Jump to content

  • Log in with Facebook Log in with Twitter Log In with Google      Sign In   
  • Create Account

Welcome to IslamicTeachings.org

Assalaamu 'alaykum Warahmatullaah!,

Welcome to IslamicTeachings.org, your gateway to increasing knowledge from authentic sources of the Ahlus Sunnah wal Jamaa’ah. IslamicTeachings.org aim to provide articles written by Scholars on all aspects of Islam, advices of Mashaikh, stories, inspiring quotes and links to much more.

Please register and become a member. Get benefit and become a means of benefit for the Ummah by sharing and helping to build the resources at IslamicTeachings.org .

You can register your account in two steps by using your existing facebook, google or twitter account. Take advantage of it immediately, Register Now or Sign In.

Jazaakumullaah!
Guest Message by DevFuse
 

Photo

احادیث مشہورہ کی تحقیق


  • You cannot start a new topic
  • Please log in to reply
2 replies to this topic

#1 Bint e Aisha

Bint e Aisha

    ADVANCED MEMBER

  • Moderators
  • 163 posts
  • Religion:Muslim

Posted 27 July 2017 - 06:13 PM

SOURCE: http://hadithqa.blog...ost_19.html?m=0

 

جوان کی توبہ سے عذاب قبر رفع ہونا

 

ایک پوسٹ نیٹ پر گردش کررہی ہے جس میں ایک یہ بات حدیث بتا کر ذکر کی گئی ہے کہ :

 

 

"جوان آدمی جب توبہ کرتا ہے تو اس کی وجہ سے اللہ تعالی مشرق اور مغرب کے درمیان سارے قبر والوں سے عذاب چالیس دن کے لئے ہٹا دیتے ہیں"۔

 

 

 

حقیقت یہ ہے کہ یہ حدیث نہیں ہے اور نہ ہی حدیث کی کسی کتاب میں مذکور ہے، یہ من گھڑت معلوم ہوتی ہے ، اور اس کو "سنن ابن ماجہ" کی طرف منسوب کرنا بھی بالکل غلط اور جھوٹ ہے ۔

 

 

 

اس کے مفہوم میں ایک اور بے اصل حدیث نقل کی جاتی ہے :

 

( ﺇﻥ ﺍﻟﻌﺎﻟﻢَ ﻭﺍﻟﻤُﺘﻌﻠﻢ ﺇﺫﺍ ﻣَﺮّﺍ ﺑﻘﺮﻳﺔ ﻓﺈﻥ ﺍﻟﻠﻪ ﻳﺮﻓﻊُ ﺍﻟﻌﺬﺍﺏَ ﻋﻦ ﻣﻘﺒﺮﺓ ﺗﻠﻚ ﺍﻟﻘﺮﻳﺔ ﺃﺭﺑﻌﻴﻦ ﻳﻮﻣﺎً ‏) .

 

 

قال السیوطي في "تخریج أحادیث شرح العقائد" : لا أصل له (كشف الخفاء 672)

 

وأقره عليه الملا علي القاري في کتابه "فرائد القلائد في تخریج أحادیث شرح العقائد" وكذلك في "المصنوع" ص 65۔

 

 

اس لئے اسے بھی حدیث سمجھنا یا اس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا باعث گناہ ہے ۔

 

اس سے بچنا چاھئے ۔

#2 Bint e Aisha

Bint e Aisha

    ADVANCED MEMBER

  • Moderators
  • 163 posts
  • Religion:Muslim

Posted 27 August 2017 - 01:36 AM

کیا اللہ تعالی نے حضور کے جنازہ کی نماز پڑھی ؟

 
ایک واعظ صاحب نے اپنے وعظ کے دوران یہ روایت بیان کی کہ :
 
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سےصحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا کہ : آپ کے انتقال کے بعد آپ کی نماز جنازہ کون پڑھائے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم لوگ میری تغسیل وتکفین سے فارغ ہوجاؤ ، تو مجھے چار پائی پر لٹاکر مسجد سے باہر نکل جانا ، اس لئے کہ میری نماز جنازہ سب سے پہلے اللہ تعالی پڑھیں گے ، پھر فرشتے ۔۔۔الخ
 
مجھے یہ دریافت کرنا ہے کہ کیا یہ روایت اس طرح سےصحیح ہے کہ اللہ تعالی نے حضور کی نماز پڑھی؟
 
الجواب :
 
