Jump to content
IslamicTeachings.org
Bint e Aisha

لوڈو کھیلنا

Recommended Posts

لوڈو کھیلنا


 

گذشتہ کچھ دنوں سے لوڈو کی حرمت پر مسلسل ایسے مضمون جاری کئے جارہے ہیں کہ جس میں بعض روایات کو بنیاد بناکر ان کھیلوں کو جس میں ڈائس (چوکور گوٹی جس پر چھ نمبر لکھے ہیں) استعمال ہوتی ہے، حرام قرار دیا جاتا ہے.

 

 اس موضوع سے متعلق روایات

 

(١) عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدِ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ".

• جس نے نرد (چوسر) کھیلا اس نے اللہ اور اسکے رسول کی نافرمانی کی.

 

(٢) عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدَشِيرِ فَكَأَنَّمَا غَمَسَ يَدَهُ فِي لَحْمِ خِنْزِيرٍ وَدَمِهِ".

• جس نے نردشیر سے کھیلا گویا اس نے اپنے ہاتھ خنزیر کے خون اور گوشت میں لتھڑ دیئے.

 

(٣) عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ : بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ اللَّعِبِ بِالْكَعْبَيْنِ فَقَالَ: "إنَّهَا مَيْسِرُ الْأَعَاجِمِ".

قَالَ: وَكَانَ قَتَادَةُ يَكْرَهُ اللَّعِبَ بِكُلِّ شَيْءٍ حَتَّى يَكْرَهَ اللَّعِبَ بِالْحَصَى.

• حضور علیہ السلام سے جانور کے ٹخنے کی ہڈی سے کھیلنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ عجمیوں کا جوا ہے.

 

(واضح رہے کہ جانور کے ٹخنے کی ہڈی سے فارس موجودہ افغانستان اور ایران میں اب بھی ایک کھیل کھیلا جاتا ہے )

 

(٤) عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ عَنْ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: "نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الضَّرْبِ بِالْكِعَابِ".

• آپ علیہ السلام نے ٹخنے کی ہڈی سے کھیلنے سے منع فرمایا.

 

(٥) عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ: لَأَنْ أَضَعَ يَدِي فِي لَحْمِ خِنْزِيرٍ أَحَبُّ إلَيَّ مِنْ أَنْ أَلْعَبَ بِالنَّرْدِ.

• ابن عون کہتے ہے کہ ہاتھوں کو خنزیر کے خون میں رکھنا نرد کھیلنے سے بہتر ہے.

 

(٦) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ فَرْدِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: سَأَلْت عَائِشَةَ عَنْ النَّرْدَشِيرِ، قَالَتْ: قَبَّحَ اللَّهُ النَّرْدَشِيرَ وَقَبَّحَ مَنْ لَعِبَ بِهَا.

• حضرت عائشہ رضى الله عنها سے کسی نے نردشیر کھیلنے کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: اللہ تعالٰی نردشیر کا بھی ناس کرے اور جو اس کو کھیلے اس کا بھی ناس کرے.

 

(٧) عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: النَّرْدُ أَوْ الشِّطْرَنْجُ مِنْ الْمَيْسِرِ.

• حضرت علی نے فرمایا کہ نرد اور شطرنج جوے کی قسمیں ہیں.

 

(٨) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ إذَا وَجَدَ نَرْدًا فِي بَيْتٍ كَسَّرَهَا وَضَرَبَ مَنْ لَعِبَ بِهَا.

• حضرت ابن عمر رضی الله عنهما اگر کسی گھر میں نرد کو دیکھ لیتے تو اس کو توڑ دیتے اور کھیلنے والوں کو مارتے.

 

(٩) عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدِ قِمَارًا كَانَ كَآكِلِ لَحْمِ الْخِنْزِيرِ، وَمَنْ لَعِبَ بِهَا مِنْ غَيْرِ قِمَارٍ كَانَ كَالْمُدَّهِنِ بِوَدَكِ الْخِنْزِيرِ.

• حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص نے فرمایا کہ جو نرد کو جوے کے ساتھ کھیلے گا وہ خنزیر کھانے والے کی طرح ہے اور جو بغیر جوے کھیلے گا وہ خنزیر کی چربی ہاتھوں میں لگانے والے کی طرح ہے.

