Jump to content

Bint e Aisha

Moderators
  • Posts

    1,761
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    106

Everything posted by Bint e Aisha

  1. تیزی سے گزرتے ماہ و سال اور کم ہوتی زندگی پر شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ کے بیان سے اقتباس. ? "کسی نے خوب کہا کہ: ہورہی ہے عمر مثل برف کم چپکے چپکے رفتہ رفتہ دم بدم جس طرح برف ہر لمحے پگھلتی رہتی ہے، اسی طرح انسان کی عمر ہرلمحے پگھل رہی ہے اور جا رہی ہے، جب عمر کا ایک سال گزر جاتا ہے تو لوگ سالگرہ مناتے ہیں، اور اس میں اس بات کی بڑی خوشی مناتے ہیں کہ ہماری عمر کا ایک سال پورا ہوگیا، اوراس میں موم بتیاں جلاتے ہیں، اور کیک کاٹتے ہیں اور خدا جانے کیا کیا خرافات کرتے ہیں، اس پر اکبرالہ آبادی مرحوم نے بڑا حکیمانہ شعر کہا ہے، وہ یہ کہ: " عقدہ" بھی عربی میں " گرہ" کو کہتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے گرہ میں زندگی کے جو برس دیے تھے، اس میں ایک اور کم ہو گیا، ارے! یہ رونے کی بات ہے یا خوشی کی بات ہے! یہ تو افسوس کرنے کا موقع ہے کہ تیری زندگی کا ایک سال اور کم ہو گیا۔ میرے والد ماجد قدس اللہ سرہ نے اپنی عمر کے تیس سال گزرنے کے بعد ساری عمر اس پر عمل فرمایا کہ جب عمر کے کچھ سال گزر جاتے تو ایک مرثیہ کہا کرتے تھے، عام طور پر لوگوں کے مرنے کے بعد ان کا مرثیہ کہا جاتا ہے لیکن میرے والد صاحب اپنا مرثیہ خود کہا کرتے تھے اور اس کا نام رکھتے "مرثیہ عمر رفتہ " یعنی گزری ہوئی عمر کا مرثیہ، اگر اللہ تعالیٰ ہمیں فہم عطا فرمائیں تب یہ بات سمجھ میں آئے کہ واقعہ یہی ہے کہ جو وقت گزر گیا، وہ اب واپس آنے والا نہیں، اس لیے اس پر خوشی منانے کا موقع نہیں ہے، بلکہ آئندہ کی فکر کرنے کا موقع ہے کہ بقیہ زندگی کا وقت کس طریقے سے کام میں لگ جائے، خلاصہ یہ نکلا کہ اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کو غنیمت سمجھو، اور اس کو اللہ کے ذکر اور اس کی اطاعت میں صرف کرنے کی کوشش کرو، غفلت، بے پروائی اور وقت کی فضول خرچی سے بچو، کسی نے خوب کہا ہے کہ: یہ کہاں کا فسانہ سود وزیاں جو گیا سو گیا، جو ملا سو ملا کہو دل سے کہ فرصت عمر ہے کم جو دلا تو خدا ہی کی یاد دلا اصلاحی خطبات، جلد ۴،ص۲١۵،۲۲۹
  2. نئے سال کی آمد پر جشن یا اپنامحاسبہ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔ نئے سال کی آمد پر جشن یا اپنامحاسبہ یہ دنیا کس طرح دوڑ رہی ہے کہ مہینے دنوں کی طرح اور دن گھنٹوں کی طرح گزر رہے ہیں۔ ہمیں احساس بھی نہیں ہورہا اور ہماری زندگی کے ایام کم ہوتے جارہے ہیں اور ہم برابر اپنی موت کے قریب ہوتے جارہے ہیں۔ ہم اپنی دنیاوی زندگی میں ایسے مصروف اور منہمک ہیں کہ لگتا ہے کہ ہم اسی دنیا میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔ حالانکہ عقلمند اور نیک بخت وہ ہے جو دنوں کی تیزی سے جانے اور سال وموسم کے بدلنے کو اپنے لئے عبرت بنائے، وقت کی قدر وقیمت سمجھے کہ وقت صرف اس کی وہ عمر ہے جو اس کے ہر سانس پر کم ہورہی ہے اور اچھے اعمال کی طرف راغب ہوکر اپنے مولا کو راضی کرنے کی کوشش کرے۔ وقت کا تیزی کے ساتھ گزرنا قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے جیساکہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت اُس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک زمانہ آپس میں بہت قریب نہ ہوجائے(یعنی شب وروز کی گردش بہت تیز نہ ہوجائے) چنانچہ سال مہینے کے برابر، مہینہ ہفتہ کے برابر، ہفتہ دنوں کے برابر اور دن گھنٹے کے برابر ہوجائے گا۔ اور گھنٹے کا دورانیہ بس اتنا رہ جائے گا جتنی دیر میں آگ کا شعلہ یکدم بھڑک کر بجھ جاتا ہے۔ مسند احمد، ترمذی اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کے لئے موت کا وقت اور جگہ متعین کردی ہے اور موت ایسی شی ہے کہ دنیا کا کوئی بھی شخص خواہ وہ کافر یا فاجر حتی کہ دہریہ ہی کیوں نہ ہو، موت کو یقینی مانتا ہے۔ اور اگر کوئی موت پر شک وشبہ بھی کرے تو اسے بے وقوفوں کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ بڑی بڑی مادی طاقتیں اور مشرق سے مغرب تک قائم ساری حکومتیں موت کے سامنے عاجز وبے بس ہوجاتی ہیں۔ ہر شخص کا مرنا یقینی ہے لیکن موت کا وقت اور جگہ سوائے اللہ کی ذات کے کسی بشر کو معلوم نہیں۔ چنانچہ بعض بچپن میں، بعض عنفوان شباب میں اور بعض ادھیڑ عمر میں، جبکہ باقی بڑھاپے میں داعی اجل کو لبیک کہہ جاتے ہیں۔ بعض صحت مند تندرست نوجوان سواری پر سوار ہوتے ہیں لیکن انہیں نہیں معلوم کہ وہ موت کی سواری پر سوار ہوچکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس حقیقت کو بار بار ذکرفرمایا ہے: تم جہاں بھی ہوگے(ایک نہ ایک دن) موت تمہیں جا پکڑے گی، چاہے تم مضبوط قلعوں میں ہی کیوں نہ رہ رہے ہو۔ (سورۃ النساء ۷۸) (اے نبی!) آپ کہہ دیجئے کہ جس موت سے تم بھاگتے ہو، وہ تم سے آملنے والی ہے۔ یعنی وقت آنے پر موت تمہیں ضرور اچک لے گی۔ (سورۃ الجمعہ ۸) جب اُن کی مقررہ میعاد آجاتی ہے تو وہ گھڑی بھر بھی اُس سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتے۔ (سورۃ الاعراف ۳۴) اور نہ کسی متنفس کو یہ پتہ ہے کہ زمین کے کس حصہ میں اُسے موت آئے گی۔ سورۃ لقمان ۳۴ مختلف مواقع پر علماء کرام وداعیان اسلام وعظ ونصیحت کرتے ہیں تاکہ ہم دنیاوی زندگی کی حقیقت کو سمجھ کر وقتاً فوقتاً اپنی زندگی کا محاسبہ کرتے رہیں اور زندگی کے گزرے ہوئے ایام میں اعمال کی تلافی زندگی کے باقی ماندہ ایام میں کرسکیں۔ لہٰذا ہم نئے سال کی آمد پر عزم مصمم کریں کہ زندگی کے جتنے ایام باقی بچے ہیں ان شاء اللہ اپنے مولا کو راضی رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ابھی ہم بقید حیات ہیں اور موت کا فرشتہ ہماری جان نکالنے کے لئے کب آجائے، معلوم نہیں۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: پانچ امور سے قبل پانچ امور سے فائدہ اٹھایا جائے۔ بڑھاپہ آنے سے قبل جوانی سے ۔ مرنے سے قبل زندگی سے۔ کام آنے سے قبل خالی وقت سے۔ غربت آنے سے قبل مال سے۔ بیماری سے قبل صحت سے۔ (مستدرک الحاکم ومصنف بن ابی شیبہ) اسی طرح حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن کسی انسان کا قدم اللہ تعالیٰ کے سامنے سے ہٹ نہیں سکتا یہاں تک کہ وہ مذکورہ سوالات کا جواب دیدے: زندگی کہاں گزاری؟ جوانی کہاں لگائی؟ مال کہاں سے کمایا؟ یعنی حصولِ مال کے اسباب حلال تھے یا حرام۔ مال کہاں خرچ کیا؟ یعنی مال سے متعلق اللہ اور بندوں کے حقوق ادا کئے یا نہیں۔ علم پر کتنا عمل کیا؟ میرے عزیز بھائیو! ہمیں اپنی زندگی کا حساب اپنے خالق ومالک ورازق کو دینا ہے جو ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے، جو پوری کائنات کا پیدا کرنے والا اور پوری دنیا کے نظام کو تن تنہا چلا رہا ہے۔ ہمیں گزشتہ ۳۶۵ دن کے چند اچھے دن اور کچھ تکلیف دہ لمحات یاد رہ گئے ہیں باقی ہم نے ۳۶۵ دن اس طرح بھلادئے کہ کچھ ہوا ہی نہیں۔ غرضیکہ ہماری قیمتی زندگی کے ۳۶۵دن ایسے ہوگئے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ حالانکہ ہمیں سال کے اختتام پر یہ محاسبہ کرنا چاہئے کہ ہمارے نامۂ اعمال میں کتنی نیکیاں اور کتنی برائیاں لکھی گئیں ۔ کیا ہم نے امسال اپنے نامۂ اعمال میں ایسے نیک اعمال درج کرائے کہ کل قیامت کے دن ان کو دیکھ کر ہم خوش ہوں اور جو ہمارے لئے دنیا وآخرت میں نفع بخش بنیں؟ یا ہماری غفلتوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے ایسے اعمال ہمارے نامہ اعمال میں درج ہوگئے جو ہماری دنیا وآخرت کی ناکامی کا ذریعہ بنیں گے؟ ہمیں اپنا محاسبہ کرنا ہوگا کہ امسال اللہ کی اطاعت میں بڑھوتری ہوئی یا کمی آئی؟ ہماری نمازیں، روزے اور صدقات وغیرہ صحیح طریقہ سے ادا ہوئے یا نہیں؟ ہماری نمازیں خشوع وخضوع کے ساتھ ادا ہوئیں یا پھر وہی طریقہ باقی رہا جوبچپن سے جاری ہے؟ روزوں کی وجہ سے ہمارے اندر اللہ کا خوف پیدا ہوا یا صرف صبح سے شام تک بھوکا رہنا؟ ہم نے یتیموں اور بیواؤں کا خیال رکھا یا نہیں؟ ہمارے معاملات میں تبدیلی آئی یا نہیں؟ ہمارے اخلاق نبی اکرمﷺ کے اخلاق کا نمونہ بنے یا نہیں؟ جو علم ہم نے حاصل کیا تھا وہ دوسروں کو پہنچایا یا نہیں؟ ہم نے اپنے بچوں کی ہمیشہ ہمیش کی زندگی میں کامیابی کے لئے کچھ اقدامات بھی کئے یاصرف ان کی دنیاوی تعلیم اور ان کو دنیاوی سہولیات فراہم کرنے کی ہی فکر کرتے رہے؟ ہم نے امسال انسانوں کو ایذائیں پہنچائی یا ان کی راحت رسانی کے انتظام کئے؟ ہم نے یتیموں اور بیواؤں کی مدد بھی کی یا صرف تماشہ دیکھتے رہے؟ ہم نے قرآن کریم کے ہمارے اوپر جو حقوق ہیں وہ ادا بھی کئے یا نہیں؟ ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی یا نافرمانی؟ ہمارے پڑوسی ہماری تکلیفوں سے محفوظ رہے یا نہیں؟ ہم نے والدین، پڑوسی اور رشتہ داروں کے حقوق ادا کئے یا نہیں؟ جس طرح مختلف ممالک، کمپنیاں اور انجمنیں سال کے اختتام پر اپنے دفتروں میں حساب لگاتے ہیں کہ کتنا نقصان ہوا یا فائدہ؟ اور پھر فائدے یا نقصان کے اسباب پر غور وخوض کرتے ہیں۔ نیز خسارہ کے اسباب سے بچنے اور فائدہ کے اسباب کو زیادہ سے زیادہ اختیار کرنے کی پلاننگ کرتے ہیں۔ اسی طرح میرے دینی بھائیو! آخرت کے تاجروں کو سال کے اختتام پر نیز وقتاً فوقتاً اپنی ذات کا محاسبہ کرتے رہنا چاہئے کہ کس طرح ہم دونوں جہاں میں کامیابی وکامرانی حاصل کرنے والے بنیں؟ کس طرح ہمارا اور ہماری اولاد کا خاتمہ ایمان پر ہو؟ کس طرح ہماری اخروی زندگی کی پہلی منزل یعنی قبر جنت کا باغیچہ بنے؟ جب ہماری اولاد ، ہمارے دوست واحباب اور دیگر متعلقین ہمیں دفن کرکے قبرستان کی اندھیرے میں چھوڑکر آجائیں گے، توکس طرح ہم قبر میں منکر نکیر کے سوالات کا جواب دیں گے؟ کس طرح ہم پل صراط سے بجلی کی طرح گزریں گے؟ قیامت کے دن ہمارا نامہ اعمال کس طرح دائیں ہاتھ میں ملے گا؟ کس طرح حوض کوثر سے نبی اکرم ﷺکے دست مبارک سے کوثر کا پانی پینے ملے کہ جس کے بعد پھر کبھی پیاس ہی نہیں لگے گی؟ جہنم کے عذاب سے بچ کر کس طرح بغیر حساب وکتاب کے ہمیں جنت الفردوس میں مقام ملے گا؟ آخرت کی کامیابی وکامریانی ہی اصل نفع ہے جس کے لئے ہمیں ہرسال، ہر ماہ، ہر ہفتہ بلکہ ہر روز اپنا محاسبہ کرنا چاہئے۔ ہند نزاد مشہور سعودی محدث ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی قاسمی دامت برکاتہم نے بندہ سے متعدد مرتبہ فرمایا کہ میں ہر روز سونے سے قبل اپنا محاسبہ کرتا ہوں اور جس روز کوئی علمی کام نہیں کرپاتا تو میں اپنے آپ کو مردہ سمجھتا ہوں۔ چنانچہ ۸۵ سال کی عمر کے باوجودہ موصوف ابھی تک علمی کاموں میں لگے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو صحت عطا فرمائے اور ان کی عمر اور وقت میں برکت عطا فرمائے۔ ابھی وقت ہے۔ موت کسی بھی وقت اچانک ہمیں دبوچ لے گی، ہمیں توبہ کرکے نیک اعمال کی طرف سبقت کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے مومنو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ (سورۃ النور ۳۱) اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: کہہ دو کہ اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر رکھی ہے، یعنی گناہ کررکھے ہیں، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ یقین جانو اللہ سارے کے سارے گناہ معاف کردیتا ہے۔ یقیناًوہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔ (سورۃ الزمر ۵۳)یقینانیکیاں برائیوں کو مٹادیتی ہیں۔ (سورۃ الہود ۱۱۴) یہی دنیاوی فانی وقتی زندگی اخروی ابدی زندگی کی تیاری کے لئے پہلا اور آخری موقع ہے، اللہ تعالی فرماتا ہے: یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی پر موت آکھڑی ہوگی تو وہ کہے گا کہ اے میرے پروردگار! مجھے واپس بھیج دیجئے تاکہ جس دنیا کو میں چھوڑ آیا ہوں، اس میں جاکر نیک اعمال کروں۔ ہرگز نہیں، یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے، اب ان سب (مرنے والوں) کے پیچھے ایک برزخ ہے جب تک کہ وہ دوبارہ اٹھائے جائیں۔ (سورۂ المؤمنون۹۹ و ۱۰۰) لہذا ضروری ہے کہ ہم افسوس کرنے یا خون کے آنسو بہانے سے قبل اس دنیاوی زندگی میں ہی ا پنے مولاکو راضی کرنے کی کوشش کریں تاکہ ہمارے بدن سے ہماری روح اس حال میں جدا ہو کہ ہمارا خالق ومالک و رازق ہم سے راضی ہو۔ آج ہم صرف فانی زندگی کے عارضی مقاصد کو سامنے رکھ کر دنیاوی زندگی گزارتے ہیں اور دنیاوی زندگی کے عیش وآرام اور وقتی عزت کے لئے جد وجہد کرتے ہیں۔ لہٰذا نماز وروزہ کی پابندی کے ساتھ زکوٰۃکے فرض ہونے پر اس کی ادائیگی کریں۔قرآن کی تلاوت کا اہتمام کریں۔ صرف حلال روزی پر اکتفا کریں خواہ بظاہر کم ہی کیوں نہ ہو۔ بچوں کی دینی تعلیم وتربیت کی فکر وکوشش کریں۔ احکام الٰہی پر عمل کرنے کے ساتھ جن امور سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے ان سے باز آئیں۔ ٹی وی اور انٹرنیٹ کے غلط استعمال سے اپنے آپ کو اور بچوں کو دور رکھیں۔ حتی الامکان نبی اکرم ﷺ کی ہر سنت کو اپنی زندگی میں داخل کرنے کی کوشش کریں اور جن سنتوں پر عمل کرنا مشکل ہو ان کو بھی اچھی اور محبت بھری نگاہ سے دیکھیں اور عمل نہ کرنے پر ندامت اور افسوس کریں۔ اپنے معاملات کو صاف ستھرا بنائیں۔ اپنے اخلاق کو ایسا بنائیں کہ غیر مسلم حضرات ہمارے اخلاق سے متاثر ہوکر دائرہ اسلام میں داخل ہوں۔ عصر حاضر کے داعی اسلام جناب ڈاکٹر عمر گوتم صاحب بار بار کہتے ہیں کہ ان دنوں جو حضرات مسلمان ہورہے ہیں ان میں سے بیشتر حضرات ہمارے اخلاق سے متاثر ہوکر ایمان لاتے ہیں۔ تقریباً۳۰ سال قبل ڈاکٹر عمر گوتم صاحب بھی ایک مسلمان کے اخلاق سے متاثر ہوکر ہی ایمان لائے تھے اور آج الحمد للہ ان کی محنت وکاوش اور ان کے اخلاق سے سینکڑوں حضرات ایمان لاکر مختلف مقامات پر دین اسلام کی خدمت کررہے ہیں۔ نئے سال کی مناسبت سے دنیا میں مختلف مقامات پر Happy New Year کے نام سے متعدد پروگرام کئے جاتے ہیں اور ان میں بے تحاشہ رقم خرچ کی جاتی ہے، حالانکہ اس رقم سے لوگوں کی فلاح وبہبود کے بڑے بڑے کام کئے جاسکتے ہیں، انسانی حقوق کی ٹھیکیدار بننے والی دنیا کی مختلف تنظیمیں بھی اس موقع پر چشم پوشی سے کام لیتی ہیں۔ مگر ظاہر ہے کہ ان پروگراموں کو منعقد کرنے والے نہ ہماری بات مان سکتے ہیں اور نہ ہی وہ اس وقت ہمارے مخاطب ہیں۔ لیکن ہم مسلمانوں کو اس موقع پر کیا کرنا چاہئے؟ یہ اس مضمون کو لکھنے کا بنیادی مقصد ہے۔ پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ شریعت اسلامیہ میں کوئی مخصوص عمل اس موقع پر مطلوب نہیں ہے اور قیامت تک آنے والے انس وجن کے نبی حضور اکرم ﷺ ، صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین، مفسرین، محدثین اور فقہاء سےHappy New Year کہہ کر ایک دوسرے کو مبارک باد پیش کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ اس طرح کے مواقع کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہماری رہنمائی فرمائی ہے: (رحمن کے بندے وہ ہیں) جو ناحق کاموں میں شامل نہیں ہوتے ہیں، یعنی جہاں ناحق اور ناجائز کام ہورہے ہوں، اللہ تعالیٰ کے نیک بندے اُن میں شامل نہیں ہوتے ہیں۔ اور جب کسی لغو چیز کے پاس سے گزرتے ہیں تو وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔ یعنی لغو وبے ہودہ کام میں شریک نہیں ہوتے ہیں، بلکہ برے کام کو برا سمجھتے ہوئے وقار کے ساتھ وہاں سے گزر جاتے ہیں۔ سورۃ الفرقان ۷۲ عصر حاضر کے علماء کرام کا بھی یہی موقف ہے کہ یہ عمل صرف اور صرف غیروں کا طریقہ ہے، لہٰذا ہمیں ان تقریبات میں شرکت سے حتی الامکان بچنا چاہئے۔ اور اگر کوئی شخص Happy New Year کہہ کر ہمیں مبارک باد پیش کرے تو مختلف دعائیہ کلمات اس کے جواب میں پیش کردیں، مثلاً اللہ تعالیٰ پوری دنیا میں امن وسکون قائم فرمائے، اللہ تعالیٰ کمزوروں اور مظلوموں کی مدد فرمائے۔ اللہ تعالیٰ برما، شام، عراق اور فلسطین میں مظلوم مسلمانوں کی مدد فرمائے، اللہ تعالیٰ ہم سب کی زندگیوں میں خوشیاں لائے۔ اللہ تعالیٰ۲۰۱۶ کو اسلام اور مسلمانوں کی سربلندی کا سال بنادے۔ نیز سال گزرنے پر زندگی کے محاسبہ کا پیغام بھی دیا جاسکتا ہے۔ ہم اس موقع پر آئندہ اچھے کام کرنے کے عہد کرنے کا پیغام بھی ارسال کرسکتے ہیں۔ غرضیکہ ہم خود Happy New Yearکہہ کر پہل نہ کریں بلکہ اس موقع پر حاصل شدہ پیغام پر خود داعی بن کر مختلف انداز سے مثبت جواب پیش فرمائیں۔ حضور اکرم ﷺ کے زمانہ میں بھی مختلف کیلنڈر رائج تھے، اور ظاہر ہے کہ ہر کیلنڈر کے اعتبار سے سال کی ابتداء بھی ہوتی تھی۔ ہجری کیلنڈر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں شروع کیا گیا ہے، اور چاند کے نظام سے چلنے والے ہجری کیلنڈر کے سال کی ابتداء محرم الحرام سے شروع کی گئی۔ سورج کے نظام سے عیسوی کیلنڈر میں ۳۶۵یا۳۶۶ دن ہوتے ہیں، جبکہ ہجری کیلنڈر میں ۳۵۴ دن ہوتے ہیں۔ہر کیلنڈر میں۱۲ ہی مہینے ہوتے ہیں۔ ہجری کیلنڈر میں مہینہ ۲۹ یا ۳۰ دن کا ہوتا ہے جبکہ عیسوی کیلنڈر میں سات مہینہ ۳۱ دن کے، چار ماہ ۳۰ دن اورایک ماہ ۲۸ یا۲۹ دن کا ہوتا ہے۔ سورج اور چاند دونوں کا نظام اللہ ہی نے بنایا ہے۔ شریعت اسلامیہ میں متعدد عبادتیں ہجری کیلنڈر سے مربوط ہیں۔ دونوں کیلنڈر میں ۱۰ یا ۱۱ روز کا فرق ہونے کی وجہ سے بعض مخصوص عبادتوں کا وقت ایک موسم سے دوسرے موسم میں تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ یہ موسموں کی تبدیلی بھی اللہ تعالیٰ کی نشانی ہے۔ ہمیں اس پر غور کرنا چاہئے کہ موسم کیسے تبدیل ہوجاتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس پر غور وخوض کرنے کی دعوت دینی چاہئے۔ ظاہر ہے کہ یہ صرف اور صرف اللہ کا حکم ہے جس نے متعدد موسم بنائے اور ہر موسم میں موسم کے اعتبار سے متعدد چیزیں بنائیں، جیسا کہ فرمان الٰہی ہے:بیشک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات دن کے باری باری آنے جانے میں اُن عقل والوں کے بڑی نشانیاں ہیں۔ جو اٹھتے بیٹھتے اور لیٹے ہوئے (ہر حال میں) اللہ کو یاد کرتے ہیں، اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر غور کرتے ہیں، (اور انہیں دیکھ کر بول اٹھتے ہیں کہ) اے ہمار پروردگار! آپ نے یہ سب کچھ بے مقصد پیدا نہیں کیا۔ آپ (ایسے فضول کام سے)پاک ہیں۔ پس دوزخ کے عذاب سے بچالیجئے۔ سورۃ آل عمران ۱۹۰ و ۱۹۱ نئے سال کے موقع پر عموماً دنیا میں سردی کی لہر ہوتی ہے، سردی کے موسم میں دو خاص عبادتیں کرکے ہم اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرسکتے ہیں۔ ایک عبادت وہ ہے جس کا تعلق صرف اور صرف اللہ کی ذات سے ہے اور وہ رات کے آخری حصہ میں نماز تہجد کی ادائیگی ہے۔ جیسا کہ سردی کے موسم کے متعلق حدیث میں آتا ہے کہ سردی کا موسم مؤمن کے لئے موسم ربیع ہے، رات لمبی ہوتی ہے اس لئے وہ تہجد کی نماز پڑھتا ہے۔دن چھوٹا ہونے کی وجہ سے روزہ رکھتا ہے۔ یقیناًسردی میں رات لمبی ہونے کی وجہ سے تہجد کی چند رکعات نماز پڑھنا ہمارے لئے آسان ہے۔ قرآن کریم میں فرض نماز کے بعدجس نماز کا ذکر تاکید کے ساتھ بار بار کیا گیا ہے وہ تہجد کی نماز ہی ہے جو تمام نوافل میں سب سے افضل نماز ہے۔ ارشاد باری ہے : وہ لوگ راتوں کو اپنے بستروں سے اٹھ کر اپنے رب کو عذاب کے ڈر اور ثواب کی امید سے پکارتے رہتے ہیں (یعنی نماز، ذکر اور دُعا میں لگے رہتے ہیں) (سورۂ السجدہ ۱۶) یہ ان کی صفت اور عمل ہے لیکن جزا اور بدلہ عمل سے بہت زیادہ بڑا ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک کا جو سامان خزانہ غیب میں موجود ہے اس کی کسی شخص کو بھی خبر نہیں۔ یہ اِن کو اُن اعمال کا بدلہ ملے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔ (سورۂ السجدہ ۱۷) ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (رحمن کے سچے بندے وہ ہیں)جو اپنے رب کے سامنے سجدے اور قیام کرتے ہوئے راتیں گزار دیتے ہیں۔ (سورۂ الفرقان ۶۴) اس کے بعد سورہ کے اختتام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یہی لوگ ہیں جنھیں ان کے صبر کے بدلے جنت میں بالا خانے دئے جائیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل نماز رات کی ہے یعنی تہجد (جو رات کے آخری حصہ میں ادا کی جاتی ہے)۔ (مسلم) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! سلام کو پھیلاؤ، لوگوں کو کھانا کھلاؤ اور راتوں میں ایسے وقت نمازیں پڑھو جبکہ لوگ سورہے ہوں، سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤگے۔ (ترمذی، ابن ماجہ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رات کو قیام فرماتے یہاں تک کہ آپ کے پاؤں مبارک میں ورم آجاتا۔ میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف کردئے گئے ہیں(اگر ہوتے بھی)، پھر آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں اپنے پروردگار کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ بخاری سردی کے موسم میں دوسرا اہم کام جو ہمیں کرنا چاہئے وہ اللہ کے بندوں کی خدمت ہے اور اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ ہم غرباء ومساکین ویتیم وبیواؤں وضرورت مندوں کو سردی سے بچنے کے لئے لحاف، کمبل اور گرم کپڑے تقسیم کریں۔ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا دونوں جنت میں اس طرح ہوں گے جیسے دو انگلیاں آپس میں ملی ہوئی ہوتی ہیں۔ (بخاری) رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: مسکین اور بیوہ عورت کی مدد کرنے والا اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔ ( بخاری،مسلم) رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کو ضرورت کے وقت کپڑا پہنائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے سبز لباس پہنائے گا۔ جوشخص کسی مسلمان کو بھوک کی حالت میں کچھ کھلائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے پھل کھلائے گا۔ جو شخص کسی مسلمان کو پیاس کی حالت میں پانی پلائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو جنت کی ایسی شراب پلائے گا، جس پر مہر لگی ہوئی ہوگی۔ ( ابوداود، ترمذی) رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہیں اپنے کمزوروں کے طفیل سے رزق دیا جاتا ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے۔ (بخاری) غرضیکہ اس طرح ہم اپنے مال ودولت کی ایک خاص مقدار محتاج، غریب، مساکین اور یتیم وبیواؤں پر خرچ کرسکتے ہیں جو یقیناًایک بڑا عمل ہے۔ خلاصۂ کلام: موت یقینی شی ہے لیکن اس کا وقت اللہ کے علاوہ کسی بشر کو معلوم نہیں ہے، ہمیں یہ تو معلوم ہے کہ سال کے اختتام پر ہماری عمر کتنی ہوگئی، لیکن زندگی کے کتنے سال، مہینے، دن یا لمحات باقی رہ گئے، وہ کسی کو معلوم نہیں۔ موت کے فرشتہ کے آنے پر ہمارے گھر والے، خاندان والے بلکہ پوری کائنات مل کر بھی ہمیں نہیں بچا سکتی۔ لہٰذا عقلمندی اور نیک بختی اسی میں ہے کہ ہم اس فانی دنیاوی زندگی کو اخروی وابدی زندگی کو سامنے رکھ کر گزاریں جیسا کہ محسن انسانیت حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: دنیا میں اس طرح رہو جیسے مسافر ہو یا راستہ چلنے والا ہو۔ بخاری Happy New Year کی مناسبت پر بے تحاشہ رقم کے خرچ سے ہونے والی تقریبات میں شرکت سے بچ کر اپنے مولا کو راضی کرنے کی کوشش کریں۔ سردی کے موسم میں دیگر اعمال صالحہ کے ساتھ ان دو اعمال کا خاص اہتمام کریں۔ ایک حسب توفیق نماز تہجد کی ادائیگی اور دوسرے ضرورت مندوں کی مدد کرنا تاکہ غرباء ومساکین ویتیم وبیوائیں وضرورت مند حضرات رات کے ان لمحات میں چین وسکون کی نیند سوسکیں جب پوری دنیا خرافات میں اربوں وکھربوں روپئے بلاوجہ خرچ کررہی ہو۔ نیز پوری انسانیت کو یہ پیغام دیا جائے کہ غرباء ومساکین ویتیم وبیوائیں وضرورت مند کا جتنا خیال اسلام میں رکھا گیا ہے اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی، بلکہ صحیح بات تو یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں مذہب صرف اور صرف اسلام ہی ہے، باقی تمام مذاہب میں صرف روایت باقی رہ گئی ہے۔ دیگر مذاہب کے لوگ اپنے مذہب پر عمل تو درکنار اپنے مذہب کی کتابوں کو بھی نہیں پڑھتے۔۱۴۰۰ سال گزرنے کے باوجود مسلمانوں کا آج بھی قرآن وحدیث سے جیسا تعلق اور شغف ہے اس کی کوئی مثال دنیا میں موجود نہیں ہے۔ اسلامی تعلیمات پر عمل کرکے ہی دنیامیں غربت کو ختم کیا جاسکتا ہے جو ہمیشہ فضول خرچی کی مذمت اور انسانوں کی مدد کی ترغیب دیتا ہے۔ یاد رکھیں کہ اسلامی تعلیمات پر عمل کرکے ہی دنیا سے سرمایہ داروں کی اجارہ داری ختم کی جاسکتی ہے۔ محمد نجیب قاسمی سنبھلی
  3. نیو ایئر نائٹ و پارٹیز وَلَنْ تَرْضَى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَىم حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَى وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُمْ بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ [البقرة: 120] ترجمہ: اور یہود و نصاری تم سے اس وقت تک ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک تم ان کے مذہب کی پیروی نہیں کرو گے۔ کہہ دو کہ حقیقی ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہےاور تمہارے پاس (وحی کے ذریعے) جو علم آگیا ہے اگر کہیں تم نے اس کے بعد بھی ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی کرلی تو تمہیں اللہ سے بچانے کے لیے نہ کوئی حمایتی ملے گا نہ کوئی مددگار۔ (آسان ترجمۂ قرآن) . إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا [الإسراء: 27] ترجمہ: یقین جانو کہ جو لوگ بےہودہ کاموں میں مال اڑاتے ہیں، وہ شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ناشکرا ہے۔(آسان ترجمۂ قرآن) . عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ قَبْلَكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتَّى لَوْ سَلَكُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَسَلَكْتُمُوهُ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى قَالَ فَمَنْ (صحيح البخاري، رقم الحديث:3456) ترجمہ: ’’حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم لوگ پہلی امتوں کے طریقوں کی قدم بقدم پیروی کرو گے یہاں تک کہ اگر وہ لوگ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے تو تم بھی اس میں داخل ہوجاؤ گے، ہم نے پوچھا یا رسول اللہﷺکیا آپ کی مراد پہلی امتوں سے یہود و نصاریٰ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کون ہو سکتا ہے؟“ . عن ابن عمر قال قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- « من تشبه بقوم فهو منهم ».( سنن أبى داود، رقم الحديث:4031) ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہیں میں سے ہے“۔ . عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه»( سنن الترمذي، رقم الحديث:2317) ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی شخص کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ لایعنی اور فضول باتوں/کاموں کو چھوڑ دے“