یہ روایت تفسیر حدیث اور تاریخ کی کتابوں میں تین صحابہ کرام سے منقول ہے :حضرت جابر بن عبد اللہ ، حضرت ابن عباس ، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہم ۔ لیکن ان روایتوں کی اسانید سب شدید الضعف بلکہ موضوع  ومن گھڑت ہیں ، ان میں سے کوئی بھی روایت قابل اعتبار نہیں ہے ، جس کی تفصیل یہ ہے :
 
۱۔ حضرت جابر بن عبد اللہ وابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت کا حال :
 
اس روایت کی تخریج امام طبرانی نے (المعجم الکبیر ۳/۵۸) میں ، اور ان کے واسطےسے امام ابونعیم نے (حلیہ۴/۷۳)میں ،اور امام ابن الجوزی نے(الموضوعات۱/۲۹۵)میں  کی ہے، جس کی اسانیدکا دار ومدار ( عبدالمنعم بن ادریس بن سنان صنعانی عن ابیہ ) ہے ، اور یہ بڑی طویل روایت ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال تجہیز تکفین نماز جنازہ اور تدفین وغیرہ کےطریقہ کی تفصیل ہے ۔
 
لیکن عبد المنعم بن ادریس پر  ائمہ حدیث نے شدیدجرح کی ہے ، اور اس پر روایات گھڑنے کی تہمت صاف لفظوں میں لگائی ہے ، چند جروحات کا ملاحظہ فرمائیں :
 
احمد بن حنبل نے کہا : (کان یکذب علی وھب) : وھب بن منبہ پر جھوٹ بولتا تھا۔
یحیی بن معین نے کہا : (خبیث کذاب) : ناپاک اور جھوٹاہے۔
ابن المدینی اور ابوداود نے کہا : (لیس بثقہ) : اعتماد کرنے کے لائق نہیں ہے ۔
عقيلی نے کہا : (ذاهب الحديث) : اس کی احادیث ساقط الاعتبار ہیں ۔
ابن حبان نے کہا : (يضع الحديث علی ابیہ وعلى غيره) : اپنے والدپر اور دوسروں پر بھی روایتیں گھڑتاہے ۔
دارقطنی نے کہا : (هو وأبوه متروكان) : عبدالمنعم اور اس کا باپ دونوں کی روایات متروک ہیں  ۔
 
اور یہ روایت جن محدثین نے  ذکر کی ہےتو اس کو موضوع قرار دینے کے ساتھ اس کے گھڑنے کی تہمت بھی عبدالمنعم ہی پر لگائی ہے ، جیسے امام ابن الجوزی ذہبی سیوطی وغیرہم ممن اتی بعدہم نےکہا ہے ۔
 
اسی طرح عبدالمنعم کے والد (ادریس بن سنان ) پر جرح کیا ہے ، دارقطنی نے متروک کہا ، اور ابن حبان نے کہا : ( يتقى حديثہ من روایۃ ابنہ عبد المنعم عنہ ) : اس کی روایتوں میں سے اس کے بیٹے عبدالمنعم کے واسطے سے منقول روایتوں سے خاص طور پر اجتناب کیا جائے۔
 
انظر : الضعفاءوالمتروكين لابن الجوزی ۲/۱۵۴،وميزان الاعتدال ۲/۶۶۸،ولسان المیزان۴/۷۳، الضعفاء للدارقطنی ۲/۱۶۳، المجروحین لابن حبان ۲/۱۵۷ ۔
 
بعض علماء حدیث کے اس روایت کے بارے میں اقوال :
 
قال ابن الجوزی : (هذا حديثٌ موضوع مُحالٌ ، كافأ الله من وضعه، وقبَّحَ مَن يَشِينُ الشريعة بمثل هذا التخليط البارد، والكلام الذي لا يليق برسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ولا بالصحابة، والمتَّهمُ به عبد المنعم بن إدريس) الموضوعات۱/۲۹۵۔
وقال الذھبی : ( هذا الحديث موضوع. وأراه من افتراءات عبد المنعم) العلو للعلی الغفار ص۴۳۔
وقال الالبانی : (موضوعٌ.ليس عليه بهاءُ كلام النبوة والرسالة، بل إن يد الصَّنع والوضع عليه ظاهرة) ۔سلسلۃ الأحاديث الضعيفہ ۱۳/۹۹۸ ۔
 
