Jump to content
IslamicTeachings.org
Bint e Aisha

علم کے مطابق عمل کیوں نہیں ہوتا 

Recommended Posts

☆بسْـــــــــــــــــــمِ ﷲِالـــرَّحْمَنِ الرَّحِـــــيـــم☆
سلسلہ مواعظِ رشید نمبر 5

علم کے مطابق عمل کیوں نہیں ہوتا 
قسط نمبر 1 

 

اَلْحَمْدُ للہِ نَحْمَدُہُ وَنَسْتَعِیْنُهُ وَنَسْتَعْفِرُهُ وَنُؤْمِنُ بِهِ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْهِ وَنَعُوْذُ بِاللهِ مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّاتِ أَعْمَالِنَا مَنْ یَّهْدِهِ اللُه فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ یُّضَِْلْهُ فَلَا هَادِیَ لَُه وَنَشْهَدُ أَنْ لآَّ إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ وَنَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ صَلى الله عليه وسلم وعلی آله وصحبه أجمعين. اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم الله الرحمن الرحيم
(یَااَیُّهَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اتَّقُوْا اللہ َوَکُوْنُوْا مَعَ الصَّدِقِیْن) (١٩.٩)

 

:ایک اہم سوال اور اس کا جواب 


کل میں نے مولوی صاحبان سے ایک سوال کیا تها- امید ہے کہ مولوی صاحبان کو اس کا جواب معلوم ہوگا-آج آپ حضرات کے سامنے اس کا جواب بیان کرنا مقصود ہے چونکہ سوال اور جواب دونوں نہایت اہم ہیں اس لیے اس کو معلوم کرنا نہایت مفید اور نافع ہوگا ان شاء الله تعالیٰ-
     سوال یہ تها کہ" علم کے مطابق عمل کیوں نہیں ہوتا؟ " یہ سوال تو علماء حضرات جانتے بهی ہیں ، پڑهتے پڑهاتے بهی رہتے ہیں- لیکن اس کے باوجود ان باتوں پر عمل نہیں ہوتا مثال کے طور پر ٹخنوں سے نیچے پاجامہ نہ رکهنا کسے معلوم نہیں،  کتنی صحیح حدیثیں اس بارے میں وارد ہیں جنہیں علماء حضرات رات دن پڑهتے پڑهاتے ہیں پهر بهی بعض علماء کا خود اس پر عمل نہیں حالانکہ حدیث میں صاف طور پر آیا ہے:
( مَا اَسْفَلَ مِنَ الْکَعْبَیْن ِمِنَ الْاِزَارِ فِی النَّارِ )
آج کل لوگوں کو یہ غلط خیال ہو گیا ہے کہ ٹخنوں کو کهلا رکهنا صرف نماز کی حد تک ہی ضروری ہے حالانکہ ٹخنوں کا ڈهانکنا مرد کے لیے مطلقاً ممنوع ہے خواہ وہ نماز کی حالت میں ہو یا غیر نماز کی- حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ ٹخنوں سے نیچے جو کپڑا ہوگا وہ جہنم میں جائے گا بلکہ مطلب یہ ہے کہ ایسا لباس پہننے والا جہنم میں جائے گا - یہی معاملہ تصویر کے ساتھ ہو رہاہے، جس عالم کو دیکهو تصویر  کهنچوائے جا رہا ہے ، اخبارات میں تصویریں چهپ رہی ہیں- اسی طرح دیگر باتیں بهی علماء میں شائع ہو گئی ہیں- مثلاً حسد، بغض، غیبت وغیرہ-

 

:شیطان کی منڈی
 

:اس پر ایک قصہ یاد آیا 
شیطان کو لوگوں نے ایک بوڑهے کی صورت میں دیکها کہ ایک اونٹ پر بوجھ کے کئی گٹهے لادے چلا جا رہا ہے- لوگوں نے پوچها کہ اس میں کیا ہے؟ تو کہا کہ مال تجارت ہے لوگوں نے پوچها کہ بتاؤ تو سہی کہ کیا مال ہے ہو سکتا کچھ ہم بهی خرید لیں- شیطان نے جواب دیا کہ تمہارے کام کی کوئی چیز نہیں ، لوگوں نے اصرار کیا کہ آخر کار کچھ تو بتاؤ کہ کیا چیزیں ہیں جو ہمارے کام کی نہیں اور ہم جس کے خریدار نہیں ہو سکتے بڑے اصرار کے بعد اس نے بتایا کہ یہ جو مختلف گٹهے نظر آرے ہیں ان میں سے ایک میں عجب ، ایک میں حسد، ایک میں غیبت اسی طرح ہر گٹهے کو رذیلہ بتایا - لوگوں نے کہا بهلا ایسی چیزوں کا بهی کوئی خریدار ہو سکتا ہے! شیطان نے جواب دیا : ہر تاجر اپنی منڈی کو جانتا ہے کہ اس کے مال کی نکاسی کہاں ہوگی - ابهی علماء کی کسی مجلس میں چلا جاؤں گا،  سارے کا سارا بوجھ خالی ہو جائے گا - یہاں علماء سے خطاب ہے کہ اس لئے یہ قصہ بتایا دیا ورنہ عوام کو یہ نہ سمجهنا چاہیے کہ علماء حضرات میں برائیاں ہی برائیاں ہوتی ہیں - علماء بہرحال محترم ہیں،  ان ہی کے دم سے دین کا ستون قائم ہے اور ان سے سوء ظن رکهنا اپنی  عاقبت خراب کرنا ہے-

 

اعمال امت کا جائزہ

 

اب عوام اپنا جائزہ لیں- کون سا ایسا مسلمان ہے جس کو یہ نہیں معلوم کہ نماز فرض ہے لیکن کتنے لوگ ہیں جو نماز پڑهتے ہیں- اسی طرح سب جانتے ہیں کہ بد نظری گناہ ہے-رشوت اور سود حرام ہیں ، چوری ڈکیتی گناہ ہیں-لیکن دیکهئے کس قدر ان برائیوں میں لوگ مبتلا ہیں، رات دن کیسے کیسے واقعات دیکهنے اور سننے میں آتے رہتے ہیں- ان سب سے بڑھ کر موت کے بارے میں کون نہیں جانتا کہ یقیناً ایک روز مرنا ہے- یہاں تک کہ اگر اسپیشلسٹ ڈاکٹر کی ایک جماعت بهی کسی شخص کو یہ کہہ دے کہ تم کبهی نہیں مروگے تو وہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوگا بلکہ کہے گا کہ تم سب غلط کہتے ہو مرنا تو ایک دن ہے ہی- اس میں تو کسی کمیونسٹ کو بهی انکار نہیں ہو سکتا لیکن کتنے ایسے لوگ ہیں جو موت کے لیے پہلے تیاری کر رکهتے ہیں-ذرا سا سفر درپیش ہو، چند میل بهی کہیں جانا ہو تو دنیا بهر کا سامان سفر اکٹها کر لیا جاتا ہے کہ اس کی بهی ضرورت پڑے گی ، اس کی بهی ضرورت پڑے گی، فلاں چیز بهی نہایت ضروری ہے-لیکن وہ سفر جس کے بعدبزندگی کی تمام جدوجہد ختم ہو جاتی ہے اور پهر کوئی کہیں کا سفر باقی نہیں رہتا یعنی سفر آخرت کے لئے کتنے لوگ ہیں جو پہلے سے اہتمام میں لگے ہوئے ہیں- بلکہ سب سے زیادہ غفلت تو اسی معاملہ میں ہوتی ہے- جتنا زیادہ یقینی