 

(١٠) عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ كَانَ إذَا مَرَّ بِهِمْ وَهُمْ يَلْعَبُونَ بِالنَّرْدَشِيرِ عَقَلَهُمْ إلَى نِصْفِ النَّهَارِ.

• حضرت علی رضی اللہ عنہ اگر کسی کو نردشیر کھیلتے ہوئے دیکھ لیتے تو اسکو آدھا دن باندھ کر رکھنے کی سزا دیتے تھے.

 

 

 ان تمام روایات میں دو باتوں پر بہت زور دیا گیا:

 

١. نردشیر کے کھیلنے پر مطلقا وعید بیان کی گئی.

٢. دیگر ایسے کھیل جن پر قومیں جوا کھیلتی ہیں ان پر وعید بیان کی گئی.

 

نردشیر کیا ہے؟

 

اس کھیل کو اللہ اور اسکے رسول کی نافرمانی قرار دیا گیا اور خنزیر کے خون میں ہاتھ رنگنے والا کہا گیا، تو اس کھیل کا تعارف کیا ہے اور اس پر شدید وعید کی وجہ کیا ہے؟

 

□ قال ابن منظور: شيءٌ يلعبُ به، فارسي معرب، وليس بعربي، وهو النردشير، فالنردُ اسمٌ عجمي معربٌ، و(شير) بمعنى حل، 

ابن منظور کہتے ہے کہ یہ ایک کھیل ہے جس کو فارس کے لوگ کھیلتے ہیں

 

ويقول الزبيدي: يقالُ: (النردشير)، إضافةً إلى واضعهِ أرد شير بن بابك من ملوكِ الفرسِ.

زبیدی کہتے ہیں کہ اس نام کی نسبت اس کے بنانے والے کی طرف کی گئ ہے

 

    اردو لغات میں نردشیر کا معنی

 

نرد کا معنیٰ:  چوسر یا شطرنج کی گوٹ یا مہرہ، شطرنج کے کھیل کا پیادہ جو صرف آگے چلتا ہے پیچھے نہیں چلتا، مراد ہبقت، پیشوائی۔

فیروز اللغات اردود جامع صفحہ 1356 کالم 1

 

 تقریبا تمام علمائے اسلام نے نردشیر کی جو تعریف بیان فرمائی ہے اس سے اس کھیل کی قباحت واضح ہوتی ہے.

 

□ جاء في "حياة الحيوان" للدميري: وقد أغفل ابن خلكان من وصف النرد أشياء منها: أن الاثني عشر بيتًا التي في الرقعة مقسومة أربعة على عدد فصول السنة. ومنها أن الثلاثين قطعة بيض وسود كالأيام والليالي. ومنها أن الفصوص مسدسة، إشارة إلى أن الجهات ست لا سابع لها. ومنها أن ما فوق الفصوص وتحتها كيفما وقعت سبع نقط عدد الأفلاك، وعدد الأرضين، وعدد السموات، وعدد الكواكب السيارة. ومنها أنه جعل تصرف اللاعب في تلك الأعداد لاختياره وحسن التدبير بعقله. كما يرزق العاقل شيئًا قليلا فيحسن التدبير فيه، ويرزق المفرط شيئاً كثيراً فلا يحسن التصرف فيه، فالنرد جامع لحكم القضاء والقدر وحسن التصرف لاختيار لاعبه.

 

○ علامہ دمیری رحمه اللہ اپنی کتاب "حیات الحیوان" میں لکھتے ہیں:

 

١. نردشیر میں بارہ گھروں کو چار چار کے خانے میں تقسیم کیا گیا ہے، تو گویا یہ سال کے بارہ مہینے چار موسموں کے اعتبار سے تقسیم کئے گئے.

 

٢. اس میں تیس خانے ہوتے ہیں، کچھ کالے اور کچھ سفید، تو یہ دن اور رات کی طرف اشارہ ہے.

 

٣.اس میں جو پانسہ پھینکا جاتا ہے وہ چھ کونوں والا ہوتا ہے، یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اطراف چھ ہیں: سامنے، پیچھے، دائیں، بائیں، اوپر، نیچے.

 

٤. جب بھی پانسے کو پھینکا جائیگا تو اوپر اور نیچے والا عدد ملا کر ہمیشہ سات ہی آئیگا، گویا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ افلاک سات ہیں اور زمین اور آسمان سات ہیں.

