Jump to content
IslamicTeachings.org
Bint e Aisha

Ghussa- Mufti Taqi Usmani DB

Recommended Posts

Islaahi Mazameen:

* ​غصہ کو قابو میں کرنے کا طریقہ​*

----------------------------------------------

اقتباس : اصلاحی مجالس : جلد 4

مصنف : مفتی تقی عثمانی صاحب

----------------------------------------------

قسط 3⃣

 

* ​نفس کی خواہشات کو کچل دو​*

ہمارے حضرت ڈاکٹر عبد الحی صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ آدمی ایک مرتبہ طے کرلے کہ :

 

آرزوئیں خون ہو یا حسرتیں برباد ہوں،

اب تو اس دل کو بنانا ہے ترے قابل مجھے

 

آدمی یہ عزم کرلے کہ دل میں جتنی خواہشات اللہ تعالی کی مرضی کے خلاف ہو رہی ہیں، ان کو کچلنا ہے اور ان کو پامال کرنا ہے اور پامال کرنے کے نتیجے میں ان پر قابو حاصل کرنا ہے- اور جب بندہ ایک مرتبہ یہ کام کرلیتا ہے اور اپنی خواہشات کو کچلتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خواہشات مضمحل ہوجاتی ہیں اور کمزور پڑ جاتی ہیں- یاد رکھو! یہ خواہشات مرتے دم تک ختم نہیں ہوں گی بلکہ باقی رہیں گی، لیکن ان کے جوش و خروش میں اور ان کی شدت میں کمی آجاتی ہے-

 

* ​حلاوت ایمانی نصیب ہوتی ہے​*

اور جب اس دل پر بار بار چوٹ پڑنے کے نتیجے میں اس کی خواہشات کمزور پڑجاتی ہیں تو اللہ تعالی حلاوت ایمانی عطا فرما دیتے ہیں اور اپنی معرفت عطا فرماتے ہیں اور اس حلاوت ایمانی اور معرفت کی جو لذت حاصل ہوتی ہے، اس کے مقابلے میں خواہشات کی لذت ھیچ در ھیچ ہے، اللہ تعالی اپنے فضل سے ہم سب کو حلاوت ایمان اور اپنی معرفت عطا فرما دے- آمین- اس حلاوت کے آگے گناہوں کی اور خواہشات کی لذت کوئی حقیقت نہیں رکھتی-

(جاری...)

Share this post


Link to post
Share on other sites

Islaahi Mazameen:

* ​غصہ کو قابو میں کرنے کا طریقہ​*

---------------------------------------------

اقتباس : اصلاحی مجالس : جلد 4

مصنف : مفتی تقی عثمانی صاحب

---------------------------------------------

قسط 4⃣

 

* ​یہ حلاوت مفت نہیں ملتی​*

لیکن یہ حلاوت مفت نہیں ملتی بلکہ پہلے ان خواہشات نفس پر چوٹ مارتے رہو، مارتے رہو، اور چوٹ مارنے سے شروع شروع میں بڑی تکلیف ہوگی، بڑی مشقت ہوگی، لیکن اس مشقت کو برداشت کرکے چوٹیں مارتے رہو، مارتے رہو، رفتہ رفتہ یہ دل ٹوٹ ٹوٹ کر اللہ تعالی کی تجلی گاہ بن جائے گا-

ہمارے حضرت ڈاکٹر عبد الحی صاحب رحمتہ اللہ علیہ ایک بہت خوبصورت شعر پڑھا کرتے تھے کہ :

 

یہ کہہ کے کاسہ ساز نے پیالہ پٹک دیا،

اب اور کچھ بنائیں گے اس کو بگاڑ کے

 

جس ذات نے بڑا خوبصورت پیالہ بنایا، اسی ذات نے یہ کہتے ہوئے اس پیالہ کو پٹک دیا کہ اب اس کو بگاڑ کر اور کچھ بنائیں گے- اس دل پر چوٹیں ماریں، اس پر ہتوڑے چلائے، یہ سب کیوں کیا، تاکہ اس کو بگاڑ کر اور کچھ بنائیں گے-

 

* ​برباد دل پر تجلیات کا نزول​*

کسی نے اس پر بڑا خوبصورت شعر کہا ہے کہ :

 

بتان مہوش اجڑی ہوئی منزل میں رہتے ہیں،

جسے برباد کرتے ہیں اسی کے دل میں رہتے ہیں

 

لہذا خواہشات کو کچل کچل کر جب دل کو برباد کردیا جاتا ہے، تو اس دل پر اللہ تعالی کا نزول اجلال ہوتا ہے اور ان کی تجلیات ظاھر ہوتی ہے-

(جاری...)