علم موت کا ہوتا ہے اتنی ہی زیادہ بےفکری اس بارے میں دیکهنے میں آتی ہے- سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ لوگ جانتے بوجهتے غفلت میں پڑ جاتے ہیں اور جو باتیں معلوم ہیں،  جن کا اچهی طرح علم ہے ان پر عمل بالکل نہیں ہوتا یا عمل میں کوتاہی ہوتی رہتی ہے- اس کا سبب معلوم کرنا اور اس کی وجہ دریافت کرنا نہایت ضروری اور اہم ہے، جب کسی چیز کا سبب اور وجہ معلوم ہوجاتی ہے تو اس کا علاج بهی آسان ہو جاتا ہے، ہمت بلند ہو جاتی ہے اور عمل آسان ہو جاتا ہے-
 

یہ بات کہ لوگ کسی بات کا علم رکهنے اور جاننے کے باوجود اس پر عمل کیوں نہیں کرتے، اس کا ایک ہی سبب اور ایک ہی وجہ ہے اور وہ کسی عالم باعمل کی صحبت کا نہ ہونا - بس اس بے عملی کا یہی علاج ہے کہ کسی ایسے علم والے کے پاس بیٹها جائے جس کا عمل اس کے علم کے عین مطابق ہو، وہ جو کہے اس پر خود بهی عمل کرتا ہو-
 

(جاری ہے)
ثواب کی نیت سے آگے پهیلائیں 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

سلسلہ_مواعظِ رشید نمبر 5 

علم کے مطابق عمل کیوں نہیں ہوتا ؟
قسط نمبر 2 

 

صحبت صالح کیوں ضروری ہے ؟

 

کسی عالم باعمل کے پاس بیٹهنا کیوں ضروری ہے اور اس سے کیا فائدہ ہوتا ہے-اس کے لیے چند دلائل بیان کیے جاتے ہیں تاکہ مقصود آسانی سے سمجھ میں آ جائے، پہلے دعاء کر لیجیے کہ بات سمجھ میں آ جائے اور دل میں اتر جائے اور پهر عمل کی توفیق بهی ہو جائے-

اس سلسلے میں سب سے پہلی دلیل اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد:

1⃣ (یَا اَیُّهَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اتَّقُوْا اللہ َوَکُوْنُوْا مَعَ الصّٰدقِیْن ) ( ١٩.٩ )

یہاں لوگ *"اتقوا اللہ"*  کے معنی *"اللہ تبارک و تعالیٰ سے ڈرو"* کر دیتے ہیں-حالانکہ تقویٰ کے معنی ڈرنے کے نہیں بلکہ بچنے کے ہیں- اب معنیٰ ہوگیے : *"اے ایمان والو! اللہ تبارک و تعالیٰ سے بچو"* اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے غضب سے بچو، اللہ تبارک و تعالیٰ کے عذاب سے بچو اور چونکہ انسان بچتا وہیں ہے جہاں ڈر ہو اس لیے مجازاً ڈرنے کے معنی ہو گیے- تقویٰ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بس تسبیح ہاتھ میں لیے اللہ اللہ کرتے رہو یا کثرت سے نفل عبادات کرتے رہا کرو بلکہ تقویٰ کا مطلب ہے برائیوں کو چهوڑ دینا ، گناہوں سے بچ جانا- یہی تقویٰ ہے - اگر کوئی گناہوں کو تو نہیں چهوڑتا اور ساری ساری رات عبادت کرتا اور دن کو روزے رکهتا ہے تو وہ نجات کے لیے کافی نہیں کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کو راضی کرنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ اس کی نافرمانی کو ترک کر دیا جائے اور اس کی نافرمانی کا ترک گناہ چهوڑ دینے ہی سے ہو سکتا ہے، پهر فرمایا: ( کونوا مع الصدقین ) - یعنی سچے لوگوں کے ساتھ رہ پڑو- یہاں پر صادقین سے وہی لوگ مراد ہیں جن کا عمل علم کے عین مطابق ہے- ایسے لوگوں کے ساتھ رہنے کو فرمایا گیا- صرف رہنے کو نہیں بلکہ وہاں پڑ رہنے کا حکم فرمایا گیا - یعنی کافی مدت ان کے ساتھ گزار جائے، ان کی صحبت میں رہا جائے جب ہی کچھ فائدہ ہوگا- صادقین ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ جو کہتے ہیں اس پر ان کا عمل بهی ہوتا ہے- اس پر ایک قصہ یاد آیا- غالباً شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ تعالیٰ کا واقعہ ہے کہ انہوں نے ایک دفعہ نکاح بیوگان سے متعلق وعظ فرمانے کا ارادہ کیا- یہ ایسے حضرات تهے کہ جو کہتے تهے پہلے خود اس پر عمل کرتے تهے لہٰذا حضرت نے وعظ فرمانے سے پہلے سوچا کہ پہلے خود اس پر عمل کرنا چاہیے اور پهر دوسروں کو وعظ ، چنانچہ آپ کی پهوپهی یا کوئی اور راستہ دار خاتون بیوہ تهیں اور وہ بوڑهی بهی ہو چکی تهیں، حضرت شہید رحمہ اللہ تعالیٰ ان کے پاس تشریف لے گئے،  اپنا مقصد بیان کیا کہ بیوہ عورتوں کے نکاح کے بارے میں وعظ کرنا مقصود ہے لیکن اس سے پہلے اپنے خاندان سے اس کی مثال ملنی چاہیے چنانچہ یہ خاتون باوجود کبرسنی کے بیوہ عورتوں کے نکاح نہ کرنے کی جو قبیح رسم پڑ گئی تهی اس کو مٹانے کے لیے تیار ہو گئیں اور کہا کہ اچها کر دو ہمارا کسی سے نکاح- شاہ صاحب نے پہلے ان کا نکاح پڑهوایا پهر وعظ فرمایا- ایسے حضرات کے کہنے کا اثر بهی ہوتا ہے اور سننے والوں کو عمل کی توفیق بهی ہو جاتی ہے-
         