خلاصہ یہ ہے کہ : یہ روایت بلکل ساقط الاعتبار ہے ، کسی درجہ میں بھی قابل قبول نہیں ہے ، اور اس کے الفاظ سے واضح ہوتاہے کہ یہ روایت بنی بنائی من گھڑت ہے، ایک بات اور قابل تنبیہ ہے کہ : اللہ تعالی کے نماز پڑھنے کی جو بات ہے وہ صرف عبدالمنعم بن ادریس والی روایت میں ہی ہے ، جس کے الفاظ طبرانی کی روایت میں اس طرح ہیں  ) :فَإِذَا أَنْتُمْ وَضَعْتُمُونِي عَلَى السَّرِيرِ فَضَعُونِي فِي الْمَسْجِدِ وَاخْرُجُوا عَنِّي، فَإِنَّ أَوَّلَ مَنْ يُصَلِّي عَلَيَّ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ فَوْقِ عَرْشِهِ، ثُمَّ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، ثُمَّ مِيكَائِيلُ، ثُمَّ إِسْرَافِيلُ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، ثُمَّ الْمَلَائِكَةُ زُمَرًا زُمَرًا )۔
 
۲۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کا حال :
 
اس روایت کا دار ومدار اکثر اسانید وطرقِ حدیث میں : عبد الملک بن عبد الرحمن ابن الاصبہانی پرہے ، ابن الاصبہانی سے لےکر سند آخر تک اس طرح ہے : ( عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا خَلَّادٌ الصَّفَّارُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ طَلِيقٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنْ مُرَّةَ بنِ شَرَاحِيل الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ) ۔ ابن الاصبہانی مجہول راوی ہے ، بلکہ امام فلاس نے اس کو جھوٹا بھی قرار دیا ہے ، جیساکہ ذہبی نے لکھا ہے ۔ اسی طرح اشعث بن طلیق بھی مجہول الحال راوی ہے ۔
 
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت مختلف اسانید سے مذکورہ ذیل کتب حدیث میں وارد ہے : 
المعجم الاوسط ۴/۲۰۸، کتاب الدعاء برقم۱۲۱۹،مسندبزار برقم۲۰۲۸،مسند احمد بن منیع (المطالب العالیہ۱۷/۵۳۸)،تاریخ طبری ۳/۱۹۱ ، مستدرک حاکم۳/۶۰ ، بیہقی کی دلائل النبوہ ۷/۲۳۱، حلیۃ الاولیاء ۴/۱۶۸ ۔ اور ایک منفرد سند سے ابن سعد نے الطبقات الکبری ۲/۲۵۶ میں بطریق واقدی ذکر کی ہے ۔
 
لیکن ابن مسعود کی روایت میں اللہ تعالی کے نماز پڑھنے کے الفاظ نہیں ہیں ، بلکہ متن حدیث اس طرح ہے : ( فَأَوَّلُ مَنْ يُصَلِّي عَلَيَّ خَلِيلِي وَجَلِيسِي جِبْرِيلُ، ثُمَّ مِيكَائِيلُ، ثُمَّ إِسْرَافِيلُ، ثُمَّ مَلَكُ الْمَوْتِ وَجُنُودُهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ بِأَجْمَعِهَا...الخ  ) ۔ اس لئے اس حدیث میں زیر بحث مسئلہ کی دلیل نہیں ہے ۔
 
حاصل یہ ہے کہ :  
یہ حدیث معتبر نہیں ہے ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت بھی نہیں ہے ، اور نہ اس کے الفاظ میں وہ رونق ہے جو الفاظ نبوت میں ہوتا ہے ، غالب گمان یہ ہے کہ بعض مجاہیل ِ رواۃ نے یہ پوری کہانی تیار کی ہے ، پھر ضعفاء رواۃ نے اس کی تشہیر کی ہے ۔ 

اس لئے اس روایت کو بیان کرنے سے احتیاط کرنا چاہئے ، خصوصا وہ الفاظ جس میں اللہ تعالی کے نماز پڑھنے کا ذکر ہے ۔

Source

 


Edited by Bint e Aisha, 27 August 2017 - 01:38 AM.


