Jump to content
IslamicTeachings.org

Search the Community

Showing results for tags 'qadianiat'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • WORK ROOM
  • HELP FORUM
    • Online Learning Resources
    • Announcements / Questions / Feedback
    • New Muslim?
    • Non-Muslims
  • GENERAL ISLAMIC DISCUSSIONS
    • General Islamic Discussions
  • FIQH & AQEEDAH
    • Hanafi Fiqh (General)
    • Hanafi Fiqh (Women)
    • Aqeedah (Beliefs)
    • Madhabs & Taqleed
  • SPIRITUALITY / INSPIRATION
    • Tazkiyah / Tasawwuf
    • Matters of the Heart
    • Inspiring Quotes & Poems
    • Inspiring Stories
    • For the Muslimah
  • GENERAL LIBRARY
    • Ramadhaan
    • Hajj/Umrah
    • Qur’an
    • Hadith
    • Prophets, History & Biographies
    • Muhammad (Sallallaahu 'alayhi wasallam)
    • Du’as for Various Occasions
    • General Islamic Articles
    • Marriage & Family
    • Health
    • Topics in Languages other than English
  • FAMILY
  • BOOKS / AUDIO LIBRARY
    • Islamic Books
    • Audio (Islamic Lectures)

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Website URL


Yahoo


Skype


Location


Interests

Found 2 results

  1. قادیانیوں سے میل جول اور کھانے پینے کا حکم :س اگرکوئی قادیانی کلاس میں پڑھتاہو یاکوئی رشتہ دارقادیانی ہو تواس سے بات کرنایااس کے گھر جاناکیساہے ؟ اوراس کے ساتھ کھاناکھاناکیساہے ؟ :ج قادیانی شریعت وآئین کی روسے دائرہ اسلام سے خارج ہیں،بوقت ضرورت ان سے کلام ،گفتگودرست ہے۔البتہ دوستی اوریارانہ رکھناخطرناک ہے۔نیزقادیانیوں کے ہاں کھاناپینابھی ٹھیک نہیں ہے۔ :مفتی اعظم ہندمفتی کفایت اللہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں "اگردین کوفتنے سے محفوظ رکھناچاہتے ہوں تو (قادیانیوں سے )قطع تعلق کرلیناچاہیئے،ان سے رشتہ ناتا کرنا ان کے ساتھ خلط ملط رکھناجس کادین اور عقائد پر اثر پڑے ناجائز ہے.............اور قادیانیوں کے ساتھ کھانا پینا رکھنا خطرناک ہے۔" 1/325،دارالاشاعت)فقط واللہ اعلم) http://www.banuri.edu.pk/readquestion/قادیانیوں-سے-میل-جول-اور-کھانے-پینے-کا-حکم/2016-03-28
  2. "احتساب قادیانیت" "ختم نبوت کورس" سبق نمبر 1 "عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت" عقیدہ ختم نبوت کیا ہے؟ عقیدہ ختم نبوت کا مطلب یہ ہے کہ نبیوں کی تعداد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے پوری ہوچکی ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت اور رسالت ختم ہوچکی ہے۔ اب تاقیامت کوئی نیا نبی یا رسول نہیں آئے گا ۔ "قرآن مجید کا اسلوب " قرآن مجید نے جہاں اللہ تعالٰی کی وحدانیت، فرشتوں پر ایمان ،قیامت پر ایمان کو جزو ایمان قرار دیا ہے۔ وہاں سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام کی نبوت و رسالت پر ایمان بھی ایمان کا جزو قرار دیا ہے۔ لیکن پورے قرآن میں ایک جگہ بھی یہ نہیں فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کسی نئے نبی کی وحی یا نبوت پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ نبوت و رسالت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کے بعد منقطع ہوچکی ہے۔ اب تاقیامت کوئی نیا نبی یا رسول نہیں آئے گا ۔ کیونکہ اگر کسی نئے نبی یا رسول نے آنا ہوتا تو قرآن جیسی جامع کتاب میں اس کا ذکر ضرور موجود ہوتا۔ اب ہم چند آیات آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں جن میں سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام اور ان پر ہونے والی وحی پر ایمان لانے کا ذکر ہے۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نئے نبی پر ہونے والی وحی پر یا نئے نبی کی نبوت پر ایمان لانے کا کوئی ذکر اشارتہ، کنایتہ بھی نہیں ہے۔ آیت نمبر 1 وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ وَ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ یُوۡقِنُوۡنَ ؕ۔ (سورۃ البقرۃ آیت نمبر 2) (اور جو اس ( وحی ) پر بھی ایمان لاتے ہیں جو آپ پر اتاری گئی اور اس پر بھی جو آپ سے پہلے اتاری گئی ۔اور آخرت پر وہ مکمل یقین رکھتے ہیں ) آیت نمبر 2 لٰکِنِ الرّٰسِخُوۡنَ فِی الۡعِلۡمِ مِنۡہُمۡ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ وَ الۡمُقِیۡمِیۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ الۡمُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ اُولٰٓئِکَ سَنُؤۡتِیۡہِمۡ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ۔ (سورۃ النساء آیت نمبر 162) (البتہ ان ( بنی اسرائیل ) میں سے جو لوگ علم میں پکے ہیں اور مومن ہیں وہ اس ( کلام ) پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو ( اے پیغمبر ) تم پر نازل کیا گیا اور اس پر بھی جو تم سے پہلے نازل کیا گیا تھا اور قابل تعریف ہیں وہ لوگ جو نماز قائم کرنے والے ہیں ، زکوٰۃ دینے والے ہیں اور اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم اجر عظیم عطا کریں گے ) آیت نمبر 3 وَ لَقَدۡ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ وَ اِلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ لَئِنۡ اَشۡرَکۡتَ لَیَحۡبَطَنَّ عَمَلُکَ وَ لَتَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ۔ (سورۃ الزمر آیت نمبر 65) (اور یہ حقیقت ہے کہ تم سے اور تم سے پہلے تمام پیغمبروں سے وحی کے ذریعے یہ بات کہہ دی گئی تھی کہ اگر تم نے شرک کا ارتکاب کیا تو تمہارا کیا کرایا سب غارت ہوجائے گا ۔ اور تم یقینی طور پر سخت نقصان اٹھانے والوں میں شامل ہوجاؤ گے) آیت نمبر 4 قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ ہَلۡ تَنۡقِمُوۡنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡنَا وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلُ ۙ وَ اَنَّ اَکۡثَرَکُمۡ فٰسِقُوۡنَ۔ (سورۃ المائدہ آیت نمبر 59) (تم ( ان سے ) کہو کہ : اے اہل کتاب ! تمہیں اس کے سوا ہماری کون سی بات بری لگتی ہے کہ ہم اللہ پر اور جو کلام ہم پر اتارا گیا اس پر اور جو پہلے اتارا گیا تھا اس پر ایمان لے آئے ہیں ، جبکہ تم میں سے اکثر لوگ نافرمان ہیں؟) آیت نمبر 5 کَذٰلِکَ یُوۡحِیۡۤ اِلَیۡکَ وَ اِلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۙ اللّٰہُ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ(سورۃ الشوری آیت نمبر 3) ( اے پیغمبر ) اللہ جو عزیز و حکیم ہے ، تم پر اور تم سے پہلے جو ( پیغمبر ) ہوئے ہیں ، ان پر اسی طرح وحی نازل کرتا ہے ) ان تمام آیات میں بلکہ پورے قرآن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نازل ہونے والی وحی کا ہی ذکر ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نئے نبی پر نازل ہونے والی وحی کا ذکر نہیں۔ عقیدہ ختم نبوت اتنا ضروری اور اہم عقیدہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے عالم ارواح میں، عالم دنیا میں، عالم برزخ میں، عالم آخرت میں، حجتہ الوداع کے موقع پر ،درود شریف میں اور معراج کے موقع پر اس کا تذکرہ کروایا۔ "عالم ارواح میں عقیدہ ختم نبوت کا تذکرہ " وَ اِذۡ اَخَذَ اللّٰہُ مِیۡثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیۡتُکُمۡ مِّنۡ کِتٰبٍ وَّ حِکۡمَۃٍ ثُمَّ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمۡ لَتُؤۡمِنُنَّ بِہٖ وَ لَتَنۡصُرُنَّہٗ ؕ قَالَ ءَاَقۡرَرۡتُمۡ وَ اَخَذۡتُمۡ ؕ عَلٰی ذٰلِکُمۡ اِصۡرِیۡ ؕ قَالُوۡۤا اَقۡرَرۡنَا ؕ قَالَ فَاشۡہَدُوۡا وَ اَنَا مَعَکُمۡ مِّنَ الشّٰہِدِیۡنَ۔ (آل عمران آیت نمبر 81) (اور ( ان کو وہ وقت یاد دلاؤ ) جب اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا تھا کہ : اگر میں تم کو کتاب اور حکمت عطا کروں ، پھر تمہارے پاس کوئی رسول آئے جو اس ( کتاب ) کی تصدیق کرے جو تمہارے پاس ہے ، تو تم اس پر ضرور ایمان لاؤ گے ، اور ضرور اس کی مدد کرو گے ۔ اللہ نے ( ان پیغمبروں سے ) کہا تھا کہ : کیا تم اس بات کا اقرار کرتے ہو اور میری طرف سے دی ہوئی یہ ذمہ داری اٹھاتے ہو؟ انہوں نے کہا تھا : ہم اقرار کرتے ہیں ۔ اللہ نے کہا : تو پھر ( ایک دوسرے کے اقرار کے ) گواہ بن جاؤ ، اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہی میں شامل ہوں) اس آیت کریمہ میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا ذکر ہے کہ اگر وہ آخری نبی کسی دوسرے نبی کے زمانہ نبوت میں آ گئے تو اس نبی کو اپنی نبوت چھوڑ کر نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنی پڑے گی ۔ یعنی عالم ارواح میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا تذکرہ ہورہا ہے۔ "عالم دنیا میں عقیدہ ختم نبوت کا تذکرہ" عالم دنیا میں سب سے پہلے سیدنا آدم علیہ السلام پیدا ہوئے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "انی عنداللہ مکتوب خاتم النبیین وان آدم لمنجدل فی طیینتہ" میں اس وقت بھی ( لوح محفوظ ) میں آخری نبی لکھا ہوا تھا جب آدم علیہ السلام ابھی گارے میں تھے۔ (مشکوۃ صفحہ 513 ، کنزالعمال حدیث نمبر 31960) اللہ تعالٰی نے دنیا میں جس نبی کو بھی بھیجا اس کے سامنے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کا ذکر یوں فرمایا ۔ "لم یبعث اللہ نبیا آدم ومن بعدہ الا اخذ اللہ علیہ العھد لئن بعث محمد صلی اللہ علیہ وسلم وھو حی لیومنن بہ ولینصرنہ " حق تعالی نے انبیاء کرام علیہم السلام میں سے جس کو بھی مبعوث فرمایا تو یہ عہد ان سے ضرور لیا کہ اگر ان کی زندگی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئیں تو وہ ان پر ایمان لائیں اور ان کی مدد کریں۔ (ابن جریر جلد 3 صفحہ 232) اس کے علاوہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "بین کتفی آدم مکتوب محمد رسول اللہ خاتم النبیین" آدم علیہ السلام کے دونوں کندھوں کے درمیان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی لکھا ہوا تھا ۔ (خصائص الکبری جلد 1 صفحہ 19) اس کے علاوہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لما نزل آدم بالھند واستوحش فنزل جبرائیل ۔ فنادی باالاذان اللہ اکبر مرتین۔ اشھد ان لا الہ الااللہ مرتین۔ اشھد ان محمد الرسول اللہ مرتین۔ قال آدم من محمد۔ فقال ھو آخر ولدک من الانبیاء ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدم علیہ السلام جب ہند میں نازل ہوئے تو ان کو (بوجہ تنہائی) وحشت ہوئی تو جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور اذان پڑھی۔ اللہ اکبر 2 بار پڑھا ۔ اشھد ان لا الہ الااللہ 2 بار پڑھا ۔ اشھد ان محمد الرسول اللہ 2 بار پڑھا۔ آدم علیہ السلام نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی جماعت میں سے آپ کے آخری بیٹے ہیں۔ (کنزالعمال حدیث نمبر 32139) "عالم برزخ یعنی عالم قبر میں عقیدہ ختم نبوت کا تذکرہ" قبر میں جب فرشتے مردے سے سوال کریں گے کہ تیرا رب کون ہے اور تیرا دین کیا ہے اور تیرے نبی کون سے ہیں۔ تو مردہ جواب دے گا کہ ربی اللہ وحدہ لاشریک لہ الاسلام دینی محمد نبی وھو خاتم النبیین فیقولان لہ صدقت۔ میرا رب وحدہ لاشریک ہے ۔ میرا دین اسلام ہے ۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم میرے نبی ہیں اور وہ آخری نبی ہیں۔ یہ سن کر فرشتے کہیں گے کہ تو نے سچ کہا ۔ (تفسیر درمنثور جلد 6 صفحہ 165) "عالم آخرت میں بھی عقیدہ ختم نبوت کا تذکرہ" "عن ابی ھریرۃ فی حدیث الشفاعتہ فیقول لھم عیسی علیہ السلام ۔۔۔‏‏‏‏‏‏اذْهَبُوا إِلَى مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَيَأْتُونَ مُحَمَّدًا، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُونَ:‏‏‏‏ يَا مُحَمَّدُ، ‏‏‏‏‏‏أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَخَاتِمُ الْأَنْبِيَاءِ" (بخاری حدیث نمبر 4712) (حضرت ابو ھریرۃ رضی اللہ عنہ سے ایک طویل روایت میں ذکر کیا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ جب لوگ حضرت عیسی علیہ السلام سے قیامت کے روز شفاعت کے لئے عرض کریں گے تو وہ کہیں گے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاو ۔ لوگ میرے پاس آیئں گے اور کہیں گے اے اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی) لیجئے قیامت کے دن بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا تذکرہ ہوگا۔ "حجتہ الوداع میں ختم نبوت کا تذکرہ" "عن ابی امامتہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی خطبتہ یوم حجتہ الوداع ایھاالناس انہ لانبی بعدی ولا امتہ بعدکم" (حضرت ابوامامتہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیے اپنے خطبہ حجتہ الوداع میں فرمایا اے لوگو! نہ میرے بعد کوئی نبی ہوگا اور نہ تمہارے بعد کوئی امت ہوگی) (منتخب کنزالعمال برحاشیہ مسند احمد جلد 2 صفحہ صفحہ 391) :خلاصہ ساری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ نبیوں کی تعداد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے پوری ہوچکی ہے۔ ختم نبوت کا عقیدہ اتنا ضروری اور اہم عقیدہ ہےکہ عالم ارواح ہو یا عالم دنیا ،عالم برزخ ہو یا عالم آخرت ، ہر جگہ اللہ تعالٰی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کے تذکرے کروائے ہیں۔ .اگلے سبق میں ہم عقیدہ ختم نبوت پر قرآنی دلیل کا جائزہ لیں گے
×
×
  • Create New...