 

اب کھیلنے والے کے ہاتھ میں یہ کھیل دے کر گویا اس کو زندگی اور عالم کے تصرفات کا مالک بنایا گیا، کہ جو شخص جتنی عقل مندی سے کھیلے گا ویسے ہی جیتتا رہے گا، ایسے ہی اگر عقلمندی سے زندگی گذارےگا تو زندگی اس کے قابو میں رہے گی، گویا ایک طرح سے اس کھیل کا کھیلنے والا تقدیر کا مالک بن جاتا ہے.

 

اس کھیل کو ایجاد کرنے والا

 

النردشير المذكور في هذا الحديث ويقال له أيضا "النرد" وَهُوَ الْمُسَمَّى الآنَ بِالطَّاوِلَةِ فِي عُرْفِ الْعَامَّةِ.

وَقَدْ وُضِعَ النَّرْدُ لأَزْدَشِيرْ مِنْ وَلَدِ سَاسَانَ وَهُوَ أَوَّلُ الْفُرْسِ وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ لَعِبَ بِهِ فَقِيلَ نَرْدَشِيرُ، وَجَعَلَ مَا تَأْتِي الْفُصُوصُ بِهِ مِنْ الأَعْدَادِ فِي الْكَثْرَةِ وَالْقِلَّةِ لِمَنْ يَضْرِبُ بِهَا مِثْلَ الْقَضَاءِ وَالْقَدْرِ وَتَقَلُّبِهِ فِي الدُّنْيَا وَجَعَلَ تَصَرُّفَ اللاعِبِ فِي تِلْكَ الأَعْدَادِ لاخْتِيَارِهِ وَلَهُ فِيهِ حُسْنُ التَّدْبِيرِ كَمَا يُرْزَقُ الْمُوَفَّقُ شَيْئًا يَسِيرًا فَيُحْسِنُ التَّصَرُّفَ فِيهِ، وَيُرْزَقُ الأَحْمَقُ شَيْئًا كَثِيرًا فَلا يُحْسِنُ التَّصَرُّفَ فِيهِ.

 

اس کھیل کو ایجاد کرنے والا ازدشیر ہے، جو ساسانی نسل میں سے تھا، اسی نے سب سے پہلے اس کھیل کو کھیلا، اسی لئے اس کھیل کا نام نردشیر پڑگیا.

 

چونکہ یہ مجوسی آتش پرست لوگ تھے اور اللہ رب

العزت کے منکر تھے، اسلئے اس کھیل سے دنیا پر غلبہ اور انسان کا اپنی تقدیر پر مکمل اختیار ہونے کو ظاہر کیا گیا.

 

موجودہ زمانے میں اس کی شکل

 

النرد الوارد في الحديثِ والآثارِ ذمُّهُ هو: كعاب الدومينو.

قال الدكتور محمد رواس قلعه جي في "معجم لغة الفقهاء" (2/83):

 

النرد: بفتح فسكون، لفظ معرب: لعبة تعتمد على الحظ، ذات صندوق وحجارة وزهرين. وينتقل فيها الحجارة حسبما يأتي به الزهران، وتعرف اليوم ب‍ (الطاولة) .... Game at dice. اهـ

 

game at dice اس کھیل کو موجودہ زمانے میں کہا جاتا ہے.

 

• اس کی تائید حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس قول سے بھی ہوتی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں دو انگارے اپنے ہاتھ میں لوں یہ مجھے زیادہ پسند ہے ان دو ہڈیوں کو ہاتھ میں لینے سے.

□ ويؤيده قولُ عليّ رضي الله عنه في النرد: "لأن أقلب جمرتين أحب إليّ من أن أقلب كعبين".

[رواه ابن أبي شيبة (26156 )]

وفي مصنف ابن أبي شيبة آثار أخر، تؤكد هذا المعنى.

 

فقھائے کرام کے اقوال

 

١. ذكر الإمام النووي أن الجمهور قال بالحرمة.

امام نووی رحمه اللہ نے شرح مسلم میں فرمایا ہے کہ جمہور کا قول اس کھیل (نرد) کے بارے میں حرمت کا نقل کیا گیا ہے.

 

٢. وأن أباإسحاق المروزي وغيره قال بالكراهة فقط.

