Jump to content
IslamicTeachings.org
Bint e Aisha

باب العبر

Recommended Posts

#پہلی_قسط

📬 💌 باب العبر 💌 📬
╮•┅══ـ❁🏕❁ـ══┅•╭

حرفِ آغاز:
عام طور پر لوگوں کا مزاج یہ بن گیا ہے کہ ان کی اصلاح ورہنمائی کے لئے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے واقعات بیان کرو تو کہتے ہیں:
”یہ تو انبیاء کرام کے قصے ہیں-“
صحابہ کرام رضی اللہ عنهم کا تذکرہ کرو تو جواب ملتا ہے:
”اجی وہ تو صحابہ کرام تهے-“
اولیاء کرام رحمهم الله تعالٰی کا ذکر کیا جائے تو جواب یہ ہوتا ہے:
”صاحب! وہ تو اولیاء اللہ تهے، ہم ان تک کیسے پہنچ سکتے ہیں؟“
"وہ پرانے لوگ تهے جو کر گئے کر گئے، اب ان جیسی زندگی بنانا کسی کے بس میں نہیں-"
یہ بموجبِ نصِ قرآن:
لا َیُکَلِّفُ اللہ ُنَفْسًا اِلا َّوُسْعَهَا (٢-٢٨٦)
"اللہ تعالٰی کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں بناتے-"
الله تعالٰی پر الزام ہے، جس سے کفر کا اندیشہ ہے، الله تعالٰی نے قرآن کریم میں ان قدسی حضرات کے واقعات وحالات بیان ہی اس لئے فرمائے ہیں کہ امت ان سے ہدایت حاصل کرے، جو شخص نہ کسی نبی کی زندگی کا اتباع کرنے کو تیار ہے، نہ کسی صحابی اور ولی کی- اس کے لیے قابلِ اتباع پهر شیطان ہی رہ جاتا ہے-
اللہ تعالٰی کا اپنے بندوں پر احسانِ عظیم اور بے انتہا شفقت ہے کہ ہر دور میں ایسے لوگ کثیر تعداد میں موجود رہے ہیں جو ان حضرات کا کامل اتباع کر کے اتمامِ حجت کرتے رہے ہیں، زیرِ نظر کتاب "باب العبر" میں اس پُرفتن دور کے ان خوش قسمت لوگوں کے حالات ہیں جن کو حضرتِ اقدس کی صحبت کی برکت سے وہ قوت وہمت حاصل ہوئی کہ انہوں نے نفس وشیطان اور بے دین ماحول و معاشرہ کے خلاف جہاد کر کے دین پر عمل کرنے کو ممکن ثابت کر دیا، کسی کو یہ کہنے کا منہ نہ رہا کہ اس زمانے میں اوامر کا بجا لانا اور نواہی سے بچنا کسی کے بس کی بات نہیں-
یہ کتاب در حقیقت حضرت اقدس دامت برکاتهم کی سوانح حیات "انوار الرشید" جلد ثانی کا ایک باب ہے، "انوار الرشید" پانچ جلدوں میں ہے، اس میں سے اس باب کو الگ شائع کرنے میں مندرجہ ذیل فوائد پیشِ نظر ہیں:
(۱) اس کا فائدہ زیادہ سے زیادہ عام ہو-
(۲) قارئین کے سامنے یہ بات آ جائے کہ اس گئے گزرے دور میں بھی اللہ تعالٰی کے ایسے برگزیدہ بندے موجود ہیں جن کی صحبت کی تاثیر سے زندگی کی کایا پلٹ جاتی ہے اور معاصی و منکرات سے حفاظت کی بدولت یہ دنیا جنت کا نمونہ بن جاتی ہے-
(۳) قارئین بدعات و رسومات اور دیگر منکرات سے بچنے والے لوگوں کے حالات پڑھ کر ان کے وسیلہ سے دعاء کریں:
"یا اللہ! تیری جو رحمت تیرے ان بندوں کی طرف متوجہ ہوئی، ہماری طرف بهی متوجہ فرما-"
(۴) آج کل بہت سے دین دار کہلانے والے لوگ بهی بہت سی بدعات ومنکرات میں مبتلا ہیں اور ان کو معلوم بھی نہیں کہ یہ بدعت یا گناہ ہے- ان کو اس کا علم ہو جائے-
(۵) اپنے ہی جیسے گناہوں کے تقاضے رکهنے والے اور اسی ماحول ومعاشرہ میں شب وروز کے تمام امور انجام دینے والے لوگوں کے حالات دیکھ کر بے ہمت کی ہمت بلند ہو، کم حوصلہ کا حوصلہ بڑهے اور غافل کو اصلاح کی فکر پیدا ہو-