   صحبت کی مثال ایسی ہے جیسے مقناطیس- مقناطیس کے اثر سے خام لوہا بهی مقناطیس بن جاتا ہے لیکن اس طرح سے نہیں کہ مقناطیس کے ساتھ لوہے کو کچھ دیر رکھ دیا پهر ہٹا لیا- پهر تهوڑی دیر رکھ دیا اور ہٹا لیا بلکہ مقناطیس کے ساتھ لوہے کو رکھ کر رگڑا جاتا ہے اور کافی دیر تک یہ عمل کیا جاتا ہے- جب اس میں مقناطیسیت کا اثر سرایت کرتا ہے- اسی طرح آم کی معمولی قسم عمدہ قسم کی صحبت سے ویسی ہی عمدہ بن جاتی ہے مگر معمولی قسم کے پودے کی شاخ کو قلمی آم کے پودے سے بار بار چهونا کافی نہیں بلکہ ایک مدت تک اس کے ساتھ باندهنا پڑتا ہے- اس طرح طویل مدت تک صحبت اپنا رنگ دکها کر رہتی ہے اور وہ مشہور مثل ہے کہ خربوزہ کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے-

(جاری ہے)
 

Share this post


Link to post
Share on other sites

سلسلہ مواعظِ رشید نمبر 5

علم کے مطابق عمل کیوں نہیں ہوتا

قسط نمبر 3 

 

 

2⃣( واصبر نفسک مع الذین یدعون ربهم بالغدوة والعشی یریدون وجهه ولا تعد عیناک عنهم) (١٨.٢٨)

ترجمہ : "اور آپ خود کو ان لوگوں کے ساتھ مقید رکها کیجیے جو صبح و شام (یعنی علی الدوام) اپنے رب کی عبادک محض اس کی راضا جوئی کے لیے کرتے ہیں-"

صبر کے معنی ہیں باندھ کر رکهنا، مقید رکهنا- رسول الله ﷺ کو ارشاد ہو رہا ہے کہ اپنے آپ کو اصحاب رضی اللہ عنهم کی تربیت کی خاطر مقید رکهیں ان کو اپنی صحبت  بابرکت سے مستفیض ہونے کا موقع دیں تا کہ لوگ دین حاصل کر سکیں اور نبوت کے انوار و برکات سے اپنے دلوں کو مجلی کر سکیں - علم کتابوں اور رسالوں کی مدد سے بهی حاصل ہوتا سکتا ہے لیکن اس پر عمل جب ہی ہو سکتا ہے کہ کسی باعمل کے پاس بیٹھ کر دیکها جائے - یہاں پر ایک نکتہ یہ بهی معلوم ہوا کہ اہل اللہ کی پہچان ایک یہ بهی  ہے کہ ان کا دل حقیقت میں لوگوں میں بیٹھنے سے خوش نہیں ہوتا ان کو تو بس خلوت محبوب ہوتی ہے کہ ذرا موقع ملے اور وہ اپنے محبوب حقیقی سے لو لگائیں لیکن جب اللہ تبارک و تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے کہ مخلوق کو فائدہ پہنچاؤ تو وہ مجبوراً باامر الٰہی اس کام پر آمادہ ہوتے ہیں اور حقیقت میں ان کا میلان خلوت گزینی ہی کی طرف ہوتا ہے تا کہ وہ زیادہ سے زیادہ محبوب حقیقی کے جلوہ سے اپنی آنکهیں ٹهنڈی کریں -لیکن جب محبوب حقیقی حکم فرما دیتے ہیں کہ اب ان کے جمال کو آئینہ میں دیکهیں تو اہل اللہ اہل دنیا کی اصلاح کی طرف متوجہ ہوتے ہیں-

3⃣ اهدنا الصراط المستقيم کی تفسیر میں فرمایا : صراط الذین أنعمت علیهم، اس سے ثابت ہوا کہ منعم علیهم بندوں کی مصاحبت سے صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق ہوتی ہے-

4⃣( ومن یکن الشیطن له قرینا فساء قرینا )(٤-٣٨) اور (یویلتی لیتنی لم اتخذ فلانا خلیلا )( ٤-٣٨) سے ثابت ہوا کہ صحبت بدکا اثر ہوتا ہے-

5⃣ انها کانت من قوم کفرین (٢٧-٤٣) سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ملکئہ سبا کفار کے ماحول میں رہنے کہ وجہ سے کفر میں مبتلا تھی-

6⃣ (یلیتنی اتخذت مع الرسول سبیلا) (٢٥-٢٧)
*"کاش میں رسول کے ساتھ ہو کر اللہ تبارک و تعالیٰ کا راستہ پکڑ لیتا-"*
اس میں صحبت رسول اللہ ﷺ کا اثر بتایا گیا ہے-

7⃣ جب رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی اور آپ ﷺ نے نبوت کا اعلان کر کے تبلیغ کی ابتداء فرمائی تو کفار نے یہ اعتراض کیا کہ یہ ہمارے جیسے بشر ہیں، رسول تو کوئی فرشتہ ہونا چاہیے تها اور یہ کہ قرآن دفعتاً لکھا لکهایا ہم پر نازل ہوجاتا- اور ہم خود پڑھ کر اس کو سمجھ لیتے- اللہ تبارک و تعالیٰ کے دست قدرت سے بعید نہ تها کہ وہ اسی طرح کر دیتے کہ ایک فرشتہ کو رسول بنا کر بهیج دیتے اور ایک کتاب  لکهی لکهائی نازل فرما دیتے تا کہ ان کفار کے لیے حجت پوری ہوجاتی اور ہو سکتا تها کہ ان کا یہ مطالبہ پورا ہوجانے پر کچھ لوگ مسلمان بهی ہو جاتے لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت اعلیٰ اور اس کی انسانی فطرت سے واقفیت خود انسانوں سے بهی زیادہ گہری ہے اس لیے اس نے ایک بشر کو رسول کی صورت میں مبعوث فرمایا تا کہ لوگ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہم تو اس بار شریعت کے متحمل نہیں ہو سکتے کیونکہ ہم فرشتوں کی طرح نہیں ہیں- اس کے علاوہ انسان کسی انسان ہی کی صحبت میں کچھ سیکھ سکتا ہے-اس لیے انسانوں کی ہدایت کے لیے انسانوں ہی کو رسول بنا کر مبعوث کیا جاتا رہا-

8⃣ حدیث میں اچهی صحبت کے فائدے اور بری صحبت کے نقصان کو ایک عجیب مثال سے سمجهایا گیا ہے:
( عن ابی موسی رضی اللہ عنہ عن النبی ﷺ قال مثل الجلیس الصالح والسوء کحامل المسک ونافع الکیر فحامل المسک اما ان یحذیک واما ان تبتاع منه عاما ان تجد منه ریحا طیبة ونافع الکیر اما ان یحرق ثیابک واما ان تجد ریحا خبیثة ، رواہ البخاري وفی روایة یحرق بدنک او ثیابک) 
#_ترجمہ :

