Jump to content
IslamicTeachings.org
Bint e Aisha

کل کی ماں کاپیغام آج کی ماؤں کے نام

Recommended Posts

کل کی ماں کاپیغام آج کی ماؤں کے نام

 

( حضرت اقدس مولانا ابو الحسن علی ندوی قدس سرہ العزیز کی تصنیف سے ایک اقتباس)

 

ایک زمانہ میں میری طبیعت دینی تعلیم سے کچھ اُچاٹ سی ہونے لگی اور انگریزی تعلیم حاصل کرنے اور سرکاری امتحانات دینے کا دورہ سا پڑا ،بھائی صاحب نے کسی خط میں یا رائے بریلی کے کسی سفر میں والدہ صاحبہ سے میرے اس نئے رجحان کی شکایت کی اس پر اُنھوں نے میرے نام جو خط لکھا،اس سے ان کے دلی خیالات ،جذبات اور اُن کی قوتِ ایمانی اور دین سے محبت و عشق کا اندا زہ ہوتا ہے ۔اس خط کا ایک اقتباس جس پر کوئی تاریخ نہیں ہے لیکن غالباً ١٩٢٩ء یا ١٩٣٠ء کا لکھا ہوا ہے،من و عن پیش کیاجا رہا ہے :

 

عزیزی علی سلمہ

 

تمہارا اب تک کوئی خط نہیں آیا ،روز انتظار کرتی ہوں ،مجبورآکر خود لکھتی ہوں،جلد اپنی خیریت کی اطلاع دو۔عبدالعلی کے آنے سے اطمینان ضرور ہوا، مگر تمہارے خط سے تو اور تسکین ہوتی ۔عبدالعلی سے میں نے تمہاری دوبارہ طبیعت خراب ہونے کا ذکر کیا تو اُنھوں نے کہا کہ علی کو اپنی صحت کا بالکل خیال نہیں،جو وقت تفریح کا ہے وہ پڑھنے میں گزارتے ہیں ۔میں نے کہا ، تم روکتے نہیں ،کہا بہت کہہ چکے اور کہتے رہتے ہیں ، مگر وہ نہیں خیال کرتے، اس سے سخت تشویش ہوئی ،اول تو تمہاری بے خیالی اور ناتجربہ کاری اور پھر بے موقع محنت جس سے اندیشہ ہو ۔

 

علی!مجھے امیدتھی کہ تم انگریزی کی طرف مائل نہ ہو گے، مگر خلاف ِاُمید تم کہنے میں آگئے اور اتنی محنت گوارہ کر لی خیر بہتر ،جو کچھ تم نے کیا ، یہ بھی اس کی حکمت ہے بشرطیکہ استخارہ کر لیا ہو۔

 

مجھے تو انگریزی سے بالکل اُنسیت نہیں ،بلکہ نفرت ہے، مگر تمہاری خوشی منظور ہے۔ علی!دنیا کی حالت نہایت خطرناک ہے،اس وقت عربی حاصل کرنے والوں کا عقیدہ ٹھیک نہیں تو انگریزی والوں سے کیا اُمید ! بجز عبدالعلی او ر طلحہ کے تیسری مثال نہ پاؤ گے ۔علی!اگر لوگوں کا عقیدہ ہے کہ انگریزی والے مرتبے حاصل کر رہے ہیں کہ کوئی ڈپٹی اور کوئی جج،کم از کم وکیل اور بیرسٹر ہونا تو ضروری ہے مگر میں بالکل اس کے خلاف ہوں،میں انگریزی والوں کو جاہل اور اس کے علم کو بے سود اوربالکل بیکارسمجھتی ہوں ۔ خاص کر اس وقت میں نہیں معلوم کیا ہو ،اور کس علم کی ضرورت ہو، اس وقت میں البتہ ضرورت تھی۔

اس مرتبہ کو تو ہر کوئی حاصل کر سکتا ہے ،یہ عام ہے، کون ایسا ہے جو محروم ہے،وہ چیز حاصل کرنا چاہیے جو اس وقت گراں ہے اور کوئی حاصل نہیں کرسکتا جس کے دیکھنے کو آنکھیں ترس رہی ہیں اور سننے کو کان مشتاق ہیں ۔آرزو میں دل مٹ رہا ہے مگر وہ خوبیاں نظر نہیں آتیں ۔

 