قلت: وقد رد العلماء على من قال بكراهته فقط.

 

بعض علماء نے کراہیت کا قول نقل کیا ہے:

 

 فَقَالَ الرُّويَانِيُّ فِي الْحِلْيَةِ: أَكْثَرُ أَصْحَابِنَا عَلَى التَّحْرِيمِ، وَقَالُوا: إنَّهُ مَذْهَبُ الشَّافِعِيِّ.

وَمِمَّا يُزَيِّفُ الْقَوْلَ بِكَرَاهَةِ التَّنْزِيهِ نَقْلُ الْقُرْطُبِيِّ فِي شَرْحِ مُسْلِمٍ اتِّفَاقَ الْعُلَمَاءِ عَلَى تَحْرِيمِ اللَّعِبِ بِهِ مُطْلَقًا، وَنَقْلُ الْمُوَفَّقِ الْحَنْبَلِيِّ فِي مُغْنِيهِ الإِجْمَاعَ عَلَى تَحْرِيمِ اللَّعِبِ بِهِ.

 

• وقال الماوردي: الصَّحِيحُ الَّذِي ذَهَبَ إلَيْهِ الأَكْثَرُونَ تَحْرِيمُ اللَّعِبِ بِالنَّرْدِ وَأَنَّهُ فِسْقٌ تُرَدُّ بِهِ الشَّهَادَةُ.

علامہ ماوردی، علامہ موفق حنبلی اور علامہ قرطبی رحمهم اللہ نے نردشیر (چوسر) کے کھیل کی حرمت پر امت کا اجماع نقل کیا ہے.

 

کیا یہ گناہ کبیرہ ہے یا صغیرہ؟

 

اس بات کو بھی متفقہ طور پر کہا جاسکتا ہے کہ یہ گناہ کبیرہ  ہے، کیونکہ اس پر جس قدر سخت وعید  وارد ہوئی ہے اس سے گناہ کبیرہ ہی سمجھ میں آتا ہے.

 وبعد الحكم بحرمته هل هو من الكبائر أم من الصغائر؟ اختلفوا في ذلك، والحديث الذي معنا فيه وعيد شديد عليه.

• قال ابن حجر الهيتمي في الزواجر عَدُّه من الكبائر هُوَ ظَاهِرُ هَذِهِ الأَخْبَارِ لأَنَّ التَّشْبِيهَ الَّذِي فِيهِا يُفِيدُ وَعِيدًا شَدِيدًا.

• وَقَالَ إمَامُ الْحَرَمَيْنِ: الصَّحِيحُ أَنَّهُ مِنْ الْكَبَائِرِ، وَجَرَى عَلَى ذَلِكَ الأَذْرَعِيُّ فَقَالَ: مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدِ عَالِمًا بِمَا جَاءَ فِيهِ مُسْتَحْضِرًا لَهُ فُسِّقَ وَرُدَّتْ شَهَادَتُهُ فِي أَيِّ بَلَدٍ كَانَ، لا مِنْ جِهَةِ تَرْكِ الْمُرُوءَةِ بَلْ لارْتِكَابِ النَّهْيِ الشَّدِيدِ.

• وَلكن اَلَّذِي جَرَى عَلَيْهِ الرَّافِعِيُّ وغيرهٍ أَنَّهُ صَغِيرَةٌ، قال الرَّافِعِيِّ مَا حَكَمْنَا بِتَحْرِيمِهِ كَالنَّرْدِ. فَهَلْ هُوَ مِنْ الْكَبَائِرِ حَتَّى تُرَدَّ الشَّهَادَةُ بِالْمَرَّةِ الْوَاحِدَةِ مِنْهُ أَوْ مِنْ الصَّغَائِرِ يَتَعَيَّنُ فِيهِ الإِكْثَارُ؟ فِيهِ وَجْهَانِ ثم اختار الثاني.

 

 تنبيه: ما سبق من اختلافهم في حكم اللعب بالنرد هل هو حرام صغيرة أو كبيرة أو مكروه، فمحل هذا الاختلاف حَيْثُ خَلا عَنْ الْقِمَارِ وَإِلا فَهُوَ كَبِيرَةٌ بِلا نِزَاعٍ، كَمَا أَشَارَ إلَيْهِ الزَّرْكَشِيُّ.