"رسول الله  ﷺ نے فرمایا صحبت صالح کی مثال ایسی ہے جیسے مشک والے کی صحبت، وہ تجهے ہدیہ دے دے گا یا تو اسے خرید لے گا ورنہ کم از کم مشک کی خوشبو تو پائے گا ہی اور صحبت بد کی مثال لوہار کی بهٹی جیسی ہے کہ وہ تیرے بدن کو یا کپڑوں کو جلا دے گہ ورنہ اس کی خراب ہوا سے تو نہیں بچ سکے گا- "
(جاری ہے) 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

سلسلہ مواعظِ رشید نمبر 5


علم کے مطابق عمل کیوں نہیں ہوتا ؟

قسط نمبر 4

 

9⃣ رسول الله ﷺ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنهاکو ارشاد فرماتے ہیں:
ایاک ومجالسة الأغنياء- یہ تاثیر صحبت نص صریح ہے-

 

🔟 رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ میرے اصحاب میں سے سابقین اولین کے برابر وہ اصحاب نہیں ہو سکتے جو بعد میں ایمان لائے (یعنی بیعت رضوان کے بعد) اور پہلوں نے اگر اللہ کی راہ میں ایک مد (٥ء ٨٨٤ گرام) جو خرچ کئے بعد کے اصحاب جبل احد کے برابر سونا خرچ کریں تو اس کے نصف کے برابر بهی نہیں ہو سکتا- یہ قصہ اس طرح پیش آیا کہ ایک دفعہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ میں کسی بات کر کچھ تیز گفتگو ہو گئی- جب رسول اللہ ﷺ کو اس کی اطلاع ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالٰی عنہ کو تنبیہ فرمائی- مطلب یہ ہے کہ جو زیادہ رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں رہے اور جنہوں نے پہلے اسلام قبول کیا ان حضرات صحابہ کا مرتبہ بعد والے حضرات صحابہ سے بہرحال افضل ہے-
 

     کسی نے امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالیٰ دونوں میں سے کون افضل ہے؟  حضرت امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ یہ سن کر رو پڑے اور فرمایا کہ یہ سوال ذہن میں آیا ہی کیسے کہ ایک صحابی کے ساتھ کسی غیر صحابی کو موازنہ کیا جائے پهر فرمایا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر جہاد میں جس گهوڑے پر سوار ہوتے تهے اس کی ناک میں جو راستے کا غبار پہنچا، حضرت عمر بن عبدالعزیز اس غبار کی برابری بهی نہیں کر سکتے چہ جائیکہ ان کا مقابلہ ایک صحابی حضرت معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کیا جائے- کیونکہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالیٰ وہ آنکهیں کہاں سے لائیں گے جو جمال نبوت کا دیدار کرتی تهیں- یہاں پر یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالیٰ بڑے جلیل القدر تابعی ہیں اور عمر ثانی کے لقب سے مشہور ہیں- اور بعض مؤرخین نے ان کے دور خلافت کو بهی خلافت راشدہ میں شمار کیا ہے-
 

1⃣1⃣ رسول الله ﷺ نے فرمایا:
(صلوا کما رأیتمونی اصلی)
ترجمہ: "اس طرح نماز پڑھو جس طرح مجهے پڑهتا ہوا دیکھتے ہو-"

 

ظاہر ہے کہ آپ ﷺ کے ارشاد پر اسی وقت عمل ہو سکتا ہے جب کوئی آپ ﷺ کی صحبت میں رہے اور آپ ﷺ کو نماز پڑهتے ہوئے دیکهے اور پهر اس جیسی نماز پڑهنے کی کوشش کرے حالانکہ جہاں تک احکام کا سوال ہے رسول اللہ ﷺ نے تمام ارکان اسلام نماز، زکوۃ،  روزہ، حج وغیرہ کل احکام تفصیل سے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنهم کو بتا دیئے تھے- اگر رسول اللہ ﷺ یہ فرماتے کہ میں نے تمہیں جس طرح بتا دیا ہے اس طرح سے نماز پڑهو تو بالکل بجا ہو سکتا تها -لیکن رسول الله ﷺ کا یہ فرمانا کہ مجهے دیکھو،  میں کس طرح نماز پڑهتا ہوں پهر اسی طرح نماز پڑهنے کی کوشش کرو صاف طور پر صحبت کی اہمیت کو بتا رہا ہے- صحابہ کرام رضی اللہ عنهم رسول اللہ ﷺ کی ایک ایک بات کو نہایت غور سے دیکهتے اور پهر اس کی ہو بہو نقل اتارنے کی کوشش کرتے- حضرت عثمان، حضرت علی اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنهم کو جب وضوء کا سکهانا مقصود ہوتا تو فرماتے میں تمہیں ایسا وضوء کرنا نہ سیکها دوں جیسے رسول اللہ ﷺ وضوء فرماتے تهے- پهر پانی لے کر وضوء کر کے دکهاتے اور فرماتے کہ میرے محبوب ﷺ اس طرح وضوء فرماتے تهے، ورنہ وہ چاہتے تو زبانی بهی کہہ سکتے تهے کہ یوں کرو پهر یوں کرو- نہیں بلکہ خود کر کے دکهایا تا کہ کسی شک و شبہہ کی گنجائش نہ رہے-
(جاری ہے)

Share this post


Link to post
Share on other sites

سلسلہ مواعظِ رشید نمبر 5 
 

علم کے مطابق عمل کیوں نہیں ہوتا 
 

قسط نمبر 5

 

 ایک روز ایک صحابی حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کو دیکها گیا کہ بڑی پریشانی میں چلے جا رہے ہیں اور یہ بهی کہتے جاتے ہیں: *"نافق حنظلہ"حنظلہ منافق ہو گیا-"* راستہ میں حضرتِ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ مل گئے -پوچها کیا بات ہے ، اتنے پریشان کیوں ہو؟ اور کہاں جا رہے ہو؟ حضرتِ حنظلہ رضی اللہ عنہ نے وہی کہا کہ حنظلہ منافق ہو گیا جب حضرتِ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے وجہ پوچھی تو بتایا کہ *"جب ہم رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں ہوتے ہیں تو ایسے معلوم ہوتا ہے کہ گویا ہم جنت اور دوزخ کو اپنی آنکهوں سے دیکھ رہے ہیں لیکن جب اپنے گھروں میں بیوی بچوں میں چلے جاتے ہیں وہ کیفیت باقی نہیں رہتی "* حضرتِ ابو بكر صديق رضي الله عنه نے فرمایا کہ اگر نفاق سے تمہارا یہی مطلب  ہے تو ہماری بهی یہی حالت ہے چلو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں دونوں چلتے ہیں اور پوچهتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے اور دریافت کیا تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ اگر تمہاری وہی کیفیت باقی رہے جو میرے سامنے ہوتی ہے تو فرشتے تم سے مصافحہ کرتے مگر تمہارے لیے کبهی یہ حالت بہتر ہے اور کبهی وہ، معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی صحبت کا یہ اثر ہوتا تها کہ گویا جنت دوزخ کو کهلی آنکهوں سے دیکھ رہے ورنہ عمارت دنیا کا کام کون کرے؟ اس لیے بندہ کی توجہ کو دوسری طرف لگا دیتے ہیں تا کہ دنیا کے کام بهی چلتے رہیں-
 

 صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو جب دفن کر دیا گیا تو ہم نے اپنے دلوں کو متغیر پایا اس کی کیا وجہ تهی؟ یہی کہ رسول اللہ ﷺ کے وجود مبارک سے اس دنیا کے خالی ہوجانے پر آپ کے اصحاب نے اپنے دلوں میں خلاء محسوس کیا- کیونکہ آپ کا وجود مسعود باعث انوار برکات تها-
 

 حکیم ترمذی رحمه الله تعالیٰ بہت مشہور بزرگ گزرے ہیں،  وہ عالم جوانی میں کسی باغ میں تشریف لے گیے ، آپ پر ایک عورت فریفتہ تهی، وہ بهی موقع کو غنیمت سمجھ کر اس باغ میں پہنچ گئی اور ان سے مطلب براری کی درخواست کی،  یہ باغ چار دیواری کی وجہ سے چاروں طرف سے بند تها ، یہ منظر دیکھ کر آپ بہت گهبرائے ، بهاگے اور باغ کی دیوار پر چڑھ کر باہر کود گئے، بہت مدت بعد ایک بار بڑهاپے میں بطورِ وسوسہ یہ خیال آیا کہ اگر میں اس عورت کی دل شکنی نہ کرتا اور اس کی خواہش پوری کرنے کے بعد گناہ سے توبہ و استغفار کر لیتا تو اس کی دل شکنی بهی نہ ہوتی اور گناہ بهی معاف ہو جاتا ، بس اس وسوسہ کا آنا تها کہ ان پر گریہ طاری ہو گیا بہت پریشان ہوئے اور سخت ندامت ہوئی کہ جوانی میں تو ہمت کر کے گناہ سے بچ گیا اور اب بٹهاپے میں یہ حال
 

*بر دل سالک ہزاران غم بود*
*گر زباغ دل خلالے کم بود*

 

خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا : *"اے حکیم! غم نہ کرو تم جو اس وقت ابتلاء سے بچ گئے وہ میری بعثت سے قریب کا زمانہ تها جس کی برکت سے تم گناہ میں آلودہ ہونے سے محفوظ رہے اور اب جو بڑهاپے میں اس قسم کا وسوسہ پیدا ہوا یہ بعد زمانی کی وجہ سے ہے تم اس کا کچھ خیال نہ کرو"* جب کہیں جا کر آپ کے قلب کو اطمنان و سکون حاصل ہوا- جس ذات کے ساتھ قرب زمانی کی یہ برکت ہے اس کی صحبت کی تاثیر کا کیا عالم ہوگا
 

جرعہ خاک آمیز چون مجنون کند
صاف گر باشس ندانم چون کند

 

(جاری ہے)

Share this post


Link to post
Share on other sites

سلسلہ مواعظِ رشید نمبر 5 

علم کے مطابق عمل کیوں نہیں ہوتا


قسط نمبر 6

 

5⃣1⃣ میرے شیخ رحمہ اللہ تعالیٰ سے کسی نے صحبت کی ضرورت پر گفتگو کی تو  حصرت رحمہ اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا کہ صحابی بن جاؤ- انہوں کے کہا صحابی کس طرح بن سکتا ہوں؟ تو حضرت رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اچها تابعی بن جاؤ- انہوں نے کہا کہ تابعی کس طرح بن سکتا ہوں؟  تو حضرت رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اچها پهر تبع تابعی بن جاؤ تو انہوں نے کہا کہ یہ کس طرح ممکن ہے؟  حضرت رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ معلوم ہوا کہ صحابی اسی وقت بن سکتا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں رہا ہو، اور تابعی اس کو کہتے ہیں جو صحابی کی صحبت میں رہا ہو اور تبع تابعی اس کو کہتے ہیں جس نے تابعی کی صحبت اٹهائی ہو- لفظ صحابی پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ یہ صحبت ہی سے بنا ہوا ہے- صحابی حضرت صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنهم ہی ہیں جنہوں نے مصاحبت رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں رہے ان سے فیض حاصل کیا - 


6⃣1⃣ صحبت کا اثر مشاہدات و تجربات سے ثابت ہے اور روز روشن کی طرح واضح ہے،  اسی لیے یہ حقیقت پوری دنیا کے مسلمات میں سے ہے، انسان تو انسان ہے بے جان جمادات پر بهی صحبت کا اثر مشاہدہ مسلم ہے، مقناطیس کی صحبت سے لوہے میں کشش پیدا ہو جاتی ہے اور پهول کی صحبت سے مٹی میں خوشبو پیدا ہو جاتی ہے-
         اہل دل حضرات کی صحبت میں غضب کی تأثير ہوتی ہے بعض مرتبہ آن واحد میں انسان کی کایا پلٹ جاتی ہے

آنانکہ خاک را بنظر کیمیا کنند
آیا بود کہ گوشئہ چشمے بما کنند

🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸

مری محفل میں جو بیٹها اٹها آتش بجاں ہو کر
دلوں میں آگ بهر دیتی ہے آہ آتشیں میری

🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀

اے سوختہ جاں پھونک دیا کیا میرے دل میں
ہے شعلہ زن اک آگ کا دریا میرے دل میں

🍃🍃🍃🍃🍃🍃🍃🍃🍃🍃🍃🍃

جس قلب کی آہوں نے دل پهونک دیئے لاکھوں
اس قلب میں یا اللہ! کیا آگ بهری ہو گی

💦💦💦💦💦💦💦💦💦💦💦💦

جو آگ کی خاصیت وہ عشق کی خاصیت
اک خانہ بخانہ ہے اک سینہ بسینہ ہے

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

(17) اب تک جتنی دلیلیں دی گئیں ہیں وہ تو سب نظری اور فکری تهیں- سب سے بڑی دلیل اور اہم دلیل اس بات کی تجربہ ہے ، تجربہ انسان کو وہ کچھ سکهاتا ہے جو زبانی ساری زندگی سنتا رہے پهر بهی سمجھ میں نہ آئے- اس لیے کہتا ہوں اور کچھ نہیں تو کم از کم تجربہ کی خاطر ہی کسی  بزرگ کی صحبت میں بیٹھ کر دیکھو خود معلوم ہو جائے گا کہ کیسے عکم و عمل کے سانچے میں ڈهالا جاتا ہے-
 