تجھ کو جو طریقِ عشق پہ چلنا دشوار ہے
تو ہی ہمت ہار ہے ہاں تو ہی ہمت ہار ہے

ہر قدم پہ تو جو رہرو کها رہا ہے ٹھوکریں
لنگ خود تجھ میں ہے ورنہ راستہ ہموار ہے
 ❁ ❁ ❁ ـ ❁ ❁ ❁
طالب تیری مجذوب اگر تام ہو
ابهی زیبِ پہلو دل آرام ہو

یہ کوشش جو تیری ہے کوشش نہیں
وہ کوشش ہی کب ہے جو ناکام ہو
 ❁ ❁ ❁ ـ ❁ ❁ ❁ 
تمہیں بیٹهے جو دیکها تو کوئی پیر ِمغاں دیکها
تمہیں چلتے جو پایا تو جوانوں سے جواں دیکها

نہیں دیکها کوئی تم سا بہت دنیا جہاں دیکها
تمہارے حسن میں میں نے عجم نوری سماں دیکها

ہزاروں دل کئے سیراب تیری مست آنکھوں نے
 تیرے ہی روپ میں سب نے مسیحائے زماں دیکها

جو اہلِ باطل وشیطاں کے دل کو بهی جلا ڈالے
تمہارے وعظ میں ہم نے وہی آتش فشاں دیکها

تو فقہِ ظاہر و باطن کا ایسا شمسِ کامل ہے
ستارے ماند پڑتے ہیں جہاں تجھ کو عیاں دیکها

"عمَر" کے زور سے باطل پہ سناٹا رہا ہر دم
قلم میں آپ کے سب نے وہی تاب و تواں دیکها

یہ عالَم آج تو تیری محبت میں مٹا ایسا
تمہی کو دل، تمہی کو جاں، تمہی کو جانِ جاں دیکها

(جاری ہے)

Share this post


Link to post
Share on other sites

#دوسری_قسط

📬 💌 باب العبر 💌 📬
╮•┅══ـ❁🏕❁ـ══┅•╭

❁باب العبر❁
عام طور پر علماء ومشائخ اپنی تقاریر اور مجالس میں اعمال اور اذکار واوراد کے فضائل ہی بیان کرنے پر قناعت کرتے ہیں اور مختلف پریشانیوں اور آفتوں کا علاج مختلف وظائف اور کچھ سورتوں کا پڑھ لینا بتا دیتے ہیں،  یہی وجہ ہے کہ لوگ جِنّات بهگانے کے لیے اور مصائب وآفات سے بچنے کے لیے قرآن خوانیوں کی مجالس تو کرتے ہیں لیکن قرآن کریم کے احکام کی علانیہ بغاوت کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ مصائب اور پریشانیوں کے جال میں اور زیادہ پهنستے چلے جاتے ہیں-
مصائب اور پریشانیوں کا جو علاج اللہ تعالٰی اور اس کے رسول ﷺ نے بیان فرمایا ہے اسے نہ اس دور کے علماء ومشائخ بیان فرماتے ہیں اور نہ عوام کی توجہ اس علاج کی طرف ہوتی ہے جب کہ اللہ تعالٰی کا واضح اعلان ہے کہ سکونِ قلب اور دنیا میں راحت وسرور صرف اسے ہی نصیب ہوگا جو اپنی زندگی اللہ تعالٰی کی مرضی کے مطابق گزارے گا اس کی بغاوت اور نافرمانیوں سے دور رہے گا-
ہمارے معاشرے میں الحاد وبے دینی اور منکرات کے پھیلنے کی وجہ یہ ہے کہ علماء ومشائخ نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کو ترک کر رکها ہے- قرآنِ کریم میں ہے کہ علماء بنی اسرائیل پر اسی فریضہ کے ترک کی وجہ سے اللہ تعالٰی نے لعنت کی- قرآن وحدیث میں اس فریضہ کو ترک کرنے پر بہت سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں-
بحمد الله تعالٰی حضرتِ والا کی مجالس ومواعظ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا منبع ہیں، کہیں بهی گناہوں سے بچنے کی بات ہوگی یا اس کی تبلیغ کی جائے گی تو تحقیق کے بعد ثابت ہوگا کہ وہ حضرتِ والا ہی کی مجلس کا اثر و ثمرہ ہے، جو گناہ معاشرہ میں اس طرح داخل ہو چکے ہیں کہ انہیں گناہ ہی نہیں سمجھا جاتا،  امت کو ان گناہوں سے بچانے میں اللہ تعالٰی نے حضرتِ والا کو خاص امتیاز بخشا ہے-
جو لوگ حضرتِ والا کی مجالس میں شریک ہوتے ہیں طلبِ صادق کے ساتھ حضرتِ والا سے اصلاحی تعلق قائم کرتے ہیں چند ہی روز کے بعد ان کا یہ حال ہو جاتا ہے ؎
سمجھ کر اے خرد اس دل کو پابند علائق کر
 یہ دیوانہ اڑا دیتا ہے ہر زنجیر کے ٹکڑے