 

کیا بغیر جوے کے نردشیر حرام نہیں؟

 

قال شيخُ الإسلامِ ابنُ تيميةَ في "الفتاوى": وَالنَّرْدُ حَرَامٌ عِنْدَ الْأَئِمَّةِ الْأَرْبَعَةِ سَوَاءٌ كَانَ بِعِوَضٍ أَوْ بغَيْرِ عِوَضٍ، وَلَكِنَّ بَعْضَ أَصْحَابِ الشَّافِعِيِّ جَوَّزَهُ بِغَيْرِ عِوَضٍ، لِاعْتِقَادِهِ أَنَّهُ لَا يَكُونُ حِينَئِذٍ من الْمَيْسِرِ.

علامہ ابن تیمیہ رحمه اللہ فرماتے ہیں کہ نردشیر آئمہ اربعہ کے نزدیک بالاتفاق حرام ہے چاہے اس میں جوا ہو یا نہیں.

البتہ بعض علماء کے نزدیک بغیر عوض کے اس کا کھیلنا صرف مکروہ ہے.

 

گوٹیوں سے کھیلا جانے والا ہر کھیل نردشیر کے حکم میں شامل نہیں

 

کسی بھی زمانے میں مطلقا ہر کھیل کو نردشیر کے ساتھ جوڑ کر اس پر حرمت کا فتوی نہیں لگایا گیا، بلکہ اصل علت کو بنیاد قرار دیا گیا ہے اور وہ علت جوا ہے، لہذا اگر کسی جائز کھیل میں جوا ہوگا تو وہ حرام ہے، اور اگر کسی کھیل میں جوا نہیں تو اس کو مطلقا حرام قرار نہیں دیا جائیگا.

☆یہاں ایک اور علت بھی نردشیر میں سمجھ آرہی ہے اور وہ ہے تقدیر کے انکار کی شکل کا ہونا اور انسان کو متصرف مختار قرار دینا

 

 اسی لئے علمائے کرام نے کھیلوں میں مشغولیت کیلئے چند شرائط ذکر کی ہیں:

 

*١. اس کی وجہ سے فرائض میں سستی نہ ہو.*

*٢. اس میں جوا شامل نہ ہو.*

*٣. کسی شرعی کام کی مخالفت نہ ہو.*

 

 قال الشيخ سيد سابق رحمه الله في كتابه القيم "فقه السنة" (3/514):

والذين أباحوه اشترطوا لإباحته الشروط الآتية:

 

*١-* أن لا يشغل عن واجب من واجبات الدين.

*٢ـ* أن لا يخالطه قمار.

*٣ـ* أن لا يصدر أثناء اللعب مايخالف شرع.

 

لوڈو کے متعلق فتوی

 

سوال: لوڈو کھیلنے کا کیا حکم ہے جب کہ کوئی جوا اور شرط وغیرہ نہ رکھی جائے، نماز وغیرہ کے وقت کا بھی خیال رکھتے ہوئے لوڈو کھیل کھیلنے کا کیا حکم ہے؟

 

الجواب حامدا و مصلیا

 

اگر لوڈو میں جوا نہ لگایا جائے اور اس کی عادت بھی نہ بنائی جائے اور اس میں مشغولیت کی وجہ سے کسی واجب کا ترک یا کسی حرام کا ارتکاب بھی لازم نہ آتا ہو تو اس کا کھیلنا اگرچہ جائز ہوگا، لیکن ایسے کھیل کا انتخاب کرنا چاہیئے جس میں دماغی تفریح کے ساتھ ساتھ جسمانی ورزش بھی ہوتی ہو، جب کہ مذکور کھیل عموما ضیاع وقت کا باعث ہے.

“ھذا اذا لم یقامر ولم یداوم ولم یخل بواجب، وإلا فھو حرام بالإجماع". [الدر المختار (6-396)]

 

● علامہ البانی رحمه اللہ جیسی متشدد شخصیت نے بھی مطلقا اس طرح کے کھیلوں کو حرام قرار نہیں دیا، بلکہ لکھا ہے کہ اگر جوا نہ ہو اور تصاویر نہ ہوں تو کبھی کبار اس طرح کے کھیل کھیلے جاسکتے ہیں، البتہ اس کو عادت بنانا اور اس میں ایسا انہماک کہ جسکی وجہ سے نمازیں اور واجبات چھوٹ جائیں یہ درست نہیں.

