Jump to content
IslamicTeachings.org
Bint e Aisha

عصر کی نماز مثل اول میں پڑھنے کا حکم

Recommended Posts

عصر کی نماز مثل اول میں پڑھنے کا حکم

 

کیا مثل اول میں عصر کی نماز پڑھنے سے نماز ادا ہو جائے گی (مجبوری کی حالت میں خاص طور پر پاکستان سے باہر غیرحنفی علاقوں میں؟

 

کیا مثل اول میں عصر کی نماز باجماعت پڑھنا بہتر ہے یا مثل ثانی میں انفرادی طور پر (مکہ کے علاوہ )۔

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

الجواب حامدا ومصلیا

 

حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے راجح قول کے مطابق عصر کا وقت مثل ثانی کے بعد ہے، لہٰذا حتیٰ الامکان مثل ثانی ہونے کے بعد ہی جماعت سے نماز پڑھنی چاہیے ، لیکن اگر کسی علاقے میں فقہ حنفی کے مطابق مسجدوں میں عصر کی نماز باجماعت مثل ثانی کے بعد نہ ہوتی ہو بلکہ مثل اول کے بعد ہوتی ہو توچونکہ مسجد کی جماعت کی بہت فضیلت آئی ہے اس لیے مجبوری کی حالت میں عصر کی نماز مثل اول ہونے کے بعد جماعت کے ساتھ پڑھنا بھی جائز ہے ۔کیونکہ آئمہ ثلاثہ رحمہم اللہ کے ساتھ احناف میں سے حضرات صاحبین رحمہما اللہ کے نزدیک بھی مثل اول میں عصر کی نماز پڑھنا جائز ہے اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی ایک روایت یہ بھی ہے،لہذا ایسی صورت میں مثل ثانی میں اکیلے پڑھنے کی بجائے مثل اول ہی میں باجماعت مسجد میں نماز پڑھ لینی چاہیے۔

 

الدر المختار مع رد المحتار

 

(و وقت الظهر من زواله )۔۔۔۔(الی بلوغ الظل مثليه ) وعنه مثله ،وهو قولهما وزفر والائمة الثلاثاء و في الشاميه تحت ۔۔۔ألخ

 

گوہر احمد کشمیری

 

دار الافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی

 

٢٢/٠٣ / ١٤٣٦ ھ

 

١٤/٠١/٢٠١٥ء

Suffahpkء

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×