاتھ میں قرآن و تسبیح ہے تو ایسی عورت محل میں رہنے والی عورت سے کہیں زیادہ خوش بخت اور لاکھ درجہ بہتر ہے جو ریشمی بستر پر سوتی ہے لیکن اپنے رب سے غافل رہتی ہے اور اتباع سنت سے محروم ہے۔ لہٰذا آپ سعادت کا مفہوم سمجھ لیجیے کہ سعادت کے معنی وہ نہیں جو تنگ دل لوگ اپنے ذہن میں بنا لیتے ہیں کہ مال و دولت، جاہ و حشمت، اچھی رہائش اور اچھے کھانے پینے میں سعادت سمجھتے ہیں، ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ سعادت کا معنی دل کی رضامندی، ضمیر کا سکون، روح کی راحت، عقل کی درستگی اور تہذیب و قناعت ہے۔ (ماخوذ از: دنیا کی سعادت مند عورت) (اللہ تعالیٰ ہم سب کو قناعت و صبر و شکر اور اپنی یاد سے بھرپور زندگی عطا فرمائے۔ آمین) تحریر: ✍🏻راشد محمود عُفِیٙ عٙنْہ
  12. Surah Al Hijr Hazza Al Balushi: سورة الحجر هزاع البلوشي
  13. Taking advantage of your youth: Shaykh Abdullah Azzam said: "As your age progresses, it will become more difficult for you to learn Islām, and it will become more difficult for you to implement the religion of Islām. Because of this, Umar would say: “Learn, before you are given positions in life". 📙To every youth - p.17
  14. So if the scalp is wet but some of the hairs remain dry, ghusl will still be valid?
  15. How would we know whether water has reached the roots or not?
  16. 🌷کاہلی اور سُستی ناکامی کے دوست ہیں 🌷 میں آپ کو وصیت کرتا ہوں کہ آپ خود کو ہمیشہ کام میں مصروف رکھیں اور سستی و کاہلی سے دور رہیں بلکہ ابھی اٹھیے، اپنے گھر کو درست کیجیے اور اپنے کاموں کو صحیح انداز میں سرانجام دیجیے۔ نماز پڑھیں، تلاوت کریں، کسی اچھی دینی کتاب کا مطالعہ کریں یا اپنی پڑوسن یا سہیلی کے ساتھ بیٹھ کر وہ باتیں کریں جن سے اللہ تعالیٰ کا قرب نصیب ہو۔ ان شاءاللہ اس سے آپ خود کو سعادت مند اور خوش و خرم پائیں گی۔ خیال کیجیے! میں پھر آپ سے کہتا ہوں کہ خود کو فراغت کے حوالے نہ کیجیے، کیونکہ اس سے پریشانی، غم، وساوس اور شکوک وشبہات پیدا ہوتے ہیں۔ اپنی شکل و صورت کا خیال رکھیے، خود کو صاف ستھرا رکھیے، گھر میں ہلکی خوشبو کا استعمال کیجیے، گھریلو اشیاء کو ترتیب اور قرینے سے رکھیں۔ خاوند، بچوں اور تمام رشتہ داروں سے اچھے اخلاق سے پیش آئیں۔ میں آپ کو گناہوں سے بچنے کی وصیت کرتا ہوں، کیونکہ یہی چیز پریشانیوں کی جڑ ہے۔ خاص طور پر وہ گناہ جن میں عام عورتیں کثرت سے مبتلا رہتی ہیں۔ مثلاً کسی کو غلط نگاہ سے دیکھنا، گھر سے باہر نکلنے پر زینت کا اظہار کرنا، غیرمحرم کے ساتھ خلوت میں ملنا، آپس میں لعن و طعن یا گالی گلوچ کرنا، غیبت کرنا، خاوند کی نافرمانی کرنا، اس کے احسان کو جھٹلانا۔ اس جیسے گناہ عورتوں سے ہو جاتے ہیں، لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے غضب سے ڈریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا خوف ان شاءاللہ آپ کی سعادت اور اللہ کی رضا کا سبب ثابت ہوگا۔ (ماخوذ از: دنیا کی سعادت مند عورت) (ہمیں اپنے آپ سے اس سستی و کاہلی کو دور بھگانے کی مسلسل کوشش کرنی چاہیے اور اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ سے مدد بھی مانگتے رہنا چاہیے۔ اللہ تعالٰی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین) تحریر: ✍🏻راشد محمود عُفِیٙ عٙنْہ