حضرتِ والا سے تعلق کے بعد تعلق مع الله اور تصلّب فی الّدین کی وہ کیفیت پیدا ہو جاتی ہے کہ کوئی بڑے سے بڑا تعلق بهی انہیں صراطِ مستقیم سے ہٹا کر اللہ تعالٰی کی نافرمانی اور بغاوت پر آمادہ نہیں کر سکتا، جو گناہ معاشرہ میں وباء عام کی صورت اختیار کر چکے ہیں جیسے بے پردگی، ڈاڑھی کٹانا یا منڈانا، تصویر رکهنا اور سوئم چہلم وغیرہ بدعات- ان گناہوں سے بچنے کا حضرتِ والا کے متعلقین میں خاص اہتمام پیدا ہو جاتا ہے- ایسے بے شمار واقعات پیش آتے رہتے ہیں کہ کسی نے حضرتِ والا کی ایک  دو مجلسوں میں شرکت کی یا کسی مطبوع وعظ کا مطالعہ کیا یا وعظ کی کوئی کیسٹ سنی اور اس کے دل کی دنیا میں ایک انقلابِ عظیم برپا ہو گیا- تمام چهوٹے بڑے گناہوں سے بچ کر ایک سچا پکا مسلمان بننے کا بے پناہ جذبہ پیدا ہو جاتا ہے-
ان بے شمار عبرت آموز واقعات کے پرچوں میں سے بعض پرچے حضرتِ والا جمعہ کی مجالس میں ”باب العبر“ کے عنوان سے پڑهوا کر سنوایا کرتے ہیں اور حاضرین کو سنانے سے دو مقاصد گاہے گاہے بیان فرماتے رہتے ہیں:
(۱) دوسروں کے واقعات سن کر ہمت بلند ہو کہ اللہ تعالٰی نے دوسروں کو گناہوں سے بچنے کی ہمت عطاء فرمائی آخر وہ بهی ہم جیسے انسان ہیں اور اِسی زمانہ میں، اِسی ماحول میں، اِسی معاشرے میں رہتے ہیں جس میں ہم (رہتے ہیں) پهر ہماری ہمت کیوں نہیں بلند ہوتی؟
(۲) جن قلوب پر اللہ تعالٰی کی یہ رحمت ہوئی ان کا واسطہ دے کر اللہ تعالٰی سے یوں دعاء کی جائے:
"یا اللہ! تو نے جو رحمت ان لوگوں کے دلوں پر نازل فرمائی ہے وہ رحمت ہمارے دلوں پر بهی نازل فرما، جیسے تو نے ان کی دستگیری فرما کر انہیں گناہوں سے بچنے کی ہمت عطاء فرمائی ہے اسی طرح ہماری بهی دستگیری فرما اور ہمیں بهی گناہوں سے بچنے کی ہمت عطاء فرما-"
  انہی مقاصد کے پیشِ نظر یہاں چند عبرت آموز واقعات کے پرچے نقل کئے جاتے ہیں تاکہ ان سے دُور اُفتادہ قارئین بهی عبرت اور سبق حاصل کر سکیں...
(جاری ہے)

📚انوار الرشید ج۲ ص۲۳۷ تا ۲۴۰📚
”مفتی اعظم حضرتِ اقدس مفتی رشید احمد صاحب لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ کے نصیحت آموز وبصیرت افروز حالات وارشادات“
✍حضرت مولانا احتشام الحق آسیا آبادی رحمۃ اللہ علیہ
(رئیس جامعہ رشیدیّہ آسیا آباد، مکران بلوچستان)

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×
×
  • Create New...