 

 قال الإمام الالباني رحمه الله تعالى جوابا على سؤال نصه:

 

سؤال: ما حكم لعب الورق، الشطرنج، النرد وغيرها من الألعاب؟ 

 

الجواب: لعبة الورق هي لعبة الكفار الذين مثلوا عقيدتهم وشركهم في بعض الصور التي على بعض الأوراق، فاللعب بهذا الورق بدون قمار لا يخلوا كراهة على الأقل، لما فيه من استعمال هذه الصور والإقبال والانكباب عليها. 

وهذا يذكرني بما روي عن علي رضي الله عنه أنه مر بقوم يلعبون الشطرنج، فقال لهم: ما هذه التماثيل التي أنتم لها عاكفون؟.. لأنه فعلا الشطرنج فيه تماثيل كالفرس مثلا.

• واللعب بالورق أنواع: بعضها قائم على إعمال العقل، والبعض الآخر قائم على الحظ فهذا النوع الأخير ای القائم على الحظ، فيه شبه بالنرد الذي جاء النص الصحيح الصريح بتحريمه، فقد جاء في صحيح مسلم عن النبي عليه السلام أنه قال: "الذي يلعب بالنرد مثله كمثل الذي يغمس يده في لحم خنزير ودمه".

وحكم ماكان قائما على إعمال العقل هو حكم الشطرنج وھو الكراهة.

 

 وننصح من كان مبتلى بلعب الشطرنج أن يقطع رؤوس هذه التمثيل الصغيرة.

 

فالضابط: أن أي لعب فيه تماثيل أو صور فيجب الابتعاد عنه، أما ما ليس فيه شيء من ذلك، فيجوز اللعب به أحيانا من باب الترويح عن النفس، أما أن يتخذ ديدنا بحيث يشغل وقته كله، ويشغله عن الصلاة، وعن أهله، فهذا حينئذ يعتبر كالخمر التي تصد عن ذكر الله وعن الصلاة.

 

خلاصہ کلام

 

ہر وہ کھیل جس کی ممانعت صراحتا روایات میں موجود ہے اس کا کھیلنا منع ہے، لیکن اس کے علاوہ جو کھیل ہیں ان کو چند شرائط کیساتھ کھیلنا جائز ہے:

 

١. اس کھیل کو مقصد نہ بنایا جائے 

٢. اسکی وجہ سے کوئی شرعی واجبات فوت نہ ہوں.

٣. اس میں اتنا انہماک نہ ہو کہ پورا دن یا پوری رات اس میں گذر جائے.

٤. اس میں جوا نہ لگایا جائے.

٥. وہ کھیل تفریح کا باعث تو ہو لیکن لڑائی جھگڑے کا باعث نہ بنے.

 

ہمارے ہاں لوڈو، کیرم بورڈ وغیرہ جیسے کھیل عموما تفریح طبع کیلئے کھیلے جاتے ہیں، لہذا اس پر چوسر کا حکم لگا کر اس کو حرام قرار دینا ہرگز درست نہیں، البتہ اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ بہتر عمل نہیں.

 

    《واللہ اعلم بالصواب》

《کتبه: عبدالباقی اخونزادہ》

١٠ذوالقعده ١٤٣٨ مدینہ منورہ

Share this post


Link to post
Share on other sites


لوڈو کھیلنا؟ 
 

اسلام  کی نظر میں انسان کی  بامقصد زندگی کی بڑی اہمیت ہے ۔اس لئے اس نے لہو ولعب لغو وفضول کاموں سے اپنے ماننے والوں کو سختی سے روکا ہے۔جائز حد میں رہتے اور لغویات و فضولیات سے اجتناب کرتے ہوئے ہر امر کی اجازت دی گئی ہے۔قلب ،جسم ودماغ اور فکر وخیال کی تفریح وتازگی بخشنے کی بھی اسلام نے اجازت دی ہے۔اس مقصد کے لئے ہر ایسے کھیل کی اجازت ہے جو  لہو ولعب لغو وفضول چیزوں پہ مشتمل نہ ہو۔جس سے نہ اللہ کے حقوق ضائع ہوتے ہوں نہ بندوں کے ۔جو  تمام منہیات شرعیہ سے بھی  پاک ہو ۔
جس کا نفع نقصان سے زیادہ ہو ۔
ان شرطوں کی رعایت کے ساتھ ہر کھیل کود کی اجازت ہے ۔