  17. 🌷 مسلمان اور کافر عورت کبھی برابر نہیں ہو سکتی🌷 فما یدوم سرورٌ ما سررت بہ۔۔۔۔ولایردُّ علیک الغائب الحزنُ شعر کا مفہوم ہے۔۔۔۔۔ کہ کبھی خوشی ہمیشہ نہیں رہتی جس میں تم خوش ہوتی ہوں اور پریشانی کسی گم شدہ چیز کو واپس نہیں لا سکتی۔ آپ سعادت مند زندگی گزار سکتی ہیں۔ اگر آپ اس بات پر غور کریں کہ مسلمان عورت کا اسلامی ممالک میں کیا مقام ہے اور کافر عورت کی غیر اسلامی ممالک میں کیا حالت ہے۔ مسلمان عورت اسلامی ممالک میں صاحبِ ایمان ہے، روزہ دار ہے، تہجد گزار اور صدقہ و خیرات کرنے والی ہے۔ گھر میں اپنے خاوند کی فرمانبرداری کرنے والی ہے، اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والی ہے، اپنے پڑوسیوں پر احسان کرنے والی اور اپنے بچوں پر شفقت کرنے والی ہے۔ تو دیکھیے ایسی مسلمان عورت کس قدر خوش نصیب ہے کہ اسے قدم قدم پر اجر وثواب میں مل رہا ھے، رضائے خداوندی اور سکون کی دولت حاصل ہو رہی ہے۔ اس کے برعکس غیر مسلم ممالک کی عورت حقیقت سے نا آشنا ہے جو حقیر چیز کے لیے اپنی خوبصورتی کا اظہار کرنے والی اور اشتہار بازی کے لیے کام کرنے والی ایک حقیر چیز بن کر رہ گئی ہے، جو ہر جگہ اپنی نمائش کراتی ہے تو ایسی عورت کی کوئی قیمت نہیں، نہ اس کے پاس عزت ہے اور نہ شرافت۔ آپ ان دونوں عورتوں کے بارے میں غور و فکر کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ ہی سعادت اور اونچا مقام رکھنے والی ہیں۔ (ماخوذ از: دنیا کی سعادت مند عورت) (ہر انسان اپنی زندگی گزار رہا ہے چاہے وہ خوب صورت محل میں ہو یا معمولی جھونپڑی کا رہائشی ہو لیکن ان میں سے سعادت مند وہ ہے جو اپنے رب تعالیٰ کا فرمانبردار ہے۔ لہٰذا ہمیں اللہ تعالیٰ کا حکم مان کر سعادت والی زندگی بسر کرنی چاہیے۔) تحریر: ✍🏻راشد محمود عُفِیٙ عٙنْہ
  18. 🌷اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو سوچیں اور اللہ پر اچھا گمان رکھیں🌷 اتیاس ان تری فرجاً۔۔۔۔فاین اللہ و القدر؟ شعر کا مفہوم ہے۔۔۔۔۔ کیا آپ ناامید اور مایوس ہیں کہ آپ کو نصرت کا کوئی پہلو نظر آئے تو اللہ اور اس کی قدرت کہاں گئی؟ اگر آپ کو اللہ تعالیٰ کے رستہ میں جد و جہد کرتے ہوئے کوئی تکلیف پہنچے تو ان شاءاللہ وہ آپ کے گناہوں کا کفارہ ہوگا۔ میں آپ کو حدیث سے بشارت سناتا ہوں کہ "جب عورت اپنی پانچ نمازوں کی ادائيگي کرے اور اپنے (رمضان کے) مہینہ کے روزے رکھے اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے ، اور اپنے خاوند کی اطاعت کرے تو اسے کہا جائے گا تم جنت میں جس دروازہ سے بھی چاہو جنت میں داخل ہو جاؤ۔" (صحیح ابن حبان) یہ باتیں اس عورت کے لیے آسان ہوتی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ توفیق دیتے ہیں۔ آپ بھی ان جلیل القدر کاموں کو اپنائیں تاکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت برسے اور دنیا و آخرت کی سعادت حاصل ہو۔ جہاں دین کی بات آپ کو کسی چیز سے منع کرتی ہے تو وہاں رک جائیں۔ قرآن مجید اور سنت رسول کے احکام کی تعمیل کریں، کیونکہ آپ ایک مسلمان عورت ہیں اور یہ آپ کے لیے شرف و فخر کی بات ہے۔ آپ کے علاوہ کتنی وہ عورتیں ہیں جو کفر کے علاقے میں پیدا ہوئیں۔ وہ عیسائی یا یہودی ہوئیں یا خوارج یا اہل تشیع میں سے ہوئیں۔ ان کے علاوہ وہ قومیں جو دین کی مخالفت پر آمادہ کرتی ہیں مگر آپ کو اللہ تعالیٰ نے مسلمان عورت بنایا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے نوازا۔ ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن کے نقش قدم پر چلنے کا راستہ دکھایا۔ آپ خوش نصیب ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو پانچ وقت کی نماز پڑھنے کی توفیق سے نوازا۔ آپ رمضان المبارک کے روزے رکھتی ہیں، بیت اللہ کا حج کرتی ہیں اور پردہ بھی کرتی ہیں۔ آپ اس لحاظ سے بھی خوش نصیب ہیں کہ آپ نے اللہ کے رب ہونے کا اقرار کیا، اسلام کو دین حق اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین مانا۔ (ماخوذ از: دنیا کی سعادت مند عورت) (اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان نعمتوں کا شکر ادا کرنے اور اپنے احکامات پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین) تحریر: ✍🏻راشد محمود عُفِیٙ عٙنْہ
  19. Àllamah Anwar Shah Kashmiri (Rahimahullah) relates from Al-Jami’ As-Saghir of Àllamah Suyuti (Rahimahullah) that besides the sound of the Azaan & the Qur’an, the sound of the people on earth does not reach the heavens. Only these two sounds reach the heavens directly.