  4. ALL IN THE NAME OF A NEW YEAR by Naadira Chhipa Ink of Inspiration: ? Dressed in a black leather mini skirt, a shimmery silver top and Jimmy choo heels she is ready for the new years eve party at the hotest night club in town. How could she miss out on the most happening party of the year,on the most happening night of the year so she quickly covers herself up with an abaaya and hijaab before making salaam to her unsuspecting parents and rushes out the door as they think she is going for a sleepover at her cousin's apartment. She removes her abaaya and hijaab as well as her haayah as soon as she enters her friends car. The party was as awesome as she expected and after trying an attractive looking alcoholic drink or two she was ready to dance the year away. A few minutes later she passed out only to be woken up the next morning,in a strange car,next to a strange man, her clothes had been stripped off as well as her dignity. All in the name of celebrating the new year. ? A loving father purchases the lastest bike for his son as he was so proud of his achievements at school. He picked out a helmet in his son's favourite colour and engraved daddy loves you on it. He wanted to suprise his only child and called his beautiful wife to let her know he will be coming home shortly. As he was making his way home he noticed a few guys in the parking area starting their new years eve celebrations early by drinking beers and dancing. He ignored them and drove past.He switched on his favourite Surah Yaseen and was reciting it when a van came crashing into his car alas he did not return home but returned to his creator. The police informed his wife and now orphan child that their loved one was killed by a drunk driver. All in the name of celebrating the new year. ? A newly married couple are invited to attend a new years eve beach party with a group of friends and they decide to go. The cool colour co-ordinated couple sit together near a bonfire on the sea shore smoking weed with their friends and laughing the year away. At the stroke of 12 when everybody starts wishing each other a happy New year a friend who was high went too far by not only wishing the new bride but kissing her. This enraged her husband who was also intoxicated and a huge fight broke out,a trigger was pulled and she is now a new widow. All in the name of celebrating the new year. ? He is a young hafiz of the Quraan hence he was hesitant on going to his friends house party on New years eve yet he reluctantly agreed. He was feeling awkward as there were girls dancing provocatively. He was not familiar with any of the girls and asked his friend as to why he invited girls. His friend laughed and hinted that these were no ordinary girls. After having a glass of coke he decided to leave but he could not as he was feeling light headed little did he know his coke was spiked. All he remembers is waking up at 3am with a strange older woman in his arms and a few months later he was diagnosed with HIV. All in the name of celebrating the new year. ? Fomo-fear of missing out. We all suffer from fomo at times especially when shaytaan makes all things and events harmful to us look so glittery and attractive. New years eve parties are packaged to attract millions of Muslims as we dance to the tunes of shaytaan there are people that are being robbed of their loved ones, their dignity, their identity, their haayah, their imaan and even their souls all in the name of celebrating a new year and yet what changes after the countdown? What changes after the clock strikes 12.01? Will it magically make you a better human? Does it promise you treasures or maybe a better life? Nothing and nobody miraculously ever changed at the stroke of midnight. Rather create Fomo(fear of missing out) in your heart, mind soul with regards to your Salaah, zikr, the recitation and understanding of the Quraan as only Allah has the power to make your hour, your day, your month, your year and your life beautiful in this world as well as the hereafter. Your ultimate Fear of missing out: Jannah May Allah safeguard us as well as our loved ones tonight and always. Ameen.
  5. Correct amount of Mehr-e-Fatimi. Assalamualykum, shaikh I hope you are in the best of health and Imaan! May Allah always keep you and your family safe! Ameen Shaikh I want to ask please could you tell me what is the least amount of Mehr Fatimi that can be given? And please could you tell me in pounds? InshaAllah I’m getting married and I want to give Mehr Fatimi but I don’t know the amount in pounds? Please shaikh I humbly request you to make dua for my marriage life! JazakAllah —————————————————– Walaykumsalaam wa Rahmatullahi Wa Barakaatu May Allah give Barakah in your wedding, May Allah place special Muhabbat, love and affection within your hearts and keep you happy forever. May Allah give you pious offsprings. Ameen Depending on the price of silver, Mehr Fatimis rates keep changing. To check out today’s rates, go to the website www.rabetah.org It is the website of Ulamaa in Batley and they regularly update the rates. At the moment, I believe it’s in the region of 700 pounds. Below is a slight Tahqeeq (research) of the amount of sliver in weight. —————————————————- Mehr minimum: 30.615g silver (Fatawa Darul Uloom Zakariyya: 3/624, Jadeed Fiqhi Masaail: 1/196) However, according to Moulana Ashraf Ali Thanwi and Mufti Rasheed Ludhyanwi رحمهم الله : it is 34 grams. (Ahsan ul Fatawa: 5/32, Tasheel Beshti Zewar: 5/35) Mehr Zawjaat (Wives of Rasulullah (صلى الله عليه وسلم): 1530.87g silver (Fatawa Darul Uloom Zakariyya: 3/628) Mehr Fatimi: There are four main opinions regarding this: 1) Moulana Ashraf Ali Thanwi رحمه الله , Mufti Rasheed Ludhyaanwi رحمه الله, Mufti Radha ul Haq حفظه الله and Mufti Ebrahim Desai حفظه الله : 480 dirhams which equals to 1469.6 grams of silver or 47.25 Troy ounces of silver. The standard price of silver is usually quoted in troy ounces of silver. However, Mufti Rasheed calculates 480 dirhams as 1630 grams of silver. http://askimam.org/public/question_detail/25858 (Ahsan ul Fataawa: 5/31, Fatawa Darul Uloom Zakariyya: 3/626, Tasheel Beshti Zewar: 2/35, kitab ghar) 2) Mufti Mohamed Shafi Saheb رحمه الله and Mufti Mahmood Saheb رحمه الله give two opinions: A) 400 mithqaal = 150 tola=1749.9g silver B) 500 dirhams= 131.25 tola or 1530.9g of silver. Mufti Nizam Uddin رحمه الله also gave preference to this opinion. (Fatawa Rahimiyah: 8/231-232, Darul Ishaat, Jadeed Fiqhi Masail: 1/197, Fatawa Mahmoodiya: 12/27-28, Farooqiya, Nizam ul Fatawa: 2/209, Maktabah Rahmaniya) 3) Allamah Ibnul Humaam (رحمه الله): 400 dirhams =1224 grams of silver (Fath al Qadeer: 3/318, Darul Fikr) 4) Mulla Ali Qari,رحمه الله Moulana Siddique Ahmed Banwi رحمه الله,and Mufti Abdur Rahim Lajpuri رحمه الله : 400 mithqaal= 1750 g or 150 tola (Fatawa Rahimiyya: 8/231-232, Darul Ishaat,Mirqaat al Mafātīh: 6/330, Darul Kutub Al I’lmiya) Mufti Abdur Rahim Lajpoori رحمه اللهwrites: The preferred and more cautious view is that the Mehr-e-Fatimi be calculated upon 400 mithqaal (i.e. 150 Tola or 1749.9 grams of silver) (Fatawa Rahimia: 8/231-232, Darul Ishaat) In accordance to the above the conversion rate is: 1 Dirham= roughly 3.06 g 1 Mithqal= roughly 4.375 g This is apparently what Maulana Khalid Saif-ullah حفظه الله takes. (Jadeed Fiqhi Masaail: 1/196, ZamZam Publishers) However according to Mufti Rasheed Ludhyaanwi Saheb رحمه الله: 1 Dirham= 3.4 g 1 Mithqal= 4.86 g (Ahsan ul Fatawa: 4/415, H.M Saeed Publishers) Source: Tafseer-raheemi
  6. When Does the Soul Enter the Fetus? By Mufti Muhammad ibn Adam al-Kawthari Question: What grounds do we have to say that life starts at 120 days? The verse of the Qur’an (Surah Mu’minun, 14) seemingly says that life is breathed into the body after the bones are clothed with flesh, but it does not specify how long after. What is stopping us from assuming it’s more than 120 days? Answer: According to the jurists (fuqaha), the soul (ruh) enters the foetus at around 120 days (4 months) from conception. They have based this duration upon a Qur’anic verse and a Hadith of the beloved of Allah (Allah bless him & give him peace). Our belief is that the Messenger of Allah (Allah bless him and give him peace) explained, both verbally and practically, the contents of the book of Allah. Hence, coming to a correct conclusion cannot be achieved by merely looking at the verse of the Qur’an; rather, it is imperative to see what the beloved of Allah (Allah bless him & give him peace) has to say about the relevant issue. Allah Most high says to his beloved servant and Messenger (Allah bless him & give him peace): “And We have sent down unto you the message (Qur’an); that you may explain clearly to men what is sent for them.” (Sura al-Nahl, V: 44) Hence, life being breathed into the foetus at 120 days is understood by looking at the verse of the Qur’an and the Hadith collectively. In the verse, Allah Most High states the stages of embryonic development in the womb of the mother. He Most High says: “And verily We did create man from a quintessence (of clay). Then We placed him (as a drop of sperm) in a place of rest, firmly fixed. Then We made the sperm into a clot of congealed blood. Then of that clot We made a (foetus) lump. Then We made out of that lump bones and clothed the bones with flesh. Then We developed out of it another creature (by breathing life into it). So blessed be Allah, the most marvellous Creator” (Sura al-Mu’minun V: 12-13-14). In the Hadith recorded by the two most authentic authorities, Imam al-Bukhari and Imam Muslim (may Allah have mercy on them both) in their respective Sahih collections, the Messenger of Allah (Allah bless him & give him peace) discusses in detail the periods elapsing between these stages mentioned in the Qur’an. Sayyiduna Abd Allah ibn Mas’ud (Allah be pleased with him) narrates that the Messenger of Allah (Allah bless him & give him peace) said: ((إنَّ أحدكم يُجمَع خَلْقُه في بطن أمه أربعين يومًا، ثم يكون علقةً مثل ذلك، ثم يكون مُضغةً مثل ذلك، ثم يَبعث الله ملكًا فيُؤمر بأربع كلمات، ويقال له: اكتُبْ عملَه، ورزقَه، وأجلَه، و شقيٌّ أو سعيدٌ، ثم يُنفخ فيه الروح)) “Each one of you is constituted in the womb of the mother for forty days, and then he becomes a clot of thick blood for a similar period, and then a piece of flesh for a similar period. Then Allah sends an angel who is ordered to write four things. He is ordered to write down his deeds, his livelihood, his (date of) death, and whether he will be blessed or wretched (in religion). Then the soul is breathed into him…” (Sahih al-Bukhari no: 3036). Based on the above Qur’anic verse and Hadith, the jurists (fuqaha) have inferred that the soul (ruh) enters the foetus at around 4 months/120 days after gestation. Imam Ibn Abidin (Allah have mercy on him) states: “The soul enters the foetus at 120 days (4 months), as established by the Hadith.” (Radd al-Muhtar ala Durr al-Mukhtar 1/202) Thus, when the age of the unborn child reaches 120 days (4 months), it no longer remains a lifeless object; rather, it is a living human being. At this point, all organ differentiation is almost completed and the child acquires the shape of a human body. And Allah knows best Muhammad ibn Adam Darul Iftaa Leicester , UK Source: Ilmgate
  7. Mu'ayyid al-Mazen! Surat An-Nisā':4 :27
  8. “There is no goodness in people who don’t give advice and there is no goodness in people who don’t like to be advised” Imam Harith Al Muhasibi (rahimahullah) has cited this as the words of Sayyiduna ‘Umar ibn Al Khattab (radiyallahu ‘anhu). (Risalatul Mustarshidin, pg. 120) Source
  9. Question Is it true that Sayyiduna Abu Hurayrah (radiyallahu ‘anhu) asked forgiveness for himself, his mother and for anyone who asked for forgiveness for them. Answer Yes, this is recorded by Imam Bukhari (rahimahullah) in his book: Al-Adabul Mufrad, Hadith: 37. After citing this narration, Imam Muhammad ibn Sirin (rahimahullah) said: ‘I also seek forgiveness for them two, so that I may be included in Sayyiduna Abu Hurayrah’s du’a too.’ And Allah Ta’ala Knows best, Answered by: Moulana Muhammad Abasoomar Source: Hadithanswers