Share this post


Link to post
Share on other sites

Islaahi Mazameen:

* ​غصہ کو قابو میں کرنے کا طریقہ​*

-----------------------------------

اقتباس : اصلاحی مجالس : جلد 4

مصنف : مفتی تقی عثمانی صاحب

-----------------------------------

قسط 5⃣

 

* ​دل پر ذرا نشتر لگائیے​*

حضرات صوفیاء کرام اور اولیاء کرام، ان سے بھی آگے صحابہ کرام، ان سے بھی آگے انبیاء کرام علیھم السلام، ان کے جو قلوب مجلی مزکی مصفی ہوتے ہیں، وہ بھی اسی طرح ہوتے ہیں کہ یہ حضرات اپنی خواہشات کو توڑتے ہیں اور ان کو کچلتے ہیں، کیونکہ جب خواہشات کو کچلا جاتا ہے تو پھر اللہ تعالی اس دل کو مجلی مزکی بنادیتے ہیں، اس دل میں پھر اللہ تعالی کی معرفت کا نور آتا ہے، اس کے بعد پھر ان گناہوں کی خواہشات مخمحل ہوجاتی ہیں اور ان کا جوش و خروش ماند پڑ جاتا ہے، مگر اس کے لئے ابتداء میں ان خواہشات سے کشتی لڑنی پڑتی ہے-

میں نے بھی اسی موضوع پر ایک شعر کہا تھا کہ :

 

کتنے غنچے مضطرب ہیں دل میں کھلنے کیلئے،

اپنے ہاتھوں سے ذرا نشتر لگا کر دیکھئے

 

اس دل پر جتنے نشتر لگاؤگے، اتنے ہی غنچے کھلیں گے، اتنے ہی اس میں کمالات پیدا ہوں گے اور اتنے ہی اس میں انوارات اور تجلیات حاصل ہوں گی-

 

* ​رفتہ رفتہ یہ غصہ قابو میں آجائے گا​*

اس ملفوظ میں حضرت والا یہی فرما رہے ہیں کہ غصہ کا علاج یہی ہے کہ اگر غصہ آگیا تو آنے دو، لیکن اس کے بعد دل میں جو یہ تقاضہ پیدا ہوا کہ اٹھ کر اس کو ایک تھپڑ ماروں یا اس کو گالی دوں یا اس کو برا بھلا کہوں، اس تقاضے کو زبردستی دبا جاؤ اور یہ سوچو کہ میں اللہ تعالی کے لئے اس تقاضے کو دبا رہا ہوں تو پھر اس غصہ کو پامال کرنے میں بھی لذت اور حلاوت حاصل ہوگی انشاءاللہ اور جتنا یہ عمل کرتے جاؤگے، اتنا ہی یہ نفس قابو میں آتا جائے گا-

(جاری...)

Share this post


Link to post
Share on other sites

قسط 6

 

* ​انسان کا نفس دودھ پیتے پچے کی طرح ہے​*

قصیدہ بردہ شریف میں علامہ بوصیری رحمتہ اللہ فرماتے ہیں :

 

النفس کا لطفل ان تھمله شب علی،

حب الرضاع و ان تفطمه ينفطم

 

یعنی انسان کا نفس چھوٹے بچے کی طرح ہے جو ابھی دودھ پیتا ہے، وہ بچہ کبھی یہ چاہے گا کہ میں دودھ چھوڑ دوں؟ نہیں، کیونکہ اس کو تو دودھ پینے کی عادت پڑی ہوئی ہے، اس لئے وہ ماں کا دودھ چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہے، دودھ پیتے پیتے دو سال ہوچکے ہیں، اب اگر ماں باپ یہ سوچیں کہ اگر اس بچے کا دودھ چھڑائیں گے تو اس کو بہت تکلیف ہوگی، روئے گا، چلائے گا، خود بھی پریشان ہوگا اور ہمیں بھی پریشان کرے گا؛ لہذا دودھ نہ چھڑاو، تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ بچہ جوان ہوجائے گا اور دودھ پینے کی عادت نہیں جائے گی- لیکن اگر ماں باپ اس کا دودھ چھڑانے کی کوشش کریں گے تو وہ بچہ دودھ چھوڑ بھی دے گا، ایک دن، دو دن، تین دن تک روئے گا، چلائے گا، پریشان کرے گا؛ لیکن بالآخر چھوڑ دے گا، ہر بچہ کے ساتھ یہی معاملہ ہوتا ہے-