افسوس!ہم ایسے وقت میں ہوئے ،علی!تم کسی کے کہنے میں نہ آؤ اگر خدا کی رضامندی حاصل کرنا چاہتے ہو اور میرے حقوق ادا کرنا چاہتے ہو تو ان سبھوں پر نظر کرو جنھوں نے علم دین حاصل کرنے میں عمر گزار دی ان کے مرتبے کیا تھے!شاہ ولی اللہ صاحب، شاہ عبدالعزیز صاحب ، شاہ عبدالقادر صاحب ،مولوی ابراہیم صاحب اور تمہارے بزرگوں میں خواجہ احمد صاحب او رمولوی محمد امین صاحب جن کی زندگی اور موت قابلِ رشک ہوئی،کس شان وشوکت کے ساتھ دنیا برتی اور کیسی کیسی خوبیو ں کے ساتھ رحلت فرمائی۔یہ مرتبے کسے حاصل ہو سکتے ہیں، انگریزی مرتبے والے تمہارے خاندان میں بہت ہیں اور ہوں گے مگر اس مرتبے کا کوئی نہیں ،اس وقت بہت ضرورت ہے،ان کوانگریزی سے کوئی انس نہ تھا،یہ انگریزی میں جاہل تھے،یہ مرتبہ کیوں حاصل ہوا۔

 

علی!اگر میرے سو اولادیں ہوتیں ،تو سب کو میں یہی تعلیم دیتی ،اب تم ہی ہو ،اللہ تعالیٰ میری خوش نیتی کا پھل دے کہ سو کی خوبیاں تم سے حاصل ہوں اور میں دارین میں سرخ رُو اور نیک نام اور صاحب ِاولاد کہلاؤں ،آمین ثم آمین۔

 

میں خدا سے ہر وقت دُعا ء کرتی ہوں کہ وہ تم میں ہمت اور شوق دے اور خوبیاں حاصل کرنے کی اور تما م فرائض ادا کرنے کی توفیق دے آمین۔

 

اس سے زیادہ مجھے کوئی خواہش نہیں ، اللہ تعالیٰ تمہیں ان مرتبوں پر پہنچائے اور ثابت قدم رکھے ،آمین ۔علی!ایک نصیحت اور کرتی ہوں ،بشرطیکہ تم عمل کرو ، اپنے بزرگوں کی کتابیں کام میں لاؤاور احتیاط لازم رکھو۔جو کتاب نہ ہو و ہ عبدالعلی کی رائے سے خریدوباقی وہی کتابیں کافی ہیں ،اس میں تمہاری سعادت اور بزرگوں کو خوشی ہو گی ۔اس سعادت مندی کی مجھے بے حدخواہش ہے کہ تم ان کتابوں کی خدمت کرو، جو روپیہ خرچ کرو انھیں ضرورتوں میں یا کھاؤ۔

 

قرض کبھی نہ لو ، ہو تو خر چ کرو ، ورنہ صبر کرو،طالب علم یوں ہی علم حاصل کرتے ہیں ،تمہارے بزرگو ں نے بہت کچھ مصیبتیں جھیلی ہیں،اس وقت کی تکلیف باعثِ فخر سمجھو، جو ضرورت ہو ہمیں لکھو،میں جس طرح ممکن ہوگا پورا کروں گی ، خدا مالک ہے مگر قرض نہ کرنا ، یہ عادت ہلاک کرنے والی ہے ، اگر وفائے وعدہ کرو تو کچھ حرج نہیں ۔صحابہؓ نے قرض لیا ہے مگر ادا کر دیا ہے ،ہم کون چیز ہیں ۔علی!یہ بھی تمہاری سعادت مندی ہے کہ میری نصیحت پر عمل کرو۔

 

حلوہ ابھی تیار نہیں ہوسکا ،انشاء اللہ تعالیٰ موقع ملتے ہی تیار کرکے بھیجوں گی اطمینان رکھو۔بہت جلد خیریت کی اطلاع دو۔اگر دیر کرو گے تو میں سمجھوں گی کہ میری نصیحت تمہیں ناگوار ہوئی ، انشاء اللہ تعالیٰ رمضان شریف میں تم سے وعظ کہلاؤں گی ۔ اللہ تعالیٰ میری خواہش سے زیادہ تمہیں توفیق دے کہنے کی اور تمہارا کلام پُراثر اور خدا کی خوشی ورضامندی کے قابل ہو ،آمین ۔باقی خیریت ہے،تم خدا کی رحمت سے تیار رہو، تم نے وعدہ بھی کیاہے۔

 

تمہاری والدہ

 

 

( اسلام میں عورت کا درجہ۔ ص:٢٧٩)

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×
×
  • Create New...