  10. The Courage to Accept Correction Zaazaan (rahimahullah) was a great Taabi‘ee (rahimahullah) and Muhaddith. He had met ‘Umar (radhiyallahu ‘anhu), ‘Ali (radhiyallahu ‘anhu) and many other Sahaabah (radhiyallahu ‘anhum), and was counted among the special students of ‘Abdullah bin Mas‘ood (radhiyallahu ‘anhu). Prior to becoming a great saint and Muhaddith of this Ummah, Zaazaan (rahimahullah) was involved in sin. However, Allah Ta‘ala blessed him to repent and change his life at the hands of ‘Abdullah bin Mas‘ood (radhiyallahu ‘anhu). The following is the personal account of Zaazaan (rahimahullah), describing the manner in which Allah Ta‘ala guided him and inspired him to repent at the hands of ‘Abdullah bin Mas‘ood (radhiyallahu ‘anhu), which lead to him becoming the renowned personality that we know. He says: I was a youngster who possessed a melodious voice and considerable skill in playing the drum. Once, a friend and I were with a few other people. I was entertaining our small group by singing songs, when ‘Abdullah bin Mas‘ood (radhiyallahu ‘anhu) passed by. Hearing the sound of song and merrymaking, he came toward us. On reaching us, he kicked the vessels of wine, causing them to spill their contents. He then snatched the drum from me and cast it to the ground, breaking it. Finally, he turned to me and said, “O youngster! If you used the melodious voice which I heard to recite the Quraan Majeed, you would really become something!” Saying that, he left. I turned to my friend and asked him, “Who was this person?” He replied, “That was ‘Abdullah bin Mas‘ood (radhiyallahu ‘anhu).” At that moment, Allah Ta‘ala inspired me to repent. I thus ran after ‘Abdullah bin Mas‘ood (radhiyallahu ‘anhu) with tears streaming down my face. He had just arrived at the door of his home and was about to enter when I reached him and held onto his clothing. He turned to me and asked, “Who are you?” I replied, “I am the person who was playing the drum.” ‘Abdullah bin Mas‘ood (radhiyallahu ‘anhu) realized that I had come to repent and change my life, and so he hugged me and cried out of happiness. He then said, “Welcome to the one whom Allah Ta‘ala loves (and thus inspired to repent). Sit here!” ‘Abdullah bin Mas‘ood (radhiyallahu ‘anhu) thereafter entered his home and brought some dates for me to eat saying, “Eat from these dates. If I possessed any food besides this, I would have presented that to you as well.” (Taareekh Ibni ‘Asaakir vol. 18, pg. 283) Lessons: 1. Each and every believer should do whatever is in his control to bring people closer to Allah Ta‘ala and stop them from committing sin. However. The manner of stopping people from sin will differ from person to person and from situation to situation. For example, a father should physically stop his household from committing sin, as he is the head of the home and wields the authority. However, if one tries to physically stop a person who is not under his authority, then there is fear that instead of bringing the person closer to Deen, he may take exception and react badly, straying further from Deen. Hence, it would be more appropriate to speak to this person, rather than physically restrain him. 2. If a person tries to stop us from committing sin, we should be appreciative and accept his correction. Instead of viewing this person as an enemy, we should regard him to be our well wisher. If we adopt this attitude and mindset, the door for our progress will be open. 3. No person is a ‘write-off’. No matter how far we may be from Deen or how serious our sins may be, if we turn to Allah Ta‘ala in sincere repentance, He will forgive our sins and bless us. 4. After a person accepts correction, we should not continue to remind him of the sin that he was involved in. Rather, we should show him support and make him happy.Hence, ‘Abdullah bin Mas‘ood (radhiyallahu ‘anhu) hugged Zaazaan (rahimahullah) and fed him whatever he had, out of happiness that Zaazaan (rahimahullah) had repented. Uswatulmuslimah
  11. Advices of Hakeemul Ummat Maulana Ashraf Ali Thanwi (R.A.) Acquire knowledge of Deen according to your needs; either by asking the Ulama or by reading a book. Abstain from all sins. If you commit any sin, repent immediately. Do not hold back in fulfilling anyone’s right. Do not cause anyone physical or verbal harm. Do not speak ill of anyone. Do not have any love for wealth, nor any desire for name and fame. Do not concern yourself with extravagant food and clothing. If someone rebukes you for your mistake or error, do not try to justify your action. Do not laugh excessively nor talk excessively. Do not go about repeating or mentioning an argument that may have taken place between two persons. Always be mindful of the rules of Shariah in everything you do. Do not display laziness in executing any act of Ibaadah. Try and spend most of your time in seclusion. If you have to meet and converse with others, meet them with humility and do not display your greatness. Associate very little with rulers and those who hold high positions. Stay very far from irreligious people. Do not search for the faults of others. Do not have evil thoughts about anyone. Instead look at your own faults and try to put them in order. You should be particular in offering your salaat in the proper manner, at the proper time with concentration. Always occupy yorself in the remembrance of Allah, either with your heart or tongue. If you experience any satisfaction in taking the name of Allah, then express your gratitude to Allah. Speak in a nice, humble way. Set aside specific times for all your different tasks and abide strictly to these times. Consider whatever regret, sorrow or loss you may experience to be from Allah. Do not think about worldly matters, calculations, profits and losses, etc. all the time. Instead think about Allah. As far as possible, try to help and benefit others irrespective of whether it be in worldly or Deeni matters. Do not eat and drink too little to the extent that you become weak and fall ill. You should not eat and drink too much to the extent, you feel lazy in carrying out the different acts of Ibaadah. Do not have any desire or greed for anything except Allah. Do not allow your mind to wander towards any place, thinking that you will be able to benefit or profit from there. Be restless in your quest for Allah. Be grateful for the favours that are bestowed upon you irrespective of whether they are plenty or few. Do not be depressed with poverty and destitution. Overlook the faults and mistakes of those who are under your control. If you learn of any fault of someone, conceal it. Be in the service of guests, travellers, strangers, Ulama, and pious servants of Allah. Choose the company of the pious. Fear Allah all the time. Remember death. Set aside a certain time daily, wherein you should think about all your actions for that day. When you remember any good action done, express gratitude.Whenyou remember any evil action,repent. Don’t ever speak a lie. Live with bashfulness, modesty and forebearance. Do not be conceited by thinking to yourself that “I have such-and-such qualities in me.” Don’t ever attend gatherings that are contrary to the Sharah. Continue making Duaa to Allah to keep you steadfast on the straight path. To be proud of a blessing is pride but to consider it a gift from Allah & keep in mind your incompetence is thankfulness. Pride develops in some Muslims; they pray and hate those who don’t and consider them inferior. Sins are very dangerous and must be avoided. Pay attention to Allah, not to worries, they will disappear. When Allah’s name is taken say Jalla Jalalahu or Taala, once in a meeting atleast, preferably every time if possible. Neither consider your worship such as to be proud of, nor consider them useless. If your friends and relatives do not love you, be happy that Allah has removed others from your heart. When Allah is angry, you see a wrong thing as right and wrong superstition appear as facts. Patience becomes easy by crying to Allah, as it removes the pressure. Do Zikr with the intention of developing love of Allah, it will have its effect. We are born for worries, it will end in Paradise, so forget its ending now. Inform the person you have back-bited, after a short while you will stop back-biting. Do not quote somebody without enquiry or research. Deeds are rewards themselves, so why do you ask for reward on rewards. To gain the love of Allah, join the company of the Saints (Ahlullah). Hidden etiquette is to be with Allah, all your time,events and dealings. Ask every one to say a word of prayer for you.You do not know on whose tongue is acceptance. In the company of saints (Ahlullah) atleast you begin to notice your mistakes and sins. Appreciate,value and remember the Deeni favours which your parents have bestowed to you. If sometimes parents act unjustly, bear their injustice with patience. One can only regard oneself to be insignificant if the respect, honour and love of seniors are embedded in the heart. Disrespect is more harmful than sinning. Juniors should at all times keep in mind the seniority of elders.Do not regard yourself equal to elders. Disrespect is the effect of pride and arrogance. Do not ask a need from such a person who you know feels obligated to comply even though he may not be disposed to assist. If you have been told to come at a certain time (ie. an appointment), then be there at the appointed time. Do not express yourself in the presence of the sick or his family, in a manner which makes them lose hope in life. Shariat is Aqaaid (beliefs), A’maal (good deeds) ,Muamalaat (transactions), Akhlaaq (character) & Muasharat (conduct). If someone is hurrying along the road, do not stop him for hand-shaking. When going to meet a person, do not sit with him so long as to inconvenience him. While eating do not mention such things that nauseates or disgusts others. Do not curse or speak ill of time (the age). Time is blameless. Where the company consists of three persons, two should not speak by whispering to each other. Do not waste the time of a busy person by prolonging the conversation by small talk. Do not use extravagant titles or flattery when writing. Do not read the letters of others. If a letter is not intended for you, do not read it. When your child has wronged someone, do not side with your child especially in his presence. If any children come to you for education, do not take service from them. Be watchful of your children’s behaviour towards servants and the children of servants. A gift should not be refused because of its small value or quantity. A gift tendered with the motive to obtain some benefit in lieu, is in fact bribery. It is not hadyah. Never give a verdict in a dispute after having heard the story of only one side. When entering the private room of parents, seek their permission before entering. If for some reason you are constrained to leave while others are still eating, excuse yourself. Superstition is a kind of shirk. Abstain from this. Some people never bother to visit the sick. This is not correct. There is great thawaab in visiting the sick. There is greater reward for granting a loan than for giving charity. The act of postponing a loan repayment when one is by the means to repay is an act of zulm (injustice). Do not use the articles of others without their permission. Safeguard and treat with care an object which you have borrowed. Do not make promises in haste. Fulfil a promise made. Do not act in conflict with a promise without any valid reason. People who criticize, insult and vilify the Ulama of Deen, their faces in the grave are turned away from the Qibla. – Hazrat Gangohi (R.A.) After your parents’ death make it a habit, to make Dua-e-Maghfirat for them. Do not raise your voice above the voices of your parents. Do not in jest point a sharp instrument to anyone. Do not merely acquire a Fatwa (ruling) to substantiate one’s own views. During school holidays, children should be left in the companionship of Ahlullaah (saintly persons). Do not assume that children will automatically acquire manners when they grow up. Start early. When meeting someone with whom you have no informal association, do not ask him personal questions. Do not crack such jokes which are hurting to others nor speak in a way which embarrasses people. When a child is obstinate in demanding a thing, do not fulfill its demand. Do not hesitate if you slip and commit some misdeed, seek forgiveness immediately. Jaamiahamidia
  12. Never forget: • When you are hurt by people who share the same blood as you, just remember Yusuf (alayhissalam), who was betrayed by his own brothers. • If you find your parents opposing you, remember Ibrahim (alayhissalam), whose father led him to the fire. • If you're stuck with a problem where there's no way out, remember Yunus (alayhissalam), stuck in the belly of a whale. • When someone slanders you , remember Aisha (radi Allahu 'anha) who was slandered throughout the city. • If you're ill your body cries with pain, remember Ayoub (alayhissalam) who was more ill than you. • When you are lonely, recall Adam (alayhissalam) who was created alone. • When you cant see the logic around you, think of Nuh (alayhissalam)who built an Ark without questioning. • If you are mocked by your own relatives, family, friends and the world at large, then remember our dear Prophet Muhammad (sallAllahu 'alayhi wasallam). Allah put these prophets to trial so that generations will persevere in patience.