  20. Be Keen In Fulfilling Needs Of Others Ibn Al Qayyīm رحمه الله narrates that Ibn Taymīyyāḥ (رحمه الله) used to race towards the fulfilling of people's needs very earnestly, because he knew that everytime he helped someone, Allāh would help him. [Rawdat-al Muhibbin 1/168]
  21. الْعَفُوُّ Translation الْعَفُوُّ is translated as The Forgiving and The Effacing. It comes from the word عفو meaning forgiveness. Definition Linguistically it means to let go / to leave something, so it means to overlook acts of disobedience or to erase them. It is similar to الْغَفُورُ and التَّوَّابُ but الْعَفُوّ is more expressive. الْغَفُورُ is that Being Who conceals sins on the Day of Judgment and though they will be in the book of deeds, others will not be able to see them whereas الْعَفُوّ means to totally erase the sins from the book of deeds. Therefore there are different levels of forgiveness and الْعَفُوّ is considered higher than الْغَفُورُ or التَّوَّابُ. Another way to understand is it is The One Who removes the consequences of sin meaning punishment is not given. There is considerable amount of overlooking of sins and Allah ta’ala’s general Sifat is to forgive and this Sifat is more expressive of that. Different ways Sins are Forgiven Allah ta’ala forgives sins with Tawbah or Istighfaar or through the intercession of the Prophet sallallaahu ‘alayhi wasallam on the Day of Judgment. Sins are also forgiven due to good deeds. وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَىٰ but the one who repents, becomes a believer, does good deeds and follows the Right Way shall be forgiven [ Surah Taha:82] So Hidaayah comes through the combination of doing Tawbah, working on one’s Imaan and doing good deeds. In the Qur’an It is mentioned 5 times in the Qur’an of which four times it is paired with الْغَفُورُ and it is like intensifying or emphasizing the forgiveness. وَكَانَ اللَّهُ عَفُوًّا غَفُورًا - for Allah is indeed an absolver of sins, much-forgiving. [Surah Nisa’: 99] It comes with Qadeer in the following verse. Allah forgives even though He is powerful. إِنْ تُبْدُوا خَيْرًا أَوْ تُخْفُوهُ أَوْ تَعْفُوا عَنْ سُوءٍ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِيرًا If you do good deeds openly or in private or forgive an evil, then surely Allah is Pardoning, Powerful. [Surah Nisa’:149] Forgiving despite being able to take Revenge A truly forgiving person is one who has the power to take revenge but still forgives. A person who is in a weak position, not able to take revenge and forgives someone is not the same as one who forgives despite having the power to take revenge. Through the verses regarding forgiveness, Allah ta’ala is inviting us to be forgiving to people because Allah ta’ala Himself is forgiving. Another word used in the Qur’an for forgiveness is صفح which most Scholars say is a higher level of forgiveness than عفو. In Surah Baqarah (Verse 109) Allah ta’ala says, فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا - Forgive them and bear with them. Therefore there are different levels of forgiveness where you forgive but remind the person and you forgive and do not remind or malign the person who wronged you. It is difficult to forgive and be patient however the reward will be greater. Story – Forgiveness despite having power to punish Zaynul ‘Aabideen, the grandson of ‘Ali RA has a female servant who broke something and injured his face. She looked at him and said, وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ - who control their anger. So he controlled his anger. She then said, وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ - and forgive other people. So he forgave her. Thereafter she said, وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ - for Allah loves such charitable people, [Aali ‘Imraan: 134] So he freed her. He forgave her even though he had the power to punish her. (This shows how much knowledge of the Qur’an even a slave woman had in those days.) There are many such episodes in the Seerah where the Prophet sallallaahu ‘alayhi wasallam forgave those who hurt him and fought against him i.e. Abu Sufyaan RA and Wahshi RA. Story – Abu Bakr’s RA Forgiveness During the episode of the slander of Aishah RA, one among those who spread the rumours was the cousin of Abu Bakr RA, Mistah bin Uthatha RA who was poor and Abu Bakr regularly gave him money. After the verse was revealed