ہارجیت کی شرط اور حقوق اللہ اور حقوق العباد میں تفریط کے بغیر عادت بنائے بغیر کبھی کبھار صرف تفریح قلب کے لئے لوڈو کھیلنے کی گنجائش ہے۔ممانعت کی کوئی دلیل نہیں ہے۔لوڈو کی ممانعت پہ "النرد " اور "الشطرنج " والی روایات کا انطباق درست نہیں ، 


بَاب تَحْرِيمِ اللَّعِبِ بِالنَّرْدَشِيرِ 

2260 حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدَشِيرِ فَكَأَنَّمَا صَبَغَ يَدَهُ فِي لَحْمِ خِنْزِيرٍ وَدَمِهِ 
صحيح مسلم. كتاب الشعر

 وقال النووي في شرحه  على مسلم
قوله صلى الله عليه وسلم : ( من لعب بالنردشير فكأنما صبغ يده في لحم خنزير ودمه ) قال العلماء : النردشير هو [ ص: 417 ] النرد ، فالنرد عجمي معرب ، و ( شير ) معناه حلو . وهذا الحديث حجة للشافعي والجمهور في تحريم اللعب بالنرد . 

وقال أبو إسحاق المروزي من أصحابنا ، يكره ولا يحرم . 

وأما الشطرنج فمذهبنا أنه مكروه ليس بحرام ، وهو مروي عن جماعة من التابعين . وقال مالك وأحمد : حرام . قال مالك : هو شر من النرد ، وألهى عن الخير ، وقاسوه على النرد . وأصحابنا يمنعون القياس ، ويقولون : هو دونه . ومعنى ( صبغ يده في لحم الخنزير ودمه في حال أكله منهما ) وهو تشبيه لتحريمه بتحريم أكلهما . والله أعلم ۔

 وأخرجه ابوداؤد برقم 4930 في الأدب. وأبن ماجه برقم 3763 في الأدب واحمد في مسنده برقم 22470۔


النرد چوسر کی طرح کا ایک کھیل جو دوہری بساط پر کھیلا جاتا ہے ایک ڈبیا میں کنکریاں یا پلاسٹک کی گوٹیں ہوتی ہیں اور دو نگ ہوتے ہیں جن کو ہلا کر جیسا نگ نکل آتا ہے اس کے مطابق کنکر یاں یا گوٹیں آگے بڑھائی جاتی ہیں۔

لوڈو سمیت ہر قسم کے کھیل کی اجازت مذکورہ بالا شرطوں کے ساتھ مشروط ہے ۔شرط کے فقدان کی صورت میں دیگر ممنوع کھیلوں کی طرح لوڈو کھیلنا بھی ممنوع وناجائز ہوگا۔
علامہ تقی عثمانی صاحب تحریر فرماتے ہیں 
وحاصل الکلام أن ترویح القلب وتفریحہ، وکذا تمرین البدن من الارتفاقات المباحۃ والمصالح البشریۃ التي لا تمنعہا الشریعۃ السمحۃ برأسہا، نعم تمنع الغلو والإنہماک فیہا بحیث یضر بالمعاش أو المعاد۔ (أحکام القرآن للتھانوي ۵؍۱۲۲، تکملۃ فتح الملہم ۴؍۴۳۴ مکتبۃ دار العلوم کراچی)
ما شہدت التجربۃ بأن ضررہ أعظم من نفعہ، ومفاسدہ أغلب علی

منافعہ، وأنہ من اشتغل بہا، ألہاہ عن ذکر اللّٰہ وحدہ عن الصلوات والمساجد التحق ذلک بالمنہي عنہ لاشتراک العلۃ، فکان حرامًا أو مکروہًا۔ (أحکام القرآن ۵؍۱۲۶، تکملۃ فتح الملہم ۴؍۴۳۵)


در مختار میں ہے 
" هذا إذا لم يقامر ولم يداوم ولم يخل بواجب وإلا فهو حرام بالإجماع. (الدر المختار 396/6 )
واللہ اعلم بالصواب 
شکیل منصور القاسمی

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×
×
  • Create New...