  13. There are seven characteristics that Allaah and His Messenger (peace be upon him) mentioned about the salaah of the hypocrites: 1) They stand in salaah lazily. 2) They only remember Allaah a little in the salaah. 3) They show off for the people (i.e. they pray to be seen). 4) They don’t fear Allaah. 5) They don’t establish the salaah at its proper time. 6) They don’t perform the prayer in congregation. 7) They don’t have any tranquility in the salaah, instead they peck like a bird. May Allah free our hearts from hypocrisy. (Ameen)
  14. نمازِ باجماعت کی سعادت چھوڑ دی ہم نے موبائل کی نَحوست ہے تلاوت چھوڑ دی ہم نے مساجد میں،مدارس میں،نبی کے شہر میں سیلفی بِنا سیلفی مریضوں کی عیادت چھوڑ دی ہم نے بیداری کی دعا سےپہلے پیغامات پڑھتے ہیں ہوس کی دوڑمیں ہرایک سُنت چھوڑ دی ہم نے پہلےنعتیں سُنی جاتی تھیں اب دیکھی بھی جاتی ہیں غمِ تشہیر میں تقویٰ کی دولت چھوڑ دی ہم نے صحابہ مردِ میداں تھے مگر ہم غازیِ فیس بک ہماری جاں کو رب لے وہ تجارت چھوڑ دی ہم نے خدائے پاک اور بندوں میں حائل یہ موبائل ہے ڈیجیٹل کہہ کےتصویروں سےنفرت چھوڑ دی ہم نے جوشوقِ خودنمائی کے بھنور میں ڈُوب کر خوش ہیں وہ سیلفی باز لوگوں کو نصیحت چھوڑ دی ہم نے نبیِ رحمتُ لِلعالَمیں کے شہر جانا ہو فرشتو! محنتِ دعوت کہو مَت چھوڑ دی ہم نے گناہوں کے تسلسل سے نہ ایماں سلب ہوجائے اگر یوں ہی نگاہوں کی حفاظت چھوڑ دی ہم نے سکونِ دل کہاں کیسے میسّر ہو ہمیں ہدہد ندامت والے کاموں پر ندامت چھوڑ دی ہم نے۔ ہدہد الہ آبادی
  15. ‘Preserving your Deeds’ و لا تكونوا كالتي نقضت غزلها من بعد قوة انكاثا “Do not be (foolish) like the woman who shredded her spun yarn to threads after strengthening it.” (She shredded it after all her effort of spinning it) It’s very easy to do deeds, but hard to preserve them. In the above verse Allah mentions a lady who weaves wool all day, but before sunset she breaks it due to which all her efforts have gone to waste. Rasulullah صلي الله عليه و سلم says in one Hadith, that the poor one is the one who will come with many good deeds on the day of judgement; salah, fast, zakah etc but he backbited someone, he cursed someone, he accused someone. Because of this, his good deeds will be given to these victims and when his deeds will no longer remain, their sins will be given to him. Eventually he’ll be thrown in hell. (Muslim) In another Hadith Rasulullah صلي الله عليه و سلم said, stay away from jealousy because it eats up those virtuous deeds you did. In one Hadith, it comes that on the day of judgement a person will see that some deeds are omitted from his record. He will ask Allah the reason. He will be told ‘Because you use to backbite in the world so your deeds were given away’. (How much backbiting do me and you do daily). So it doesn’t just stop their! You don’t do the deed and that’s it! You need to preserve it, capsulate it, protect it. In البحر المحيط under the commentary of, من جاء بالحسنة فله عشر امثالها It’s written that Allah didn’t say who performs a deed, but rather he said who brings forward a deed; which means you do it, preserve it and bring it with you on the day of judgement. We should make a habit to put the ‘Seal’ of Istighfar at the end of performing a deed. 1.Allah says, و بالأسحار هم يستغفرون After spending the whole night in worship, just before fajr (at suhoor) they repent. 2. After the prophet finished his mission of calling towards Islam and he gained victory, Allah said praise me and do istighfar, فسبح بحمد ربك و استغفر After these verses were revealed, the sahaba said that the prophet would abundantly seek forgiveness from Allah. “Perform, Preserve, Protect, Take Forward” Tafseer Raheemi
  16. Death I begin in the name of Allah (swt), The Most Gracious, The Most Merciful. Readers, if you were informed that your death was very close by and that very shortly you would be meeting your end, what would be your reaction? Most of us would be thrown into pools of utter horror and dread. Internally and externally we would begin to tremble with pangs of fear and remorse. To put it simply, our desire would be that death be averted in order for us to prepare for the hereafter. Dearest readers, it is extremely vital that this moment of preparing takes place now. For, tomorrow may never arrive, and if death was to overtake us when we have not yet reformed ourselves and renounced our life of sin then indeed, we shall have to suffer the consequences of our disobediences. It is only when we have become like those individuals who have become favourable to the Lord (those who follow the commands of Allah (swt) and stay away from the temptation of sinning) that we will begin to desire death rather than fear it. We will view death, not as the termination of a life but rather like a meeting with the Merciful Lord. A well-respected Sheikh states that just as a bride, eagerly awaits the hours until she is united with her groom, similarly a believer awaits his death with greater desire and greater eagerness until the individual is united with the Lord. In conclusion, we must continuously remind ourselves that the enjoyment and satisfaction we derive from this world is merely temporary. Death is sure to greet us very soon, but how death greets us depends on ourselves. Would you rather desire to be in a state wherein you are fleeing from the agony and torment of death or would you rather be welcomed by an angel of beauty, presenting glad-tidings of entry into paradise. The decision is ours. I end with a supplication: Oh Allah (swt) grant us the ability to constantly remember death and create in our hearts the desire to meet You. Oh Almighty Allah (swt) grant us the ability to not become attached to this temporary world. Oh Allah (swt) it is the world of the hereafter that we desire, grant us Paradise and save us from Hellfire. Oh Allah (swt) forgive our sins, help us in staying away from sinning and also enable us to become practicing sincere Muslims. Ameen. Ummati
  17. Beautiful recitation of my favourite verses..! قُلۡ يَـٰعِبَادِىَ ٱلَّذِينَ أَسۡرَفُواْ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُواْ مِن رَّحۡمَةِ ٱللَّهِ‌ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَغۡفِرُ ٱلذُّنُوبَ جَمِيعًا‌ۚ إِنَّهُ ۥ هُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ
  18. Recitation by Mu'ayyid al-Mazen Surat Al-'A`rāf from 7:26 - 7:36
  19. Recitation by Mu'ayyid al-Mazen Surah 'Āli `Imrān 3:180
  20. "احتساب قادیانیت" "ختم نبوت کورس" سبق نمبر 10 ختم نبوت کے موضوع پر اکابرین امت کی عبارات پر قادیانی اعتراضات کا علمی اور تحقیقی جائزہ جب قادیانی قرآن و احادیث سے اجرائے نبوت پر کوئی دلیل پیش نہیں کر سکتے اور لاجواب ہوجاتے ہیں تو پھر چند بزرگان دین کی عبارات کو ادھورا پیش کرکے اس سے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب بھی قادیانی کسی بزرگ کی عبارت پیش کریں تو چند اصولی باتیں ذہن نشین کر لیں ۔ قادیانیوں کا دجل خود ہی پارہ پارہ ہوجائے گا ۔ 1۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جب قادیانیوں کے نزدیک بزرگوں کے اقوال کو مستقل حجت نہیں تو وہ بزرگوں کے اقوال کیوں پیش کرتے ہیں؟؟ کیونکہ مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ "اقوال سلف و خلف درحقیقت کوئی مستقل حجت نہیں" (روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 389) اس کے علاوہ مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا محمود نے لکھا ہے "نبی کی وہ تعریف جس کی رو سے آپ (مرزاقادیانی) اپنی نبوت کا انکار کرتے رہے ہیں۔ یہ ہے کہ نبی وہی ہوسکتا ہے جو کوئی نئی شریعت لائے یا پچھلی شریعت کے بعض احکامات کو منسوخ کرے۔ یا یہ کہ اس نے بلاواسطہ نبوت پائی ۔ اور کسی دوسرے نبی کا متبع نہ ہو۔ یہ تعریف عام طور پر مسلمانوں میں مسلم تھی" (حقیقتہ النبوۃ صفحہ 122) لیجئے خود مرزا محمود نے تسلیم کر لیا کہ مرزاقادیانی کے آنے تک مسلمان نبی اسی کو سمجھتے تھے جو نئی شریعت لانے والا ہو۔ جب خود قادیانی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں ایک ہی تعریف پائی جاتی تھی تو وہ پھر بزرگوں کی عبارات کو کیوں پیش کرتے ہیں؟؟ 2۔ ہمارا دعوی یہ ہے کہ بزرگان دین میں سے کوئی ایک بزرگ بھی ایسا نہیں تھا جس کا یہ عقیدہ ہو کہ حضورﷺ کے بعد بھی کوئی نبی بن سکتا ہے اور فلاں شخص حضورﷺ کے بعد نبی ہے۔ قادیانی تاقیامت ایسی عبارت کسی بزرگ سے ثابت نہیں کر سکتے ۔ 3۔ قادیانی جتنی بھی بزرگوں کی عبارات پیش کرتے ہیں ان میں اگر ،مگر، چونکہ، چنانچہ کی قیدیں لگی ہوتی ہیں۔ اور ایسی عبارات جن میں اتنی قیدیں لگی ہوں ان عبارات سے عقائد کے معاملے میں کوئی بددیانت ہی استدلال کرسکتا ہے۔ یاد رکھیں عقائد کے معاملے میں صرف نص صریح ہی قابل قبول ہوتی ہے۔ پھر جن بزرگوں کی عبارات قادیانی تحریف و تاویل کرکے پیش کرتے ہیں ان بزرگوں کا درج ذیل عقیدہ ان کی ہی کتابوں میں موجود ہے۔1۔ آپﷺ پر نبوت ختم ہے۔ 2۔ آپﷺکےبعد کسی بھی قسم کاکوئی نبی نہیں بن سکتا ۔ 3۔ آپﷺکے بعد آج تک کوئی شخص نبی نہیں بنا۔ 4۔ جس شخص نے حضورﷺ کے بعد نبوت کا دعوی کیا۔ اس کو انہوں نے کافر ہی سمجھا۔ 4۔ لے دے کے چند عبارات ہیں جن میں تاویل و تحریف کر کے قادیانی کہتے ہیں کہ حضورﷺ کے بعد بھی نئے نبی آسکتے ہیں۔ حالانکہ آج تک قادیانی کوئی ایک عبارت بھی ایسی پیش نہیں کر سکے جس میں یہ 4 باتیں پائی جاتی ہوں۔ 1۔ جو عبارات قادیانی پیش کرتے ہیں ان میں حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد کا ذکر نہ ہو۔ 2۔ جو عبارات قادیانی پیش کرتے ہیں ان میں آنخضرت ﷺکی ختم نبوت زمانی کے بعد کسی غیر تشریعی نبی کے اس امت میں پیدا ہونے کی صراحت موجود ہو۔ 3۔ جو عبارات قادیانی پیش کرتے ہیں ان میں محض اجزائے نبوت یعنی سچے خواب وغیرہ یا بعض کمالات نبوت ملنے کا ذکر نہ ہو بلکہ امت کے بعض افراد کے لئے نبوت ملنے کا ذکر ہو۔ 4۔ جو عبارات قادیانی پیش کرتے ہیں ان میں ایسا نہ ہو کہ اس کے سیاق و سباق میں تو ختم نبوت مرتبی کا بیان ہو اور قادیانی اس عبارت کو ختم زمانی کے ذیل میں بیان کررہے ہوں۔ (ختم نبوت زمانی اور ختم نبوت مرتبی کی تفصیل آگے آرہی ہے انشاء اللہ)ہمارا دعوی یہ ہے کہ ان 4 شرطوں کے ساتھ آج تک کوئی قادیانی کسی بھی بزرگ کی کوئی ایک عبارت بھی پیش نہیں کر سکے۔ اور یہ اصول بھی یاد رکھیں کہ جب تک دعوی کرنے والے کے پاس اپنے دعوی پر دلیل موجود نہ ہو تو جس پر دعوی کیا جارہا ہے اس کے ذمے جواب دینا ضروری نہیں ہے۔ "شیخ محی الدین ابن عربی رح کی عبارات پر قادیانی اعتراضات کا علمی تحقیقی جائزہ"قادیانی شیخ محی الدین ابن عربی رح کی عبارات سے بھی دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ بھی حضور ﷺ کے بعد نئے نبیوں کے آنے کے قائل ہیں۔آیئے پہلے شیخ ابن عربی رح کی اس عبارت کا جائزہ لیتے ہیں جو قادیانی بطور اعتراض کے پیش کرتے ہیں۔ قادیانی کہتے ہیں کہ شیخ ابن عربی رح نے لکھا ہے کہ "تشریعی نبوت کا دروازہ بند ہے۔ اور نبی کریم ﷺ نے جو یہ فرمایا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی اور رسول نہیں اس کا مطلب ہے کہ کوئی ایسا نبی نہیں جو میری شریعت کے مخالف ہو۔ اگر کوئی ہوگا تو وہ میری شریعت کے تابع ہوگا" (الفتوحات المکیہ جلد 2 صفحہ 3) ہم قادیانیوں کی طرف سے شیخ ابن عربی رح پر لگائے گئے الزامات کا جواب تو بعد میں دیتے ہیں لیکن پہلے قادیانیوں کو بتاتے چلیں کہ آپ کو ابن عربی رح پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں کیونکہ مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ "شیخ ابن عربی رح پہلے وجودی تھے" (ملفوظات جلد 2 صفحہ 232) اور وجودیوں کے بارے میں مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ "وجودیوں اور دہریوں میں انیس بیس کا فرق ہے یہ وجودی (شیخ ابن عربی رح وغیرہ ) سخت قابل نفرت اور قابل کراہت ہیں" (ملفوظات جلد 4 صفحہ 397) جب مرزاقادیانی کے نزدیک شیخ ابن عربی رح وجودی ، قابل نفرت اور دہریے ہیں تو قادیانی کس منہ سے شیخ ابن عربی رح کی عبارات پیش کرتے ہیں اور دھوکہ دیتے ہیں؟؟؟اب قادیانیوں کی پیش کردہ عبارت کے جوابات بھی ملاحظہ فرمائیں ۔ جواب نمبر 1 شیخ ابن عربی رح نے لکھا ہے کہ "جو وحی نبی اور رسول کے ساتھ خاص تھی کہ فرشتہ ان کے کان یا دل پر (وحی لے کر) نازل ہوتا تھا ۔ وہ وحی بند ہوچکی۔ اور اب کسی کو نبی یا رسول کا نام دینا ممنوع ہوچکا۔ (الفتوحات المکیہ جلد 2 صفحہ 253) اس عبارت سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ابن عربی رح کے نزدیک حضور ﷺ کے بعد وحی رسالت تاقیامت منقطع ہے۔ اب کسی کو نبی یا رسول نہیں کہ سکتے۔ جواب نمبر 2 شیخ ابن عربی رح نے لکھا ہے کہ "وحی کا سلسلہ حضور ﷺ کی وفات کے ساتھ ہی ختم ہوگیا۔۔۔۔ سیدنا عیسی علیہ السلام جب اس امت کی قیادت کریں گے تو ہماری شریعت کے مطابق عمل کریں گے ۔ آپ جب نازل ہوں گے تو آپ کے لئے مرتبہ کشف بھی ہوگا اور الہام بھی۔ جیسا کہ یہ مقام (اولیاء) امت کے لئے ہے" (الفتوحات المکیہ جلد 3 صفحہ 238)اس عبارت میں تو شیخ ابن عربی رح سیدنا عیسی علیہ السلام کے لئے بھی انبیاء والی وحی کا بند ہونا بیان کررہے ہیں۔ بلکہ ابن عربی رح کے مطابق سیدنا عیسی علیہ السلام کو اولیاء کی طرح کشف اور الہام ہوں گے ۔ جواب نمبر 3 شیخ ابن عربی رح کے نزدیک نبوت کا لفظ لغوی طور پر اولیاء کے مبشرات یا الہام وغیرہ پر بولا جاتا ہے۔ بلکہ ان مبشرات اور الہامات کے جن کو شیخ ابن عربی رح کے نزدیک نبوت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ شیخ ابن عربی رح حیوانوں میں بھی لغوی طور پر نبوت کا لفظ بولتے تھے ۔ جیسا کہ شیخ ابن عربی رح نے لکھا ہے کہ "اور یہ نبوت حیوانات میں بھی جاری ہے جیسا کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے کہ تیرے رب نے شھد کی مکھی کی طرف وحی کی" (الفتوحات المکیہ جلد 2 صفحہ 254) لیجئے شیخ ابن عربی رح تو حیوانات کی وحی کو بھی نبوت کا نام دے رہے ہیں ۔ جیسا کہ قرآن میں ذکر ہے۔ کیا اب قادیانیوں کی بات مان کر حیوانات کو بھی نبی مان لیں؟ ؟ "خلاصہ کلام" خلاصہ کلام یہ ہے کہ شیخ ابن عربی رح کا عقیدہ یہی تھا کہ حضور ﷺ آخری نبی ہیں اور حضور ﷺ کے بعد کسی بھی انسان کو نبی یا رسول نہیں بنایا جائے گا ۔ اور جن مقامات پر ابن عربی رح نے نبوت کا لفظ استعمال کیا ہے وہاں حقیقتا نبوت مراد نہیں ہے بلکہ مجازی طور پر اولیاء کرام کے مبشرات یا الہامات کو نبوت کے لفظ سے بیان کیا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں بھی آتا ہے کہ "نبوت میں مبشرات کے سواء کچھ باقی نہیں " "مولانا قاسم نانوتوی رح کی عبارات پر قادیانی اعتراضات کا علمی تحقیقی جائزہ"مولانا قاسم نانوتوی رح کی عبارات پر جائزہ لینے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ختم نبوت کی کتنی اقسام کو مولانا قاسم نانوتوی رح نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا ہے۔ مولانا قاسم نانوتوی رح نے اپنی کتاب "تحذیر الناس" میں ختم نبوت کی دو اقسام بیان فرمائی ہیں۔ "1۔"ختم نبوت زمانیختم نبوت زمانی کا مطلب ہے کہ جس زمانے میں حضورﷺ تشریف لائے اور آپﷺ کو نبوت ملی۔ اس وقت سے لے کر قیامت تک اب کسی ایک انسان کو بھی نبی یا رسول نہیں بنایا جائے گا۔ اس لحاظ سے آپ ﷺخاتم النبیین ہیں۔ "2۔ "ختم نبوت مرتبیختم نبوت مرتبی کا مطلب یہ ہے کہ حضورﷺ پر اللہ تعالٰی نے تمام مراتب کی انتہا فرمادی۔ اور جتنے مرتبے حضور ﷺ کو ملے ہیں اتنے مرتبے کسی کو بھی اللہ تعالٰی کی طرف سے نہ ملے ہیں اور نہ ملیں گے ۔ اور ختم نبوت مرتبی حضور ﷺ کو اس وقت سے حاصل ہے جب آدم علیہ السلام کا ابھی وجود بھی مکمل پیدا نہیں ہوا تھا۔ (ختم نبوت مرتبی کے بعد کم و بیش ایک لاکھ اور چوبیس ہزار نبی آئے لیکن اس سے حضور اکرم ﷺ کی ختم نبوت مرتبی پر کوئی فرق نہیں پڑا کیونکہ انبیاء کرام علیہم السلام کو نبوت بھی ملنی تھیں اور انہوں نے تبلیغ بھی کرنی تھیں۔ لیکن تمام انبیاء کرام علیہم السلام کا رتبہ حضور ﷺسے کم ہی ہونا تھا۔ اس لئے حضورﷺ کی ختم نبوت مرتبی پر فرق نہیں پڑا ) ایک اور تمہیدی بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ قرآن پاک کی 99 آیات اور 210 سے زائد احادیث مبارکہ حضورﷺ کی ختم نبوت زمانی پر دلیل ہیں۔ یعنی جب حضور ﷺ کا زمانہ نبوت شروع ہوگیا اس کے بعد اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھے کہ مسیلمہ کذاب یا مرزاقادیانی نبی یا رسول ہیں۔ یا ان کے علاوہ بھی کسی کو نبوت مل سکتی ہے تو یہ عقیدہ قرآن و حدیث کے خلاف ہے اور کفر ہے۔ ختم نبوت کی ان دو اقسام کو ذہن میں رکھیں تو قادیانی مولانا قاسم نانوتوی رح کی جو عبارت پیش کرتے ہیں اس عبارت کے بارے میں قادیانی دجل وفریب خود ہی واضح ہوجاتا ہے۔ قادیانی کہتے ہیں کہ مولانا محمد قاسم نانوتوی صاحب نے لکھا ہے کہ"عوام کے خیال میں تو رسول اللہ ﷺ کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ ﷺ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانے کے بعد اور آپ سب میں آخر نبی ہیں مگر اہل فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم یا تاخر زمانے میں بالذات کچھ فضیلت نہیں ۔۔۔ میں جانتا ہوں کہ اہل اسلام سے کسی کو یہ بات گوارا نہ ہوگی ۔۔۔ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلعم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدیہ میں کچھ فرق نہ آئے گا "(تحذیر الناس صفحہ 3، 28)آپ اس تحریر کو غور سے پڑھیں، بار بار پڑھیں لیکن آپ یہی سمجھیں گے کہ واقعی مولانا قاسم نانوتوی رح سے غلطی ہوئی ہے۔ قادیانیوں کے اس اعتراض کے بہت سے جوابات ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں ۔ جواب نمبر 1 اصل بات یہ ہے کہ یہ ایک تحریر نہیں ہے بلکہ 3 مختلف صفحات سے تین باتیں لےکر ان کو جوڑ کر ایک تحریر بنایا گیا ہے۔پہلی عبارت یہ ہے۔"عوام کے خیال میں تو رسول اللہ ﷺ کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ ﷺ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانے کے بعد اور آپ سب میں آخر نبی ہیں مگر اہل فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم یا تاخر زمانے میں بالذات کچھ فضیلت نہیں"اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل فضیلت یہ ہے کہ حضور ﷺ کا مقام و مرتبہ اصل چیز ہے۔ یعنی اصل چیز ختم نبوت مرتبی ہے۔ دوسری عبارت یہ ہے"میں جانتا ہوں کہ اہل اسلام سے کسی کو یہ بات گوارا نہ ہوگی"اس عبارت کے سیاق و سباق کو بالکل ہٹ کر پیش کیا گیاہے۔ کیونکہ اس عبارت سے کچھ بھی پتہ نہیں چلتا کہ کیا بات ہورہی ہے۔ قادیانیوں نے صرف اپنے دجل کو بیان کرنے کے لئے اتنی سی عبارت کو ساتھ جوڑا ہے۔ تیسری عبارت یہ ہے "اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلعم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدیہ ﷺ میں کچھ فرق نہ آئے گا "یہ اصل بات ہے جس کو لے کر قادیانی شور ڈالتے ہیں کہ دیکھو کہ مولانا قاسم نانوتوی رح خود فرما رہے ہیں کہ اگر بالفرض زمانہ نبوی کے بعد بھی کوئی نبی پیدا ہوجائے۔ یعنی مولانا قاسم نانوتوی رح کے نزدیک کسی نئے نبی کا حضور ﷺ کے بعد پیدا ہونا کوئی کفریہ عقیدہ نہیں ہے۔ آیئے قارئین قادیانیوں کے اس دجل کا پردہ بھی چاک کرتے ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ مولانا قاسم نانوتوی رح نے ساری بات فرضیہ طور پر کی ہے ۔ جیسا کہ قرآن پاک میں بھی اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ"لَوۡ کَانَ فِیۡہِمَاۤ اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا ۚ فَسُبۡحٰنَ اللّٰہِ رَبِّ الۡعَرۡشِ عَمَّا یَصِفُوۡنَ ""اگر آسمان اور زمین میں اللہ کے سوا دوسرے خدا ہوتے تو دونوں درہم برہم ہوجاتے ۔ لہذا عرش کا مالک اللہ ان باتوں سے بالکل پاک ہے جو یہ لوگ بنایا کرتے ہیں "(سورۃ الانبیاء آیت نمبر 22) اب اس آیت کو پڑھیں۔ اس آیت میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ اگر دو معبود ہوتے تو زمین و آسمان کا نظام درہم برہم ہوجاتا۔ کیا اس کا مطلب ہے کہ دو معبود بن گئے؟؟ ہرگز نہیں بلکہ اللہ تعالٰی نے بطور مثال یہاں بیان فرمایا ہے ۔ کہ بالفرض اگر دو معبود ہوتے تو زمین و آسمان کا نظام درہم برہم ہوجاتا۔ اسی طرح مولانا قاسم نانوتوی رح نے بھی یہاں بطور مثال بیان کیا ہے کہ بالفرض اگر کوئی نیا نبی پیدا ہوبھی جائے تو حضور ﷺ کو جو مقام و مرتبہ یعنی ختم نبوت مرتبی حاصل ہے۔ اس میں ذرہ برابر بھی فرق نہیں آئے گا بلکہ جس مقام و مرتبے پر آپ ﷺ فائز ہیں۔ وہی حاصل رہے گا۔ اب آپ فیصلہ کریں کہ کیا مولانا قاسم نانوتوی رح ختم نبوت زمانی کے منکر بن رہے ہیں یا ختم نبوت مرتبی کو بیان فرما رہے ہیں؟؟ اصل بات یہ ہے کہ اس جگہ مولانا قاسم نانوتوی رح نے حضور ﷺ کی ختم نبوت مرتبی کو بیان کیا ہے اور قادیانی دجل وفریب کرتے ہوئے اس مثال کو ختم نبوت زمانی پر فٹ کرتے ہیں۔ حالانکہ اوپر آپ پڑھ چکے ہیں کہ مولانا قاسم نانوتوی رح فرماتے ہیں کہ اگر کوئی ختم نبوت زمانی کا منکر ہے یعنی کوئی یہ کہتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے بعد کسی نئے انسان کو نبی یا رسول بنایا گیا ہے تو وہ کافر ہے۔ یہ موضوع تھوڑا سا پچیدہ ہے جب تک کچھ علوم سے شدبد نہ ہو اس وقت تک یہ دقیق علمی بحث سمجھ نہیں آتی ۔ اللہ ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمینجواب نمبر 2 مولانا قاسم نانوتوی رح نے لکھا ہے کہ"“سو اگر اطلاق اور عموم ہے تب تو خاتمیت زمانی ظاہر ہے، ورنہ تسلیم لزوم خاتمیت زمانی بدلالت التزامی ضرور ثابت ہے، ادھر تصریحات نبوی مثل:“انت منی بمنزلة ھارون من موسیٰ الا انہ لا نبی بعدی۔” او کما قال۔جو بظاہر بطرز مذکورہ اسی لفظ خاتم النبیین سے ماخوذ ہے، اس باب میں کافی، کیونکہ یہ مضمون درجہ تواتر کو پہنچ گیا ہے، پھر اس پر اجماع بھی منعقد ہوگیا۔ گو الفاظ مذکور بہ سند تواتر منقول نہ ہوں، سو یہ عدم تواتر الفاظ، باوجود تواتر معنوی یہاں ایسا ہی ہوگا جیسا تواتر اعداد رکعات فرائض و وتر وغیرہ۔ باجودیکہ الفاظ حدیث مشعر تعداد رکعات متواتر نہیں، جیسا اس کا منکر کافر ہے، ایسا ہی اس کا منکر بھی کافر ہوگا۔”(تحذیر الناس طبع جدید ص:18، طبع قدیم ص:10)اس عبارت میں مولانا قاسم نانوتوی رح حضور ﷺ کے بعد کسی نئی نبوت کا دعوی کرنے والے اور اس کو ماننے والے کو کافر قرار دے رہے ہیں۔ اس علاوہ اس عبارت میں صراحت موجود ہے کہ 1۔خاتمیت زمانی یعنی آنحضرت ﷺ کا آخری نبی ہونا، آیت خاتم النبیین سے ثابت ہے۔2۔اس پر تصریحاتِ نبویﷺ متواتر موجود ہیں اور یہ تواتر رکعاتِ نماز کے تواتر کی مثل ہے۔3۔اس پر امت کا اجماع ہے۔4۔اس کا منکر اسی طرح کافر ہے، جس طرح ظہر کی چار رکعت فرض کا منکر۔اتنی وضاحت کے بعد بھی مولانا قاسم نانوتوی رح پر ختم نبوت کا منکر ہونے کا الزام عقل و فہم سے بالاتر ہے۔ جواب نمبر 3 اسی تحذیر الناس میں ہے۔“ہاں اگر بطور اطلاق یا عموم مجاز اس خاتمیت کو زمانی اور مرتبی سے عام لے لیجئے تو پھر دونوں طرح کا ختم مراد ہوگا۔ پر ایک مراد ہو تو شایان شان محمدیﷺ خاتمیت مرتبی ہے نہ زمانی، اور مجھ سے پوچھئے تو میرے خیال ناقص میں تو وہ بات ہے کہ سامع منصف انشاء اللہ انکار ہی نہ کرسکے۔ سو وہ یہ ہے کہ․․․․․”(طبع قدیم ص:9، طبع جدید ص:15)اس کے بعد یہ تحقیق فرمائی ہے کہ لفظ خاتم النبیین سے خاتمیت مرتبی بھی ثابت ہے اور خاتمیت زمانی بھی، اور “مناظرہ عجیبہ” میں جو اسی تحذیر الناس کا تتمہ ہے، ایک جگہ فرماتے ہیں:“مولانا! حضرت خاتم المرسلینﷺ کی خاتمیت زمانی تو سب کے نزدیک مسلّم ہے اور یہ بات بھی سب کے نزدیک مسلّم ہے کہ آپ اول المخلوقات ہیں ․․․․․․ “(صفحہ 9 طبع جدید)اس عبارت میں بھی عقیدہ ختم نبوت کا واضح اظہار موجود ہے۔ جواب نمبر 4 مولانا قاسم نانوتوی رح نے لکھا ہے کہ “اپنا دین و ایمان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی اور نبی کے ہونے کا احتمال نہیں، جو اس میں تامل کرے اس کو کافر سمجھتا ہوں۔”(ص:144)لیجئے آخری حوالے نے تو قادیانی دجل کو پاش پاش کر دیا ۔ "خلاصہ کلام "خلاصہ کلام یہ ہے کہ مولانا قاسم نانوتوی رح عقیدہ ختم نبوت کے قائل بھی ہیں اور منکرین ختم نبوت کو کافر سمجھتے ہیں۔ البتہ "تحذیر الناس " میں مولانا قاسم نانوتوی رح نے یہ بیان فرمایا ہے کہ جس طرح حضور ﷺ کو ختم نبوت زمانی حاصل ہے یعنی حضور ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی پیدا نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح حضور ﷺ کو ختم نبوت مرتبی بھی حاصل ہے۔ یعنی حضور ﷺ جیسا مقام و مرتبہ بھی کسی کو حاصل نہیں ہوسکتا۔ https://khatmnabuwwat.blogspot.com/2017/12/Khatmenabuwatcourse_52.html?m=1
  21. "احتساب قادیانیت" "ختم نبوت کورس" سبق نمبر 9 "قادیانیوں کے عقیدہ ظل و بروز کا علمی تحقیقی جائزہ" مرزاقادیانی نے نئے عقیدہ ظل اور بروز کی بنیاد رکھی۔ دراصل مرزاقادیانی نے عقیدہ ظل اور بروز ہندوؤں کے عقیدہ حلول اور تناسخ سے چوری کیا۔ قادیانیوں کے عقیدہ ظل اور بروز کو سمجھنے سے پہلے ہندوؤں کا عقیدہ حلول اور تناسخ سمجھنا ضروری ہے۔ "ہندوؤں کا عقیدہ تناسخ و حلول" ہندوؤں کا عقیدہ تناسخ اور حلول کا خلاصہ یہ ہے کہ جب بندہ ایک دفعہ مرجاتا ہے تو اس کی روح دوسری دفعہ کسی میں حلول کر جاتی ہے اور اسی انسان کا دوسرا جنم ہوجاتا ہے۔ جو پہلے مرچکا ہوتا ہے۔ لیکن ہندوؤں کے اس عقیدے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جب کوئی انسان دوسری دفعہ جنم لے لیتا ہے تو وہ دوسری دفعہ جنم لے لینے کے بعد پہلے جنم کے والدین کو اپنا والدین نہیں کہ سکتا۔ اور پہلے جنم کی بیوی کو اپنی بیوی نہیں کہ سکتا۔ اور پہلے جنم کے بچوں کو اپنا بچہ نہیں کہ سکتا۔ اسی طرح جس زمین و جائیداد کا پہلے جنم میں وارث اور مالک ہوتا ہے دوسرے جنم میں اس زمین و جائیداد کا وارث اور مالک نہیں کہلاسکتا۔ "مرزاقادیانی کا عقیدہ ظل اور بروز " مرزاقادیانی نے عقیدہ ظل اور بروز کے بارے میں لکھا ہے کہ "اگر کوئی شخص اسی خاتم النبیین میں ایسا گم ہو کہ بباعث نہایت اتحاد اور نفی غیریت کے اسی کا نام پالیا ہو اور صاف آیئنہ کی طرح محمدی چہرہ کا اس میں انعکاس ہوگیا ہو تو وہ بغیر مہر توڑنے کے نبی کہلائے گا۔ کیونکہ وہ محمد ہے گو ظلی طور پر ۔ پس باوجود اس شخص کے دعوی نبوت کے جس کا نام ظلی طور پر محمد اور احمد رکھا گیا ۔ پھر بھی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہی رہا۔ کیونکہ یہ محمد ثانی اسی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر اور اسی کا نام ہے" (روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 209) ایک اور جگہ مرزاقادیانی نے ظل اور بروز کی مزید وضاحت کی ہے۔ مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ "خدا ایک اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کا نبی ہے۔ اور وہ خاتم الانبیاء ہے۔ اور سب سے بڑھ کر ہے۔ اب بعد اس کے کوئی نبی نہیں ۔ مگر وہی جس پر بروزی طور سے محمدیت کی چادر پہنائی گئی۔ جیسا کہ تم آیئنہ میں اپنی شکل دیکھو تو تم دو نہیں ہوسکتے بلکہ ایک ہی ہو۔ اگرچہ بظاہر دو نظر آتے ہیں ۔ صرف ظل اور اصل کا فرق ہے" (روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 16) مرزاقادیانی کی ان تحریرات سے پتہ چلا کہ جو شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع کرے گا اسے نبوت مل جائے گی ۔ مرزاقادیانی کے اس عقیدے کے باطل ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں ۔ ملاحظہ فرمائیں ۔ وجہ نمبر 1 مرزا قادیانی اور قادیانی جماعت یہ کہتی ہے کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع کی جائے تو نبوت ملتی ہے۔ تو ان کا یہ کہنا ہی کفر ہے۔ کیونکہ نبوت کسبی چیز نہیں ہے بلکہ وہبی چیز ہے۔ یعنی نبوت اپنی محنت کرنے اور ارادہ کرنے سے نہیں ملتی بلکہ اللہ تعالٰی جس کو عطا کریں اس کو ملتی ہے۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل آیت میں اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے۔ "وَ اِذَا جَآءَتۡہُمۡ اٰیَۃٌ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ حَتّٰی نُؤۡتٰی مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِیَ رُسُلُ اللّٰہِ ؕ ۘ ؔ اَللّٰہُ اَعۡلَمُ حَیۡثُ یَجۡعَلُ رِسَالَتَہٗ ؕ سَیُصِیۡبُ الَّذِیۡنَ اَجۡرَمُوۡا صَغَارٌ عِنۡدَ اللّٰہِ وَ عَذَابٌ شَدِیۡدٌۢ بِمَا کَانُوۡا یَمۡکُرُوۡنَ " "اور جب ان ( اہل مکہ ) کے پاس ( قرآن کی ) کوئی آیت آتی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ : ہم اس وقت تک ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ اس جیسی چیز خود ہمیں نہ دے دی جائے جیسی اللہ کے پیغمبروں کو دی گئی تھی ۔( حالانکہ ) اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی پیغمبری کس کو سپرد کرے ۔ جن لوگوں نے ( اس قسم کی ) مجرمانہ باتیں کی ہیں ان کو اپنی مکاریوں کے بدلے میں اللہ کے پاس جاکر ذلت اور سخت عذاب کا سامنا ہوگا" (سورۃ الانعام آیت نمبر 124) وجہ نمبر 2 قادیانی کہتے ہیں کہ ظل سائے کو کہتے ہیں اور مرزاقادیانی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتنی کامل اتباع کی کہ مرزاقادیانی نعوذ باللہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ظل بن گیا۔ اور ظلی نبی بن گیا۔ لیکن یہ قادیانیوں کا دھوکہ ہے۔ قادیانی دراصل مرزاقادیانی کو نعوذباللہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جیسا بلکہ نعوذباللہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر درجہ دیتے ہیں۔ سب سے پہلے دیکھتے ہیں کہ مرزاقادیانی نے کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتنی کامل اتباع کی ہے یا ویسے ہی ڈھنڈورا پیٹا ہے کہ میں عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ 1۔ مرزاقادیانی نے حج نہیں کیا ۔ حالانکہ مرزاقادیانی پر حج فرض بھی تھا۔ 2۔ مرزاقادیانی نے ہجرت نہیں کی۔ 3۔ مرزاقادیانی نے جہاد بالسیف نہیں کیا۔ بلکہ الٹا اس کو حرام کہا۔ 4۔ مرزاقادیانی نے کبھی پیٹ پر پتھر نہیں باندھے۔ 5۔ مرزاقادیانی نے کبھی بھی کسی چور کے ہاتھ نہیں کٹوائے۔ حالانکہ مرزاقادیانی کے دور میں کتنی چوریاں ہوئیں ۔ بلکہ الٹا مرزاقادیانی نے لوگوں سے فراڈ کئے ۔ 6۔ مرزاقادیانی نے کسی زانی کو سنگسار نہیں کروایا۔ حالانکہ ہندوستان کے قحبہ خانوں میں زنا ہوتا رہا۔ بلکہ الٹا مرزاقادیانی کے پیروکاروں نے مرزاقادیانی اور اس کے خاندان پر زنا کے الزام لگائے۔ اگر مرزاقادیانی اور قادیانی جماعت نبوت ملنے کے لئے اطاعت کو ہی معیار بناتے ہیں تو مرزاقادیانی تو اس معیار پر بھی پورا نہیں اترتا ۔ وجہ نمبر 3 مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ "خدا ایک اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کا نبی ہے۔ اور وہ خاتم الانبیاء ہے۔ اور سب سے بڑھ کر ہے۔ اب بعد اس کے کوئی نبی نہیں ۔ مگر وہی جس پر بروزی طور سے محمدیت کی چادر پہنائی گئی۔ جیسا کہ تم آیئنہ میں اپنی شکل دیکھو تو تم دو نہیں ہوسکتے بلکہ ایک ہی ہو۔ اگرچہ بظاہر دو نظر آتے ہیں ۔ صرف ظل اور اصل کا فرق ہے" (روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 16) معزز قارئین مرزاقادیانی کا کفر یہاں ننگا ناچ رہا ہے مرزاقادیانی کا یہ کہنا کہ میں ظلی طور پر محمد ہوں اس کا مطلب ہے کہ نعوذباللہ اگر آیئنے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جائے تو وہ مرزاقادیانی نظر آئیں گے ۔ اور جو مرزاقادیانی آیئنے میں نظر آرہا ہے وہ مرزاقادیانی نہیں ہے بلکہ نعوذ باللہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اگر دونوں ایک ہی ہیں تو پھر ظل اور بروز کی ڈھکوسلہ بازی کیوں کرتے ہو؟؟؟ اور یہی کہنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ہے اور کفر ہے۔ وجہ نمبر 4 مرزاقادیانی کے ظل اور بروز کے فلسفے کو مرزاقادیانی کی ہی تحریرات سے باطل ثابت کرتے ہیں۔ 1۔مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ "نقطہ محمدیہ ایسا ہی ظل الوہیت کی وجہ سے مرتبہ الہیہ سے اس کو ایسی ہی مشابہت ہے جیسے آیئنے کے عکس کو اپنی اصل سے ہوتی ہے۔ اور امہات صفات الہیہ یعنی حیات،علم،ارادہ،قدرت، سمع ،بصر کلام مع اپنے جمیع فروع کےاتم و اکمل طور پر اس(آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) میں انعکاس پذیر ہیں" (روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 224) 2۔ مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ "حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وجود ظلی طور پر گویا آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی وجود تھا" (روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 265) 3۔ مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ "خلیفہ دراصل رسول کا ظل ہوتا ہے" (روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 353) 4۔ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ "صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین آنخضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عکسی تصویریں تھے" (روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 21) مرزاقادیانی کے اگر ظل اور بروز کے فلسفے کو تسلیم کرلیں تو پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خدا تسلیم کرنا پڑے گا ۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور تمام خلفائے راشدین کو رسول تسلیم کرنا پڑے گا ۔ اس کے علاوہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین کو بھی رسول تسلیم کرنا پڑے گا ۔ کیا کوئی قادیانی ایسا ایمان رکھتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خدا ہیں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور تمام خلفائے راشدین رسول ہیں اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین رسول ہیں؟؟ اگر مرزاقادیانی کے فلسفے کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے ظل ہوکر بھی خدا نہیں ہوسکتے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر خلفاء رسول اللہ کے ظل ہوکر بھی رسول نہیں ہوسکتے اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عکس ہوکر بھی رسول نہیں ہوسکتے تو مرزاقادیانی کیسے نبی اور رسول ہوسکتا ہے؟؟ ساری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ ظلی اور بروزی نبوت کی اصطلاح صرف لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے ہے۔ حقیقت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ۔ وجہ نمبر 5 قادیانی قرآن پاک کی اس آیت سے استدلال کرکے کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع کرنے سے ظلی نبوت ملتی ہے۔ "وَ مَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیۡقِیۡنَ وَ الشُّہَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیۡنَ ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیۡقًا " اور جو لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے تو وہ ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے ، یعنی انبیاء ، صدیقین ، شہداء اور صالحین ۔ اور وہ کتنے اچھے ساتھی ہیں ۔ (سورۃ النساء آیت نمبر 69) اس آیت میں دراصل اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والے کو یہ خوشخبری ہے کہ وہ جنت میں نبیوں ،صدیقوں، شہداء اور صالحین کے ساتھ ہوگا۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ اگر قادیانی فلسفے کو تسلیم کرلیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع کرنے سے ظلی نبوت مل جاتی ہے تو کیا دوسرے انعام جن کا اس آیت میں ذکر ہے یعنی صدیق،شھید اور صالح ہونا، کیا یہ درجے بھی ظلی طور پر ملتے ہیں یا حقیقی طور پر ملتے ہیں؟؟ کیونکہ اگر قادیانی فلسفے کو تسلیم کیا جائے تو یہ درجے بھی ظلی طور پر ملنے چاہیئں۔ اور اگر یہ درجے حقیقی طور پر ملتے ہیں ظلی طور پر نہیں ملتے تو پھر نبوت کو بھی حقیقی طور پر ملنا چاہیے ۔ حالانکہ شریعت کے ساتھ نبوت کا ملنا اور مستقل نبوت کا ملنا یہ تو قادیانی بھی تسلیم نہیں کرتے۔ تو پتہ چلا کہ قادیانیوں کا ظل اور بروز کا فلسفہ محض ایک ڈھکوسلاہے۔ حقیقت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ۔ وجہ نمبر 6 مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ "صدہا لوگ ایسے گزرے ہیں جن میں حقیقت محمدیہ متحقق تھی اور عنداللہ ظلی طور پر ان کا نام محمد یا احمد تھا" (روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 346) جبکہ دوسری جگہ مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ "نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں۔اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں" (روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 406) مرزاقادیانی کی ان تحریرات سے پتہ چلا کہ امت محمدیہ میں سینکڑوں لوگ ایسے گزرے ہیں جو ظلی طور پر محمد یا احمد تھے لیکن نبی نہیں تھے۔ اور نہ انہوں نے نبوت کا دعوی کیا اور نہ اپنی علیحدہ جماعت بنائی اور نہ ہی اپنے منکرین کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ۔ عجیب بات تو یہ ہے کہ اتنے بڑے بڑے متبعین خدا و رسول تو اس نعمت سے محروم رہے اور مرزاقادیانی جیسا کوڑھ مغز آدمی ظلی نبی بن گیا بلکہ ظلی نبی کے ساتھ حقیقی نبی بن گیا ۔ وجہ نمبر 7 مرزا قادیانی نے ظل اور بروز کا عقیدہ ہندوؤں کے عقیدہ تناسخ و حلول سے چوری کرکے لیا۔ ہندوؤں کا عقیدہ تناسخ اور حلول کا خلاصہ یہ ہے کہ جب بندہ ایک دفعہ مرجاتا ہے تو اس کی روح دوسری دفعہ کسی میں حلول کر جاتی ہے اور اسی انسان کا دوسرا جنم ہوجاتا ہے۔ جو پہلے مرچکا ہوتا ہے۔ لیکن ہندوؤں کے اس عقیدے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جب کوئی انسان دوسری دفعہ جنم لے لیتا ہے تو وہ دوسری دفعہ جنم لے لینے کے بعد پہلے جنم کے والدین کو اپنا والدین نہیں کہ سکتا۔ اور پہلے جنم کی بیوی کو اپنی بیوی نہیں کہ سکتا۔ اور پہلے جنم کے بچوں کو اپنا بچہ نہیں کہ سکتا۔ اسی طرح جس زمین و جائیداد کا پہلے جنم میں وارث اور مالک ہوتا ہے دوسرے جنم میں اس زمین و جائیداد کا وارث اور مالک نہیں کہلاسکتا۔ لیکن مرزاقادیانی نے ہندوؤں کے اس عقیدہ تناسخ اور حلول کا بھی بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا ۔ مرزاقادیانی نے جس شخص کو دوسرے کا ظل بنایا اس کو پہلے شخص کا وارث بھی بنادیا۔ مرزاقادیانی اپنے آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ظل کہتا ہے۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کو ام المومنین کہا جاتا ہے۔ جبکہ مرزاقادیانی کے پیروکار بھی مرزاقادیانی کی بیوی کو ام المومنین کہتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ کی طرح مرزاقادیانی اپنے مریدوں کو صحابی کہتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح مرزاقادیانی بھی اپنے آپ کو نبی اور رسول کہتا ہے اور نہ ماننے والوں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ مرزاقادیانی نے ظل اور بروز کا عقیدہ چوری تو ہندوؤں کے عقیدہ حلول اور تناسخ سے کیا ۔ لیکن ہندوؤں کے عقیدے کا بھی بیڑہ غرق کر دیا ۔ وجہ نمبر 8 مرزاقادیانی اور اور قادیانی جماعت کی تحریرات ملاحظہ فرمائیں اور خود فیصلہ کریں کہ کیا ظل اور بروز کا فلسفہ انسانی عقل اور فہم میں آتا ہے؟؟ 1۔ مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ "محمد رسول اللہ والذین معہ" (سورۃ الفتح آیت نمبر 29) اس وحی الہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔ (روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 207) 2۔ مرزاقادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد نے لکھا ہے کہ "پس مسیح موعود (مرزاقادیانی ) خود محمد رسول اللہ ہے۔ جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے" (کلمتہ الفصل صفحہ 158) 3۔ قادیانی اخبار الفضل میں لکھا ہے کہ "مسیح موعود(مرزاقادیانی) کا آنا بعینیہ محمد رسول اللہ کا دوبارہ آنا ہے۔ یہ بات قرآن سے صراحتہ ثابت ہے کہ محمد رسول اللہ دوبارہ مسیح موعود(مرزاقادیانی) کی بروزی صورت اختیار کر کے آئیں گے" (الفضل جلد 2 نمبر 24) 4۔ قادیانی اخبار الفضل میں لکھا ہے کہ "پھر مثیل اور بروز میں بھی فرق ہے۔ بروز میں وجود بروزی اپنے اصل کی پوری تصویر ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ نام بھی ایک ہوجاتا ہے۔۔۔ بروز اور اوتار ہم معنی ہیں" (الفضل 20 اکتوبر 1931ء) 5۔ قادیانی اخبار الفضل میں لکھا ہے کہ "میں احمدیت میں بطور بچہ تھا جو میرے کانوں میں یہ آواز پڑی ۔ مسیح موعود محمد است و عین محمد است" (الفضل 17 اگست 1915ء) 6۔ مرزاقادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد نے لکھا ہے کہ "اس میں کیا شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالٰی نے پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اتارا" (کلمتہ الفصل صفحہ 105) مرزا قادیانی اور دوسرے قادیانیوں کی ان تحریرات سے پتہ چلتا ہے کہ نعوذ باللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور مرزاقادیانی ایک ہی ہیں۔ اس کی 3 صورتیں ہیں۔ 1۔ پہلی صورت یہ ہے کہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک اور روح مبارک نعوذ باللہ مرزاقادیانی کی شکل میں دوبارہ دنیا میں تشریف لائے ؟ یہ صورت تو غلط ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک تو مدینہ شریف میں روضہ مبارک میں مدفون ہے۔ 2۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کیا نعوذباللہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک مرزاقادیانی کے جسم میں حلول کر گئی ؟ یہ صورت بھی غلط ہے کیونکہ یہ عقیدہ تو ہندوؤں کا ہے کہ ایک فوت شدہ انسان دوسرے جنم میں آتا ہے۔ یہ ہندوؤں کا عقیدہ تو ہوسکتا ہے لیکن اسلام میں اس عقیدے کی کوئی گنجائش نہیں ۔ کیونکہ یہ عقیدہ قرآن و حدیث کے صراحتہ خلاف ہے۔ 3۔ اس کی تیسری صورت یہ ہے کہ نعوذ باللہ مرزاقادیانی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف و کمالات ہوں۔ یہ صورت بھی غلط ہے کیونکہ 1۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم امی تھے اور مرزاقادیانی کئی کتابوں کا مصنف تھا۔ 2۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم عربی تھے اور مرزاقادیانی عجمی تھا۔ 3۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم قریشی تھے اور مرزاقادیانی مغل قوم سے تعلق رکھتا تھا ۔ 4۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم دنیاوی لحاظ سے بےبرگ و بےنوا تھے جبکہ مرزاقادیانی کو رئیس قادیان کہلانے کا شوق تھا۔ 5۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مدنی زندگی کے 10 سالوں میں سارا عرب زیرنگیں کرلیا تھا۔ جبکہ مرزاقادیانی غلامی کی زندگی کو پسند کرتا تھا ۔ اور جہاد اور فتوحات کا قائل نہیں تھا۔ 6۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اسلام کو آزادی کا مترادف قرار دیا گیا ہے۔ اور مرزاقادیانی کے ہاں اسلام غلامی کا مترادف ہے۔ 7۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کی گواہی غیروں نے بھی دی تھی ۔ جبکہ مرزاقادیانی کو آج تک قادیانی سچا ثابت نہیں کر سکے۔ 8۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کردار ایسا پاکیزہ اور صاف ستھرا تھا کہ غیر بھی اس پر انگلی نہیں اٹھا سکے۔ اور مرزاقادیانی کا کردار ایسا ہے کہ خود مرزاقادیانی کے ماننے والے مرزا قادیانی پر زنا کے الزام لگاتے رہے ۔ 9۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مالی معاملات اور حقوق العباد کی ادائیگی میں بےمثال زندگی دنیا بھر کے لئے نمونہ ہے۔ جبکہ مرزاقادیانی کی خیانت اور لوگوں کے حقوق ادا نہ کرنا آج بھی قادیانیوں کے لئے پریشانی کا باعث ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور مرزاقادیانی میں نہ وحدت جسم ہے اور نہ وحدت روح ہے۔ اور نہ ہی وحدت کمالات ہے اور نہ ہی وحدت اوصاف ہے۔ پھر یہ کیسے تسلیم کر لیا جائے کہ نعوذباللہ مرزاقادیانی حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہے ۔ اور نعوذ باللہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی دوبارہ مرزاقادیانی کی شکل میں آ گئے ہیں۔ وجہ نمبر 9 مرزاقادیانی نے جو ظل اور بروز کا عقیدہ گھڑا ہے یہ عقیدہ نہ قرآن کی کسی آیت سے ثابت ہے اور نہ کسی حدیث سے ثابت ہے۔ بلکہ یہ عقیدہ ہندوؤں کے عقیدہ حلول اور تناسخ سے چوری شدہ ہے۔ اس لئے ایسا عقیدہ جو اسلام کے بنیادی عقیدے کے ہی خلاف ہو وہ کیسے صحیح ہوسکتا ہے۔ "خلاصہ کلام " ساری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ مرزاقادیانی کا عقیدہ ظل و بروز قرآن و احادیث کے خلاف ہے۔ ہندوؤں کے عقیدہ حلول اور تناسخ سے چوری کیا گیا ہے۔ اور خود مرزاقادیانی کی تحریرات سے بھی باطل ثابت ہوتا ہے۔ اور یہ ایسا جھوٹا عقیدہ ہے جو عقل و فہم سے بھی بالاتر ہے۔ https://khatmnabuwwat.blogspot.com/2017/12/Khatmenabuwatcourse_19.html?m=1
×
×
  • Create New...