(جاری ہے)

Share this post


Link to post
Share on other sites

سلسلہ مواعظِ رشید نمبر 5

علم کے مطابق عمل کیوں نہیں ہوتا 


قسط نمبر 7

 

صحبت صالح سے فائدہ پہنچنے کی وجہ


اگر بے عملی کا علاج کروانا ہے تو وہ صرف صحبت ہی سے ہو سکتا ہے اور صحبت ضروری ہے،  جس کے دلائل اوپر مذکور ہوئے- اب یہ کہ صحبت کیسے اور کیوں کر فائدہ پہنچاتی ہے اس کا بیان کرنا مقصود ہے حالانکہ اس کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ ڈاکٹر کا دواء بتانا ہی کافی ہوتا ہے- کوئی ڈاکٹر سے یہ نہیں پوچهتا کہ اس.دواء کا اثر کس طرح ہوتا ہے؟  بس دوا استعمال کر لی جاتی ہے اور فائدہ خود بخود مشاہد ہونے لگتا ہے- ہم سے تو بس *"کیا"* پوچها جانا چاہیے *"کیوں"* پوچھنے کی ضرورت نہیں تا ہم آپ حضرات کے نفع کی خاطر کہ بات زیادہ واضح ہو جائے اور ہو سکتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے کسی بندہ کو عمل کی توفیق ہو جائے بتائے دیتے ہیں-


1⃣ الله تبارك و تعالیٰ کے نیک بندوں پر اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے خاص رحمت کا نزول ہوتا ہے اور جس مجلس میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر اور اس کی یاد ہوتی ہے فرشتے اس مجلس کو گهیر لیتے ہیں اور اہل مجلس کے لیے دعاء کرتے ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ بھی اپنے فرشتوں میں ان اہل مجلس کا ذکر فرماتے ہیں- یہ کتنی بڑی برکت کی بات ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں کے سامنے تمام اہل مجلس کا ذکر فخریہ کرتے ہیں- حضرت نانوتوی رحمہ اللہ تعالیٰ سے کسی نے پوچها کہ لوگ صالحین کے قریب دفن ہونے کی تمنا کرتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟ حضرت نانوتوی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس وقت کوئی جواب نہ دیا- بعد میں جب خادم آپ کو پنکها جهل رہا تها تو پوچها کہ ساتھ بیٹھنے والوں کو بھی کچھ ہوا آرہی ہے یا نہیں؟  اس طرح صلحاء کی قبور پر جب اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت کا نزول ہوتا ہے تو آس پاس کے لوگ بهی اس کی رحمت سے متمتع ہوتے ہیں- اسی طرح جب اللہ والوں کی صحبت میں کوئی آ بیٹهے گا تو اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت سے مستفیض ہوگا اور اس کی ہوائیں چلیں گے-


2⃣ جب کوئی کسی اللہ والے کے پاس جاتا ہے اور اس کا مقصد دنیا طلب کرنا نہیں ہوتا ، وہ محض اللہ کہ خاطر اور دین کی طلب لے کر جاتا ہے- اپنی اصلاح کی فکر لے کر جاتا ہے اور جس شخص کے پاس وہ جا رہا ہے اس سے اس کو محبت بهی ہوتی ہے تو جو شخص اللہ کی خاطر اس کے دین کی طلب میں لگ جاتا ہے اس طالب اور مطلوب (جس سے دین حاصل کرنے جا رہا ہے) دونوں پر اللہ تبارک و تعالیٰ رحمت سے متوجہ ہو جاتے ہیں کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے محبوب بندوں سے محبت کی وجہ سے اللہ تبارک و تعالیٰ اس بندہ سے بهی محبت کرنے لگتے ہیں اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے محبت کرنے لگیں تو اس سے بڑھ کر نعمت اور کیا ہو سکتی ہے؟  اللہ تبارک و تعالیٰ کے محبوب بندوں کی محبت بھی بڑی چیز ہے-
 

(جاری ہے)

Share this post


Link to post
Share on other sites

سلسلہ مواعظِ رشید نمبر 5

علم کے مطابق عمل کیوں نہیں ہوتا 


قسط نمبر 8

 

ایک سبق آموز واقعہ

 

اس پر ایک واقعہ یاد آیا- ایک حاجی صاحب نے مجهے بتایا کہ ایک باران کا گزر ملک فیصل کے محل کی طرف ہوا - انہوں نے وہاں دروازے کے باہر ایک پیارے سے بچے کو کهیلتے دیکها- سامنے پہرے دار پہرہ دے رہا تها- ان کو جو پیار آیا تو بچہ کو گود میں اٹها کر پیار کرنے لگے -وہ بچہ ہی اس قدر پیارا تها کہ بے اختیار پیار آگیا ادهر کہیں محل سے ملک فیصل اس معاملہ کو دیکھ رہے تھے فوراً کسی شخص کو بهیجا کہ اس شخص کا اور اس کے معلم کا نام لکھ لو- وہ شخص آیا اور ان کا اور ان کے معلم کا نام پوچھ کر لکھ لیا - اب یہ بڑے گهبرائے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ جانے میرے ساتھ کیا معاملہ ہو، میرے اس عمل کو شاہ نے ناپسند کیا ہو- دل میں بہت گهبرا رہے تهے - دوسرے دن شاہی فوج کا ایک شخص ان کو بلانے آ پہنچا کہ آپ کو ملک بلا رہے ہیں- اب تو بہت ہی گهبرائے کہ برے پهنسے، نہ جانے کیا سلوک ہو- مگر جب شاہی محل میں پہنچے تو ان کا شاندار استقبال کیا گیا اور بہترین ضیافت ان کو دی گئی - ساتھ ہی ساتھ ان کو ایک سند شاہی بهی عطاء ہوئی کہ دوران حج یہ جہاں بهی جائیں ان کے ساتھ شاہی مہمان کا سا سلوک  کیا جائے - کہاں تو ڈر کے مارے برا حال ہو رہا تها اور کہاں یہ آؤ بهگت- اس سے معلوم ہوا کہ شاہی خاندان کے ایک بچے کے ساتھ اگر کوئی محبت اور پیار کا سلوک کرتا ہے تو بادشاہ کو یہ ادا پسند آ جاتی ہے اور اس کا اس قدر اعزاز و اکرام ہوتا ہے اور اس قدر انعام ملتا ہے- سوچنا چاہیے کہ جب کوئی بندہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے راستے میں دین کی خاطر نکلے اور کسی اللہ تبارک و تعالیٰ کے بندہ سے محبت رکهے تو اس کو اللہ تبارک و تعالیٰ کس قدر پسند فرمائیں گے اور اس کا اعزاز و اکرام کس قدر ہوگا - اس جہان فانی کے ذرا سے ٹکڑے پر حکومت کرنے والے کو جب کوئی بات پسند آ جائے تو اس کا یہ اعزاز و اکرام اور جب سارے جہانوں کے ملک کو کسی کی اداء پسند آ جائے کہ اس کے محبوب کو کوئی چاہ رہا ہے تو اس کے یہاں ایسے بندہ کے لیے کیا کیا انعام و اکرام کا معاملہ ہو سکتا ہے، اندازہ لگا لیجیے- ان صاحب نے جب مجهے اپنا یہ قصہ سنایا اس وقت سے میرا یہ معمول ہے کہ جب درود پڑهتا ہوں تو اس واقعہ کا استحضار کر لیتا ہوں کہ یا اللہ!  تیرے محبوب ﷺ سے ہمارا محبت کا تعلق ہے- اس تعلق کی خاطر ، تیرے محبوب کی محبت کی خاطر تیرے محبوب کے وسیلہ سے ہم بهی تیری عنایت کے امیدوار ہیں-