 

* ​نفس کو بے مہار مت چھوڑو​*

علامہ بوصیری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ انسان کا نفس بھی بچے کی طرح ہے، اگر تم نے اس نفس کو بے مہار چھوڑ دیا کہ جو خواہش ہورہی ہے، اس پر عمل کررہے ہو اور اس کی ہر خواہش پوری کررہے ہو تو یہ نفس تمہیں ہلاکت کے گڑھے میں لے جاکر گرا دے گا اور تم کبھی بھی گناہوں سے نجات نہیں پاسکوگے، لیکن اگر تم نے اس کو قابو کرلیا اور اس سے زبردستی گناہ چھڑانے کی کوشش کرلی تو یہ نفس گناہ چھوڑ بھی دے گا، بات ساری کوشش کی ہے- یہی معاملہ غصہ کا ہے کہ اس کے تقاضے کو دباتے رہو تو رفتہ رفتہ غصہ کا جوش مضمحل ہوجائے گا-

(جاری...)

Share this post


Link to post
Share on other sites

قسط 7

 

* ​غصہ کا بہترین علاج​*

بعض اوقات غصے کو قابو میں کرنے کے لئے اور علاج بھی مفید ہوجاتے ہیں، لیکن وہ علاج بڑے سخت ہیں، وہ علاج حضرت والا نے اس ملفوظ میں بیان فرمائے ہیں، فرمایا کہ :

 

"اگر طبعی طور سے غصہ زیادہ آجاتا ہو اور ذرا سی بات پر حد سے زیادہ غصہ آجاتا ہو کہ اس وقت عقل نہ رہتی ہو تو اس کا بہترین علاج یہ ہے کہ جس پر غصہ کیا جائے، غصہ فرو ہونے کے بعد مجمع میں اس کے سامنے ہاتھ جوڑے، پاؤں پکڑے، بلکہ اس کے جوتے اپنے سر پر رکھ لے، ایک دو بار ایسا کرنے سے نفس کو عقل آجائے گی-" (انفاس عیسی، ص : 171)

یعنی جس شخص پر بہت زیادہ غصہ کرلیا اور حدود سے تجاوز کرگئے تو اس کا ایک علاج یہ ہے کہ جب غصہ ختم ہوجائے تو مجمع میں اس سے معافی مانگے کہ مجھ سے غلطی ہوگئی، مجھے معاف کردو، اس کے سامنے ہاتھ جوڑے، اس کے پاؤں پکڑے، اس کے جوتے سر پر رکھ لے، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جب اگلی مرتبہ غصہ کا موقع آئے گا تو اس وقت نفس یہ سوجے گا کہ یہ تو اچھی خاص مصیبت ہے، پہلے تو صرف غصے کو پینا ہی تھا، اب تو مجمع کے سامنے ذلت اٹھانی پڑتی ہے، اس ڈر سے غصے کے تقاضے کی شدت میں کمی آجائے گی، ایک دو بار ایسا کرنے سے انشاءاللہ نفس کو عقل آجائے گی-

(جاری...)

Share this post


Link to post
Share on other sites

قسط 8

 