#3 Bint e Aisha

Bint e Aisha

    ADVANCED MEMBER

  • Moderators
  • 163 posts
  • Religion:Muslim

Posted 27 August 2017 - 01:20 PM

کیا کھانے سے پہلے اور اخیر میں نمکین چیز کھانا سنت ہے؟

 
جواب: کھانے میں نمکین سے ابتدا و اختتام سنت نہیں، جیساکہ بعض کتابوں (شامی،عالمگیری،اور الدر المنتفی وغیرہ میں کھانے کے منجملہ آداب وسنن) میں لکھا ہوا ہے، اسلئے کہ اس بارے میں جتنی احادیث ہیں وہ سب موضوعہ ہیں، لہذااُس کو سنت قرار دینا تسامح (غلطی) ہے۔ (احسن الفتاوی 9/91)
بہرحال یہ سنت تو دور مستحب بھی نہیں ہے، اسلئے کہ کسی بھی حکم کے اثبات کے لئے دلیل کی ضرورت ہوتی ہے خواہ مستحب ہی ہو، اور یہاں کوئی معتبر دلیل نہیں ہے، اور مذکورہ بالا احادیث سے کسی بھی حکم کا ثبوت اصولی اعتبار سے درست نہیں!
لہذا ان دلیلوں سے حجت پکڑنا صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ روایات ایسی شدید ضعیف ہیں جس سے استحباب ثابت کرنا اصول کے خلاف ہے، بلکہ اسی وجہ ( روات کے مجہول و وضّاع ہونے کی وجہ ‍) سے کئی لوگوں نے اس سلسلے کی احادیث کو موضوع قرار دیا ہے۔
رہی بات بعض اکابرین کی، کہ انہوں نے اپنی کتب وغیرہ میں اِسے سنت یا مستحب لکھا ہے؟ تو اسکا جواب یہ ہے کہ:
اکابر کی تحقیق سر آنکھوں پر، لیکن در حقیقت یہاں تحقیق نہیں ہے، بلکہ ’’عالمگیری‘‘ کے جزئیہ "البدء بالملح والختم بالملح" کی توضیح ہے، حالانکہ دوسرے محقق اکابر نے اس بات کو رد کیا ہے، چنانچہ ملا علی قاری سے لے کر صاحبِ ’’احسن الفتاوی‘‘ تک کتب اٹھا کر دیکھ لیں، ہر ایک میں اسکی نفی ہے۔
دوسری بات: استحباب بھی ایک حکم ہے جس کے ثبوت کے لئے بھی کم از کم ایسی دلیل ہو جس پر زیادہ رد و قدح نہ کیا گیا ہو، اور اس مسئلہ میں ایسی کوئی دلیل نہیں ہے، جو صحیح اور صریح ہو، یا رد و قدح سے خالی ہو! لہذا اسے سنت یا مستحب کہنا محلِّ نظر ہے.
 
نوٹ: اس سلسلے میں ایک روایت یہ پیش کی جاتی ہے کہ اس میں (نمکین سے ابتداء کرنے میں) ستر بیماریوں سے شفاء ہے؟ جیساکہ شامی میں ہے "ومن السنة البداءة بالملح والختم به، بل فیه شفاء من سبعین داء، ولعق القصعة وكذا الأصابع قبل مسحها بالمندیل . وتمامه فی الدر المنتقى والبزازیة وغیرهم"
جواب: یہ روایت سنداً شدید ضعیف ہے، چنانچہ اس روایت کو ابن الجوزیؒ اور ملا علی قاریؒ نے اپنی موضوعات میں موضوع شمار کیا ہے، (ملخصا محمود الفتاوی5/636) ۔
 
فائدہ: ایسے ہی بعض لوگ کہتے ہیں کہ کھانے کے بعد میٹھی چیز کھانا سنت ہے!
تو اس کا جواب یہ ہے کہ: کھانے کے بعد میٹھے کا حدیث سے کوئی ثبوت نہیں، البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میٹھا پسند تھا اس لئے اس نیت سے کھائے تو موجبِ اجر ہے، (البتہ کھانے کے بعد کی قید کے ساتھ سنت سمجھنا درست نہیں) (المسائل المہمہ 4/229 ۔ امداد الفتاوی 4/111) ۔
 
خلاصہ یہ ہے کہ :حدیث سے میٹھے یا نمکین کو ثابت سمجھنا درست نہیں، طبی لحاظ سے مفید سمجھے تو عمل کر سکتے ہیں،چنانچہ ’’فتاوی محمودیہ‘‘ میں مفتی صاحب نے کہا ہے کہ: نمک یا میٹھے سے ابتداء کرنے سے مراد یہ ہے کہ ہر آدمی اپنی محبوب اور پسندیدہ چیز سے کھانے کی ابتداء کرے، تاکہ کھانا رغبت اور اشتھاء کے ساتھ کھاسکے ۔
اور یہی بات زیادہ مناسب اور احوط ہے، جیساکہ فقہی سمینار ۲۴ صفر ۱۴۳۷ھ /مطابق ۷ دسمبر ۲۰۱۵بروز دو شنبہ کی مجلس میں یہی فیصلہ کیا گیا ۔
 
     واللہ اعلم بالصواب                      

مفتی معمور بدر صاحب 

      مظاہری قاسمی اعظم پوری               

 

 

Source


Edited by Bint e Aisha, 27 August 2017 - 01:25 PM.