(جاری ہے)

Share this post


Link to post
Share on other sites

 سلسلہ_مواعظِ رشید نمبر 5

علم کے مطابق عمل کیوں نہیں ہوتا

 قسط نمبر 9

 


3⃣ انسان میں فطری مادہ ہوتا ہے کہ جب وہ کسی سے محبت کرنے لگتا ہے یا اس سے دلی لگاؤ رکهتا ہے تو غیر محسوس طریقہ سے ہر بات میں اس کی نقل اتارنے کی کوشش کرتا ہے- لباس میں،  چال میں،  بات چیت کے انداز میں،  ہر طرح اس کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ میں اپنے محبوب کی طرح بن جاؤں کہیں پہلوانوں کا مقابلہ ہوتا ہے تو لوگ اس میں شریک ہیں بچے بڑے سب اس کی نقل اتارنے میں لگ جاتے ہیں-  گلی گلی دنگل لگ رہے ہیں بچے بڑے سب زور کر رہے ہیں اور پہلوان بننے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں- اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ کے پہلوانوں کے ساتھ کوئی تعلق رکهے گا تو ناممکن ہے کہ وہ بهی اسی رنگ میں نہ رنگا جائے- اس طرح اللہ والوں کے ساتھ رہنے سے خود بخود اللہ اللہ کرنے کی توفیق ہو جاتی ہے- بشرطیکہ طلب ہو اور طلب بهی سچی ہو- کیونکہ یہ طبعی مسئلہ ہے کہ جس چیز کو طبیعت پسند کرنے لگتی ہے اور چاہنے لگتی ہے انسان کے تمام اعضاء و جوارح غیر شعوری طور پر اس کی تحصیل کے لیے آمادہ ہو جاتے ہیں پهر اس سے وہی اعمال ظاہر ہونے لگتے ہیں جس کا طبیعت تقاضا رکهتی ہے- مثلاً آپ کے سامنے ایک سیب رکها ہوا ہے ، دل نے چاہا کہ اس کو کهایا جائے اب دل کے ذریعے دماغ کے کارخانے میں یہ خواہش منتقل ہو گئی اور وہاں سے احکام جاری ہو گئے قدموں کو حکم گیا کہ درمیان کا فاصلہ طے کرو اور وہاں پہنچو- جب وہاں پہنچ گئے تو ہاتھوں کو حکم ہوا کہ سیب اٹها لو اور منہ میں ڈال لو- پهر منہ خود اس کو چبانے لگا- جسم کے مختلف اعضاء کو حکم دینے کی ضرورت نہیں- ابتداء میں صرف ارادہ کرنا کافی ہوتا ہے اگر ارداہ قوی ہو تو پھر عمل اس کے تابع ہو جاتا ہے- اللہ والوں کی صحبت سے یہ فیض حاصل ہوتا ہے کہ نیکیوں کی طرف میلان ہو جاتا ہے اور برائیوں کو ترک کرنے کا رجحان ترقی کرنے لگتا ہے- ارادہ کا پیدا ہونا ہی مقناطیسی عمل ہے جو بزرگوں کی صحبت سے نصیب ہو جاتا ہے- جیسے گهڑی میں چابی دی جاتی ہے تو گهڑی خود بخود چلنے لگتی ہے- اسی طرح فیضان صحبت سے اچهے کام کرنے کے تقاضے کو جو جبلی طور پر انسان میں ودیعت ہے مہمیز مل جاتی ہے-


4⃣ صدقین اور صالحین کی صحبت میں ان کی توجہ آپ کی طرف ہوتی ہے جس سے آپ کی صلاحیت بیدار ہو کر عمل کی توفیق ہو جاتی ہے-

(جاری ہے)

Share this post


Link to post
Share on other sites

سلسلہ مواعظِ رشید نمبر 5

علم کے مطابق عمل کیوں نہیں ہوتا 

قسط نمبر 10
 

توجہ کی قسمیں 

 

توجہ کی کئی قسمیں ہیں:
1⃣ پہلی توجہ انعکاسی کہلاتی ہے- اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چراغ روشن ہے تو اس کی روشنی چاروں طرف آس پاس پڑ رہی ہے اور جہاں تک روشنی کا اثر پہنچ رہا ہے وہاں تک تاریکی مٹ رہی ہے اور جو اشیاء روشنی کے حلقہ اثر میں ہیں وہ منور ہو رہی ہیں-یا یہ کہ کوئی خوشبودار پھول رکها ہوا ہے تو اس کی مہک چاروں اطراف کو مہکا دیتی ہے- کیا رات کی رانی کو آپ نے نہیں دیکها کہ کس طرح رات میں سارا محلہ اس کی خوشبو سے مہک اٹهتا ہے- اسی طرح اہل اللہ تبارک و تعالیٰ کے ساتھ رہنے والے بهی ان کے نور باطن کے انعکاس سے اپنے قلوب میں انوار و برکات کی حرارت محسوس کرتے ہیں اور اپنے زنگ آلود قلوب میں جلاء اور نور دیکھتے ہیں- حضرت گنگوہی رحمہ اللہ تعالیٰ جب حاجی صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ سے بیعت ہونے لگے تو عرض کیا کہ حضرت مجهے ذکر سے مستثنیٰ فرما دیجیے - کیونکہ پڑهنے پڑهانے اور علمی کاموں کی مشغولیت اس قدر ہے کہ ذکر کرنے کی فرصت ہی نہیں مل سکے گی- حضرت حاجی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کوئی بات نہیں آپ ذکر نہ کریں- جب بیعت ہو گئے تو حضرت حاجی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ خواہ آپ ذکر نہ کریں مگر طریقہ تو سیکھ لیں- اس میں کیا حرج ہے؟ کبهی موقع مل گیا تو کر لیا کریں ورنہ نہیں- حضرت گنگوہی رحمہ اللہ تعالیٰ نے کہا ہاں اس میں مضایقہ نہیں- حضرت حاجی صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت گنگوہی رحمہ اللہ تعالیٰ کو ذکر کرنے کا طریقہ تلقین فرما دیا- رات کو جب سونے کا وقت آیا تو حاجی صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ نے خادم سے فرمایا کہ ان کا بستر میرے بستر کے ساتھ لگا دیں- جب سونے کے لیے دونوں حضرات لیٹ گئے تو حضرت گنگوہی رحمہ اللہ تعالیٰ کی نیند غائب - کروٹوں پر کروٹیں بدل رہے ہیں مگر نیند کا نام تک نہیں- آخر کافی دیر کروٹیں بدلتے گزر گئی تو سوچا کہ نیند تو نہیں آ رہی ہے لاؤ ذکر ہی کر لیتے ہیں- آٹھ کر ذکر کرنا شروع کر دیا- ذکر میں اس قدر لذت محسوس ہوئی کہ پهر ساری زندگی ذکر کا ناغہ نہیں فرمایا- یہ تها حضرت حاجی رحمہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ بستر لگانے کا نتیجہ- جب ایک سینے میں عشق کی آگ دہک رہی ہو تو ناممکن ہے سامنے بیٹھنے والا اس کی حرارت محسوس نہ کرے