* ​اپنی ماں کے پاؤں پکڑ کر معافی مانگو​*

میرے ایک دوست ہیں جو مغلوب الغضب ہیں، غصے کے بہت تیز ہیں، یہاں تک کہ اگر ماں نے بھی کچھ کہہ دیا تو ماں پر غصہ کرنا شروع کردیتے ہیں- مجھ سے بار بار پوچھتے رہتے ہیں کہ فجر کی نماز میں کیا ذکر کروں، ظہر کی نماز میں کیا تسبیحات پڑھوں- میں نے ان سے کہا کہ تم کچھ مت کرو، پہلا کام یہ کرو کہ ماں کے پاس جاکر اس کے پاؤں پکڑ کر معافی مانگو اور کہو کہ مجھ سے غلطی ہوگئی، مجھے معاف کردو- میری یہ بات سن کر تعجب سے کہنے لگے کہ اچھا حضرت! میں معافی مانگوں، یہ تو بڑا مشکل کام ہے- میں نے کہا کہ یہ تو تمہیں کرنا ہوگا، جاکر معافی مانگو اور پاؤں پکڑو اور یہ کام سب بہن بھائیوں کے سامنے کرو، کہنے لگے کہ بڑا مشکل کام ہے- میں نے کہا کہ کچھ بھی ہوجائے، لیکن تم یہ کام کرو- انکو یہ عمل بہت شاق گزر رہا تھا کہ میں اپنے تمام بہن بھائیوں کے سامنے ماں سے معافی مانگوں- لیکن انہوں نے جاکر یہ کام کیا، جب واپس آئے تو مجھسے کہا کہ کیا بتاؤں، اس وقت میرے سینے پر سانپ لوٹ گئے، آرے چل گئے- میں نے کہا کہ میرا بھی یہی مقصد تھا- جب دو چار مرتبہ یہ کام ان سے کرایا تو طبیعت اعتدال پر آگئی-

بہر حال! انسان کا نفس ان کاموں کو سخت محسوس کرتا ہے، لیکن بعض اوقات یہی کرنا پڑتا ہے، جب انسان یہ کڑوی گولی نگل لیتا ہے، تو اس کے بعد پھر اللہ تعالی کی طرف سے شفا ہوتی ہے اور اللہ تبارک و تعالی اس مرض سے نجات عطا فرما دیتے ہیں-

 

* ​شیخ کی نگرانی میں علاج کریں​*

مگر یہ کام بھی کسی شیخ کی نگرانی میں کرنے چاہئیں، خود اپنی رائے سے نہ کرے، بعض اوقات اپنی رائے سے کرنے سے بھی نقصان ہوجاتا ہے اور الٹا اثر پڑ جاتا ہے، کیونکہ شیخ جانتا ہے کتنی خوراک دوا دی جائے، اگر ضرورت سے زیادہ دوا دے دی تو مصیبت ہوجائے گی اور اگر کم دوا دے دی تو فائدہ نہیں کرے گی، اس لئے شیخ کے ذریعہ یہ علاج کرنا چاہئے-

(جاری...)

Share this post


Link to post
Share on other sites

قسط 9

 

* ​غصہ کا ایک اور علاج​*

حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ غصہ کے علاج کے لئے اس بات کا کثرت سے استحضار کرنا بھی مفید ہوتا ہے، وہ بات یہ ہے کہ :

"تجربہ کرکے دیکھا گیا ہے کہ غصہ روکنا ہمیشہ اچھا ہوا اور جب اس کو جاری کیا گیا تو اس کا انجام ہمیشہ برا ہوا اور دل کو قلق بھی ہمیشہ ہوا-" (انفاس عیسی، ص : 172)

 

یعنی زمانہ ماضی کو یاد کرو کہ جتنی مرتبہ غصے کو روکا تو اس کا انجام اچھا ہی ہوا، غصہ روکنے سے نقصان نہ ہوا، اور جب کبھی غصہ کیا اور اس کے تقاضے پر عمل کیا تو بکثرت ایسا ہوا کہ بعد میں ندامت اور شرمندگی ہوئی، اگر آدمی کے اندر ذرا بھی سلامتی طبع ہو تو غصہ کرنے کے بعد قلب میں ظلمت محسوس ہوتی ہے اور کدورت اور ندامت محسوس ہوتی ہے-

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا سے کیا خوبصورت بات ارشاد فرمائی کہ :

*​"ما دخل الرفق فی شئی الا زانه​*

*​و ما نزع من شئی الا شانه"​*

 

یعنی نرمی جس چیز میں بھی داخل ہوجائے، اسے زینت بخشے گی اور جس چیز سے نکل جائے تو اسے عیب دار بنا دے گی-

لہذا نرمی جہاں بھی ہوگی، زینت کا سبب ہوگی، اس لئے جب غصہ کرنے سے بکثرت نقصان ہوتا ہے اور ندامت ہوتی ہے اور غصہ نہ کرنے سے نہ نقصان ہوتا ہے اور نہ ہی ندامت ہوتی ہے، تو پھر آدمی کو وہی کرنا چاہئے جس سے آدمی کو ندامت نہیں ہوتی-

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×
×
  • Create New...