regarding Aishah’s RA innocence, hurt and angered by Mistah’s previous allegations, Abu Bakr RA took an oath that he will never spend on Mistah again. Then Allah Ta’ala revealed: وَلَا يَأْتَلِ أُوْلُوا الْفَضْلِ مِنكُمْ وَالسَّعَةِ أَن يُؤْتُوا أُوْلِي الْقُرْبَى وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ And let not those among you who are blessed with graces and wealth swear not to give to their kinsmen, al-Masaakeen [the poor], and those who left their homes for Allah’s Cause. Let them pardon and forgive. Do you not love that Allah should forgive you? And Allah is Al-Ghafuwr (the Most-Forgiving), Ar-Raheem (the Most Merciful). [Surah Noor, verse 22] Abu Bakr RA despite his anguish and hurt feelings immediately responded by exclaiming, “By Allah, I would love it that Allah forgives me!” He resumed his spending on Mistah. This was the mercy and forgiveness the Qur’an teaches, the mercy and ties of kinship that Allah is pleased to see in His servants. Being Forgiving Our Deen has a very balanced concept of social and human interactions. We live with families and extended families and everyone at some stage is hurt or wronged. Our Deen teaches us to be forgiving. خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ Keep to forgiveness (O Muhammad), and enjoin kindness, and turn away from the ignorant. [Surah A’araaf:199] To be forgiving one has to be a person of Sabr and Tahammul. Du’a for Forgiveness اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي O Allah, you are the Forgiver, You love to forgive, so forgive me. *~~*~~*
  22. الْمُنْتَقِمُ Translation الْمُنْتَقِمُ is translated as The Avenger and The Inflictor of Retribution. It comes from the root word “Intiqaam” meaning to take revenge. It is an Ism Faa’il so it means The One Who takes Revenge. This is one of the Jalaali Sifaat which shows the might and power of Allah ta’ala for those who are disobedient. It is a Fe’li Sifat i.e. the Sifaat that are enacted (Shown through His action). Definition It is The One Who punishes His disobedient slaves for their disliked deeds. The One Who, when He wants, He can grasp and take intense revenge i.e. there are no conditions or limitations after giving warnings, chances and opportunities to change. Allah ta’ala’s being الْمُنْتَقِمُ Allah ta’ala does not take revenge immediately. Intense retribution comes only after being given many opportunities to change. There have been many examples throughout history of people who Allah ta’ala took revenge from in this world. Fir’awn was one of them. Musa AS was put in water and he was saved and Fir’awn drowned in the water and Allah ta’ala preserved his body as a sign for people. Qaaroon was arrogant and proud of his wealth and he, along with all his wealth was swallowed by the earth. Namrood was an oppressive king who had Ibraheem AS thrown in a huge fire however Ibraheem AS was saved and this made Namrood angry and he disputed with Ibraheem AS. Namrood claimed divinity and along with his army was killed by mosquitoes. Abraha came to destroy the Ka’bah and he along with his army was destroyed by birds (Mentioned in Surah Feel). The people of ‘Aad and Thamood who claimed to be mighty and powerful were also destroyed. These episodes are showing Allah ta’ala's power of being الْمُنْتَقِمُ. وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِآيَاتِ رَبِّهِ ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْهَا ۚ إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ مُنْتَقِمُونَ Who could be more unjust than the one who is reminded of the revelations of his Rabb and he turns away from them? Surely We shall take vengeance on such criminals. [Surah Sajdah: 22] Allah ta’ala is revengeful on those who commit injustice and sin. In a Hadith three sins are mentioned for which Allah ta’ala punishes in this world; • Openly and knowingly fighting against the truth • Disobeying parents • Helping an oppressor How much Revenge is allowed in the Shari’ah? Taking the same revenge as the wrong done to a person is allowed in the Shari’ah however it often becomes excessive and it is better to forgive. Rather take revenge on the Nafs which makes a person distant from Allah ta’ala by not giving it what it wants or by punishing it. Counsel To prevent one’s self from all injustice and refrain from anything which brings the punishment of Allah ta’ala. *~~*~~*
×
×
  • Create New...