جس قلب کی آہوں نے دل پهونک دیئے لاکهوں
اس  قلب  میں  یا اللہ  کیا  آگ  بهری  ہوگی

 جو آگ کی خاصیت وہ  عشق  کہ خاصیت 
اک خانہ  بخانہ  ہے  اک  سینہ  بسینہ ہے 
(جاری ہے)

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

سلسلہ_مواعظِ رشید نمبر 5

علم کے مطابق عمل کیوں نہیں ہوتا 


قسط نمبر 11


2⃣  دوسری قسم توجہ کی القائی ہوتی ہے - توجہ انعکاسی میں تو اثر اسی وقت تک رہتا ہے جب تک مبدأ فیض اور مستفیض ایک ہی مجلس میں موجود ہوں- ظاہر ہے کہ چراغ کی روشنی اپنے ماحول میں موجود اشیاء ہی کو منور کرے گی- لیکن توجہ القائی میں طالب کی استعداد بڑھانے کے لئے اہل اللہ اپنے ارادے اور ہمت سے  اس کے قلب میں نیکی کے رجحان کی القاء کرتے ہیں اور اس کے لیے دعاء بهی فرماتے ہیں،  جس کا اثر مجلس سے اٹھ جانے کے بعد بھی کچھ دیر تک رہتا ہے-


3⃣ تیسری قسم توجہ اصلاحی ہے- توجہ القائی کے امتداد سے رسوخ حاصل ہو جاتا ہے تو اب اہل اللہ کے لیے مزید دعاء اور توجہ سے کام لیتے ہیں جو توجہ اصلاحی کہلاتی ہے جس سے وہ کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جس سے نیکیوں کا صدور آسان اور برائیوں سے اجتناب سہل ہو جاتا ہے-


4⃣ چوتھی توجہ اتحادی کہلاتی ہے- اس میں سالک کی استعداد چونکہ رفتہ رفتہ ترقی کر کے مستحکم نہیں ہوتی اس لیے اس توجہ کا تحمل مشکل ہوتا ہے اس لیے عام طور پر توجہ انعکاسی، القائی اور اصلاحی ہی سے کام لیا جاتا ہے-
توجہ کے اثر سے کسی کو بهی انکار نہیں ہو سکتا- رات دن مشاہدہ میں آتا رہتا ہے- مسمریزم کیا ہے؟ یہی تو توجہ ہے- صحبت کی تاثیر زمانہء قدیم سے مسلم چلی آتی ہے شاعر جاہلیت طرفہ کہتا ہے

اذا کنت فی قوم فصاحب خیارهم
ولا تصحب الاردی فتردی مع الردی

اقبال نے بھی کیا خوب کہا ہے

وہ فریب خوردہ شاہیں جو پلا ہو کر گسوں میں
اسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ ورسم  شاہبازی

غرضیکہ علم کے مطابق عملی قوت بیدار کرنے کے لیے اہل اللہ کی صحبت لازم ہے بدوں اس کے نرا علم کافی نہیں- ایک اور بات خیال میں آ گئی وہ یہ کہ بعض لوگ میرے علم میں ایسے بهی ہیں جو کسی ایک گناہ سے بچنے کا بہت اہتمام کرتے ہیں مگر دوسرے کئی گناہوں میں مبتلا ہیں، ان سے بچنے کا انہیں کبهی خیال تک نہیں آیا ، مثلاً ایک صاحب بینک اور بیمہ کے ملازمین سے لین دین اور ان کے ہاں کهانے پینے سے بہت پرہیز کرتے ہیں،  ذرا ذرا سی بات پر مجھ سے پوچهتے رہتے ہیں مگر ان کی صورت مسلمانوں کی صورت کے خلاف ہے، ڈاڑھی منڈاتے ہیں، ان کو اس طرف کوئی توجہ نہیں، اور بهی اس قسم کی کئی مثالیں ہیں کہ بس کسی ایک گناہ سے بچنے کی تو بہت فکر ہے مگر دوسرے گناہوں سے بچنے کی طرف التفات نہیں،  اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ انہیں دوسرے گناہوں کا علم ہی نہیں،  یا علم تو ہے مگر ان کے قلب میں ان گناہوں سے بچنے کی اہمیت نہیں بلکہ ان کو ہلکے سمجھتے ہیں،  ان میں یہ مرض اس لئے ہے کہ کسی اللہ والے کی صحبت میں نہیں بیٹھتے- اہل اللہ ان کو اس مرض سے متعلق اس لئے کچھ نہیں کہتے کہ بدوں خاص تعلق کے امید قبول نہیں،  نیز اس طرح کسی کو کہنے میں اس کی سبکی بهی ہے، اگر ایسے لوگ کسی اللہ والے کی صحبت میں بیٹھنے کا معمول بنا لیں تو بہت آسانی سے ان کے اس مرض کی اصلاح ہو جائے -
(جاری ہے)

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

  • Similar Content

    • By Bint e Aisha
      Being More Concerned of One’s Reformation than the Reformation of Others
       
      Hazrat Moulana Ashraf Ali Thanwi (rahmatullahi ‘alaih) once mentioned:
      There is a great need for each person to be concerned about his own reformation and to correct his actions. Nowadays, we find that people have fallen into the sickness of worrying about other people’s weaknesses while they are unconcerned about their own reformation. This can be compared to a person who is more concerned about looking after the shoes of others while his own shoes and luggage get stolen due to him being unconcerned about them. How foolish is the action of such a person! (Malfoozaat Hakeemul Ummat 23/56)
      Source: Ihyaauddeen.co.za
×
×
  • Create New...