Jump to content
IslamicTeachings.org

موبائل کا فتنہ


Recommended Posts

 

نمازِ باجماعت کی سعادت چھوڑ دی ہم نے 
موبائل کی نَحوست ہے تلاوت چھوڑ دی ہم نے

مساجد میں،مدارس میں،نبی کے شہر میں سیلفی
بِنا سیلفی مریضوں کی عیادت چھوڑ دی ہم نے

بیداری کی دعا سےپہلے پیغامات پڑھتے ہیں
ہوس کی دوڑمیں ہرایک سُنت چھوڑ دی ہم نے

پہلےنعتیں سُنی جاتی تھیں اب دیکھی بھی جاتی ہیں
غمِ تشہیر میں تقویٰ کی دولت چھوڑ دی ہم نے

صحابہ مردِ میداں تھے مگر ہم غازیِ فیس بک
ہماری جاں کو رب لے وہ تجارت چھوڑ دی ہم نے

خدائے پاک اور بندوں میں حائل یہ موبائل ہے
ڈیجیٹل کہہ کےتصویروں سےنفرت چھوڑ دی ہم نے

جوشوقِ خودنمائی کے بھنور میں ڈُوب کر خوش ہیں
وہ سیلفی باز لوگوں کو نصیحت چھوڑ دی ہم نے

نبیِ رحمتُ لِلعالَمیں کے  شہر جانا ہو
فرشتو! محنتِ دعوت کہو مَت چھوڑ دی ہم نے

گناہوں کے تسلسل سے نہ ایماں سلب ہوجائے 
اگر یوں ہی نگاہوں کی حفاظت چھوڑ دی ہم نے 

سکونِ دل کہاں کیسے میسّر ہو ہمیں ہدہد
ندامت والے کاموں پر ندامت 
چھوڑ دی ہم نے۔

ہدہد الہ آبادی 

 

Link to post
Share on other sites
  • 1 year later...

موبائل 

موبائل  کے  فتنے   میں  سب   مُبتلا  ہیں
جو   پہلے  نہیں تھے   وہ  اب  مُبتلا  ہیں

مُبلغ ،      مُدّرِس ،       مُجاہد  ،      مُقرّر
عَجَب  شے  کی لَت میں عَجَب  مبتلا ہیں

مُصور،     مُصنّف،     زمیں دار ،     دہقاں
میراثی    و    عالی  نَسَب     مبتلا    ہیں 

کتابوں کے  شوقین   بھی   زَد   میں  آئے 
جو سمجھاؤ  کہتے ہیں  کب   مبتلا  ہیں

کئی   بِیبِیاں   ہم  سفر    ڈھونڈتی    ہیں
کئی   بِیبِیاں    بے   سبب     مبتلا     ہیں

میسنجرسےنکلےتو واٹس ایپ میں ڈھوبے
یوں ہی خوامخواہ  روز و شب  مبتلا ہیں

مُسلسل    موبائل     اُٹھائے    ہوئے     ہیں
عَجَم    مُبتلا   ہیں      عَرَب   مُبتلا    ہیں 

گنواروں    پہ    تنقید    کرتے    ہو    ہُدہُد
کہ   افسوس    اہلِ    اَدَب    مُبتلا     ہیں

ہدہد الہ آبادی

Link to post
Share on other sites

? موبائل کی عادت

ہاتھوں میں  موبائل ہے  عبادت سے دُور  ہوں
سردارِ  انبیاء   کی   اطاعت   سے   دُور  ہوں

دعوت سے  دُور،  پیرِ طریقت  سے  دُور  ہوں
اغیار   کے  قریب  ہوں  مِلت  سے   دُور  ہوں

تسبیح  ہے  نہ قرآن  ہے  ہاتھوں  میں   آجکل
اذکار  کے   انوار  و  تلاوت   سے    دُور   ہوں

جب  سے  میں حسینوں کا طلب گار ہُوا ہوں
آقائے   نامدار   کی   مِدحت   سے   دُور  ہوں

یہ   میری   بدنصیبی    یا    اثراتِ   معصیت
خدامِ   صحابہ   کی  جماعت  سے  دُور  ہوں

تلوار   کیا   اُٹھاوں   گا   دشمن   کے    مقابل
مسواک جیسی بہتریں  سُنت  سے  دُور  ہوں

غافل  سا  ہوں  میں  کُونُو مَعَ الصّادِقِین  سے
سچوں کی  ہمنشینی و خدمت  سے دُور ہوں

سیلفی بھی معصیت ہے رِیا ہے مگرمیں کیوں
توبہ   سے  دُور  اشکِ  ندامت  سے  دُور  ہوں

صوفی ہوں،نہ داعی ہوں،نہ غازی ہوں میں ہُدہُد
جُھوٹوں کا ہمسفر ہوں صداقت سے دُور  ہوں

✍ہُدہُد الہ آبادی

Link to post
Share on other sites
  • 1 year later...

موبائل نےتلاوت کی حلاوت چھین لی ہم سے
موبائل نےدماغ و دل کی راحت چھین لی ہم سے

موبائل کی نحوست نے ہمیں برباد کر ڈالا 
موبائل نےجماعت کی عبادت چھین لی ہم سے

موبائل نےہمیں فتنوں کے دلدل میں دھکیلا ہے
موبائل نے بزرگوں کی رفاقت چھین لی ہم سے

موبائل نے ہماری خلوتوں کو بدنگاہی دی
موبائل نےمریضوں کی عیادت چھین لی ہم سے

موبائل نے ہمیں جنسِ مخالف کی ہوس دی ہے
موبائل جیسی شے نےفکرِاُمت چھین لی ہم سے

موبائل نے ہمیں اپنوں سے غافل کردیا ہُدہُد
موبائل نے کتابوں کی محبت چھین لی ہم سے

🍁ہدہد

Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
×
×
  • Create New...